BR100 Increased By (0.28%)
BR30 Increased By (0.63%)
KSE100 Increased By (0.21%)
KSE30 Increased By (0.2%)
BAFL 56.80 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
BIPL 24.72 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 29.74 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
CNERGY 12.90 Decreased By ▼ -0.03 (-0.23%)
DFML 17.02 Increased By ▲ 0.11 (0.65%)
DGKC 188.00 Increased By ▲ 1.03 (0.55%)
FABL 93.82 Increased By ▲ 0.29 (0.31%)
FCCL 52.00 Increased By ▲ 0.15 (0.29%)
FFL 14.10 Increased By ▲ 0.11 (0.79%)
GGL 19.65 Increased By ▲ 0.39 (2.02%)
HBL 302.00 Decreased By ▼ -0.83 (-0.27%)
HUBC 202.46 Increased By ▲ 1.13 (0.56%)
HUMNL 9.46 Increased By ▲ 0.19 (2.05%)
KEL 6.05 Increased By ▲ 0.46 (8.23%)
LOTCHEM 25.69 Decreased By ▼ -0.03 (-0.12%)
MLCF 91.40 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
OGDC 317.25 Increased By ▲ 0.20 (0.06%)
PAEL 34.47 Increased By ▲ 0.49 (1.44%)
PIBTL 13.65 Increased By ▲ 0.08 (0.59%)
PIOC 236.25 Decreased By ▼ -0.39 (-0.16%)
PPL 222.00 Increased By ▲ 0.88 (0.4%)
PRL 95.27 Increased By ▲ 0.89 (0.94%)
SNGP 90.70 Increased By ▲ 0.01 (0.01%)
SSGC 23.45 Increased By ▲ 0.38 (1.65%)
TELE 7.28 Increased By ▲ 0.04 (0.55%)
TPLP 12.15 Increased By ▲ 0.41 (3.49%)
TRG 55.55 Increased By ▲ 0.21 (0.38%)
UNITY 7.82 Increased By ▲ 0.07 (0.9%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
اداریہ

بھارتی دعوے پر سوالیہ نشان، مردہ شخص زندہ نکل آیا

  • بھارتی خفیہ سرگرمیوں سے متعلق پاکستان کے الزامات آج ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ بین الاقوامی توجہ کے مستحق ہیں
شائع اپ ڈیٹ

مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کے پیچھے پاکستانی ہاتھ ثابت کرنے کی بھارت کی تازہ کوشش کو ایک خاصی زحمت طلب مشکل کا سامنا ہے، بھارتی حکام نے مبینہ طور پر 29 ستمبر کے اپنے آپریشن میں جس پاکستانی شخص کو ہلاک ہونے والا دہشت گرد قرار دیا تھا، وہ زندہ ہے۔ بھارتی حکام نے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت محمد آصف، عرف ہاشم موسیٰ کے نام سے کی تھی، جسے مبینہ طور پر لشکر طیبہ کا کمانڈر اور پاکستان کی ایلیٹ اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کا سابق رکن قرار دیا گیا۔ پاکستان نے اس کے جواب میں ایس ایس جی کے ریٹائرڈ حوالدار محمد آصف کو صحافیوں کے سامنے پیش کردیا۔ ایک ایسے الزام کی بنیاد جس میں مبینہ طور پر ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت اور فوجی پس منظر کو مرکزی حیثیت حاصل ہو، وہاں اس شخص کا ایک پریس کانفرنس میں بالکل زندہ بیٹھا ہونا ایک انتہائی مؤثر تردید بن جاتا ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے بھارت پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ جب بھی کشمیر یا کسی دوسرے مقام پر تشدد اسلام آباد کو موردِ الزام ٹھہرانے کا موقع فراہم کرتا ہے تو نئی دہلی اسی طرزِ عمل کا سہارا لیتا ہے۔ بھارت معمول کے مطابق ان الزامات کو مسترد کرتا ہے، اور کشمیر میں بعض واقعات کو پاکستان کی جانب سے فالس فلیگ کارروائیاں قرار دینا بھی اس وقت تک ایک الزام ہی رہتا ہے جب تک اس کے حق میں شواہد پیش نہ کیے جائیں۔ تاہم، یہ واقعہ بھارت کے لیے ایسے سوالات ضرور اٹھاتا ہے جن کا اسے جواب دینا ہوگا۔ آخر ہلاک ہونے والا شخص کون تھا؟ اس کی شناخت کیسے کی گئی؟ ایک ریٹائرڈ پاکستانی فوجی کی شناخت، جس میں اس کی فوجی خدمات کی تفصیلات بھی شامل تھیں، ہلاک ہونے والے شخص کے ساتھ کیسے منسلک ہوگئی؟ آصف کو زندہ پیش کرنا بذاتِ خود پاکستان کی جانب سے آپریشن سے متعلق کیے گئے ہر دعوے کو ثابت نہیں کرتا، لیکن اس سے اس مؤقف کا ایک مرکزی عنصر ضرور منہدم ہوجاتا ہے جو آپریشن کے بعد گردش میں لایا گیا تھا۔

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ایسے الزامات کے نتائج محض پروپیگنڈے تک محدود نہیں رہتے۔ گزشتہ سال پہلگام حملے کے بعد بھارت اور پاکستان ایک کہیں زیادہ وسیع تنازع کے خطرناک حد تک قریب پہنچ گئے تھے۔ دو جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستوں کے درمیان تعلقات میں دہشت گرد حملوں کو پاکستانی فوج سے جوڑنے والے دعوے معلوماتی منظرنامے میں لاپروائی سے نہیں اچھالے جاسکتے اور بعد میں، اگر کبھی، ان کی تصحیح کی جائے۔ ثبوت کو الزام سے پہلے آنا چاہیے، خصوصاً اس وقت جب ایسا الزام فوجی کارروائی کا جواز بن سکتا ہو۔

اس کے علاوہ ایک بڑی وجہ بھی موجود ہے کہ بھارتی خفیہ سرگرمیوں سے متعلق پاکستان کے الزامات آج ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ بین الاقوامی توجہ کے مستحق ہیں۔ برصغیر سے بہت دور ہونے والی تحقیقات نے بھارتی ریاستی اہلکاروں سے مبینہ طور پر منسلک انتہائی تشویشناک سرگرمیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ امریکا میں بھارتی شہری نکھل گپتا نے رواں سال کے آغاز میں نیویارک میں ایک امریکی شہری اور سکھ علیحدگی پسند کارکن کو قتل کرنے کی سازش میں شرکت کا اعترافِ جرم کیا۔ امریکی استغاثہ کے مطابق گپتا نے وکاش یادو کی ہدایت پر کارروائی کی، جو بھارتی حکومت کا ایک ملازم تھا اور جس پر امریکی حکام نے قتل کی سازش کی ہدایت دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ یادو کو گرفتار نہیں کیا گیا اور ان کے خلاف الزامات پر ابھی عدالتی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

کینیڈا نے بھی علیحدہ طور پر بھارتی حکومت کے ایجنٹوں پر کینیڈا کی سرزمین پر پرتشدد مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ الزام سکھ کارکن ہردیپ سنگھ نجر کے 2023 میں ہونے والے قتل کی تحقیقات کے پس منظر میں سامنے آیا۔ بھارت نے کینیڈا کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔ تاہم، جب بیرونِ ملک کارروائیوں کے حوالے سے سنگین الزامات ایسے ممالک کی جانب سے سامنے آتے ہیں جنہیں پاکستان کے بیانیے کو آگے بڑھانے میں کوئی قابلِ تصور مفاد حاصل نہیں، تو نئی دہلی کو اپنی ساکھ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے مسئلے کا سامنا ہوتا ہے۔ پاکستان کئی برسوں سے جس بات کو بھارت کی جانب سے اپنی سلامتی کے مقاصد کے حصول کے لیے اپنی سرحدوں سے باہر خفیہ طور پر کارروائیاں کرنے کی آمادگی قرار دیتا رہا ہے، اسے اب محض اس لیے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ الزام پاکستان کی جانب سے عائد کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے تازہ واقعے سے مؤثر انداز میں نمٹا۔ محض الزامات کے تبادلے کے بجائے اس نے اس شخص کو پیش کردیا جس کی شناخت بھارت نے مبینہ طور پر کی تھی اور تضاد کو خود اپنا مؤقف بیان کرنے کا موقع دیا۔ سنگین نوعیت کے پروپیگنڈے کو چیلنج کرنے کا یہی درست طریقہ ہے: ایسے شواہد پیش کیے جائیں جن کا جائزہ لیا جاسکے، نہ کہ اس سے زیادہ بلند آواز میں ایک اور دعویٰ کردیا جائے۔

بھارت اب بھی یہ ثابت کرسکتا ہے کہ کشمیر میں آخر ہلاک ہونے والا شخص کون تھا اور اس شخص کی شناخت اور وابستگیوں کے بارے میں جو بھی شواہد اس کے پاس ہیں، وہ پیش کرسکتا ہے۔ اس وقت تک اس واقعے سے اٹھنے والے سوالات خاصے اہم ہیں۔ نئی دہلی نے برسوں سے دہشت گردی کا معاملہ سامنے آتے ہی پاکستان کی جانب اشارہ کیا ہے۔ تاہم، اب صورتِ حال میں تیزی سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ توجہ دوسری سمت بھی منتقل ہورہی ہے۔

اور اس بار مسئلہ یہ ہے کہ جو شخص مردہ قرار دیا گیا تھا، وہ زندہ نکل آیا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف