دریائے سوات کے پن بجلی منصوبے، خیبرپختونخوا نے تنازع کے حل کیلئے مشترکہ مفاد کونسل سے رجوع کرلیا
- صوبائی محکمہ بین الصوبائی رابطہ نے مجوزہ سمری پر پاور ڈویژن اور پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے چیف سیکریٹریز سے متعلقہ قواعد کے تحت دو ہفتوں میں رائے طلب کی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے دریائے سوات کے چار پن بجلی منصوبوں کو قومی بجلی پیداوار کے توسیعی منصوبے سے خارج کرنے پر وفاقی حکومت کے ساتھ آئینی تنازع حل کرنے کے لیے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) سے رجوع کرلیا ہے۔ صوبائی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان منصوبوں کو خارج کرنے کا فیصلہ صوبائی خودمختاری کی خلاف ورزی اور کونسل کے پہلے سے منظور شدہ طریقہ کار کے منافی ہے۔
29 ستمبر 2026 کو لکھے گئے خط میں صوبائی حکومت نے سی سی آئی سے مطالبہ کیا کہ ان منصوبوں کو انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (آئی جی سی ای پی) 2025-35 میں بحال کیا جائے، جبکہ 2021 میں منظور کیے گئے معیار اور مفروضوں پر بھی نظرثانی کی جائے۔
صوبائی محکمہ بین الصوبائی رابطہ نے مجوزہ سمری پر پاور ڈویژن اور پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے چیف سیکریٹریز سے متعلقہ قواعد کے تحت دو ہفتوں میں رائے طلب کی ہے۔
صوبائی محکمہ توانائی و بجلی کی جانب سے تیار کردہ سمری کے مطابق چار منصوبوں میں 207 میگاواٹ کا مادیان پن بجلی منصوبہ، 94.96 میگاواٹ کا گبرال کالام منصوبہ، 238.2 میگاواٹ کا کالام اسریت منصوبہ اور 229.4 میگاواٹ کا اسریت کیدم منصوبہ شامل ہیں۔ ان منصوبوں کی مجموعی پیداواری صلاحیت تقریباً 769.56 میگاواٹ بنتی ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کے مطابق سی سی آئی کے 6 نومبر 2021 کو ہونے والے 48ویں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ مارچ 2021 تک منظور شدہ پی سی ون اور مالی انتظامات رکھنے والے صوبائی سرکاری منصوبوں کو قومی بجلی منصوبہ بندی میں جاری منصوبے تصور کیا جائے گا۔ اسی فیصلے کے تحت مذکورہ منصوبے آئی جی سی ای پی 2021-31 میں شامل کیے گئے تھے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں کی بنیاد پر منصوبوں کی ترقی، مالی معاونت اور بجلی کی ترسیل کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے پر کام آگے بڑھایا گیا، تاہم نئے منصوبے میں انہیں صوبے سے مشاورت کے بغیر خارج کردیا گیا۔
سمری میں قومی بجلی پالیسی 2021 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قومی بجلی پیداوار کے منصوبے کے معیار اور مفروضوں کے تعین میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مشاورت ضروری ہے۔
صوبائی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 157(3) کے تحت تنازع حل کرنے اور سی سی آئی سے 2021 میں منظور شدہ معیار کی توثیق کے ساتھ چاروں منصوبوں کو موجودہ اور آئندہ قومی بجلی منصوبوں میں بحال کرنے کی ہدایت جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments