سی پیک کے چینی پاور منصوبوں کے 498 ارب روپے واجب الادا، ادائیگیاں تاخیر کا شکار
- بجلی کمپنیوں نے متعدد مرتبہ باضابطہ خطوط کے ذریعے ادائیگیوں کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بعض مواقع پر معاملہ وزیراعظم آفس تک بھی پہنچ چکا ہے
چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت قائم بجلی گھروں کے تقریباً 498 ارب روپے کے واجبات سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی گارنٹی (سی پی پی اے-جی) کے ذمے واجب الادا ہیں، تاہم مالی مشکلات کے باعث ادارہ ادائیگیاں کرنے سے قاصر ہے۔ باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ بجلی کمپنیوں نے متعدد مرتبہ باضابطہ خطوط کے ذریعے ادائیگیوں کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ بعض مواقع پر معاملہ وزیراعظم آفس تک بھی پہنچ چکا ہے۔
پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی (پی کیو ای پی سی) کے چیف ایگزیکٹو وانگ ڈونگ فینگ نے حال ہی میں وزرائے خزانہ، منصوبہ بندی اور توانائی سے مداخلت کی درخواست کرتے ہوئے واجبات کی ادائیگی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
کمپنی سی پیک کے تحت 1,320 میگاواٹ کا کوئلے سے چلنے والا بجلی گھر چلاتی ہے۔ کمپنی کے 29 ستمبر 2026 کے خط کے مطابق اس کے واجبات 79 ارب روپے، یعنی 28 کروڑ 54 لاکھ ڈالر تک پہنچ چکے تھے، جبکہ ادائیگیاں چھ ماہ سے زائد عرصے سے تاخیر کا شکار ہیں۔
کمپنی نے خبردار کیا ہے کہ ادائیگیوں میں مزید تاخیر سے بجلی کی پیداوار متاثر ہونے اور قرضوں کے معاہدوں سمیت حکومتی خودمختار ضمانت کے تحت ڈیفالٹ کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ کمپنی کے چینی اور قطری حصص داروں نے بھی تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پی کیو ای پی سی نے حکومت سے سی پی پی اے-جی کو مالی معاونت فراہم کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ واجبات جلد ادا کیے جاسکیں۔ کمپنی کے مطابق اس کے بجلی خریداری ٹیرف کی توانائی قیمت تیل اور ری گیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) سے چلنے والے بجلی گھروں کے مقابلے میں کم ہے۔
دوسری جانب ساہیوال کے 1,320 میگاواٹ کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر کے واجبات بھی تقریباً 80 ارب روپے ہوگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق چینی کمپنی چائنا ہوا نینگ نے طویل عرصے سے زیر التوا صلاحیتی ادائیگیوں میں کٹوتیوں کے تنازع پر وزیراعظم آفس سے مداخلت کی درخواست کی ہے۔
کمپنی نے پاکستانی حکام پر الزام لگایا ہے کہ واجبات کی ادائیگی کے لیے اس پر مبینہ طور پر لین دین کے انتظام پر آمادہ ہونے کا دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق سی پی پی اے-جی کے ساتھ یہ تنازع تقریباً چار سال سے حل طلب ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments