BR100 Increased By (1.91%)
BR30 Increased By (2.79%)
KSE100 Increased By (1.56%)
KSE30 Increased By (1.67%)
BAFL 56.76 Increased By ▲ 0.71 (1.27%)
BIPL 24.71 Increased By ▲ 0.21 (0.86%)
BOP 29.72 Increased By ▲ 0.83 (2.87%)
CNERGY 12.93 Increased By ▲ 0.72 (5.9%)
DFML 16.91 Increased By ▲ 0.20 (1.2%)
DGKC 186.97 Increased By ▲ 3.97 (2.17%)
FABL 93.53 Increased By ▲ 1.19 (1.29%)
FCCL 51.85 Increased By ▲ 1.85 (3.7%)
FFL 13.99 Increased By ▲ 0.17 (1.23%)
GGL 19.26 Increased By ▲ 0.59 (3.16%)
HBL 302.83 Increased By ▲ 7.62 (2.58%)
HUBC 201.33 Increased By ▲ 5.76 (2.95%)
HUMNL 9.27 Decreased By ▼ -0.02 (-0.22%)
KEL 5.59 Decreased By ▼ -0.03 (-0.53%)
LOTCHEM 25.72 Increased By ▲ 0.42 (1.66%)
MLCF 91.29 Increased By ▲ 3.05 (3.46%)
OGDC 317.05 Increased By ▲ 6.71 (2.16%)
PAEL 33.98 Increased By ▲ 0.97 (2.94%)
PIBTL 13.57 Increased By ▲ 0.38 (2.88%)
PIOC 236.64 Increased By ▲ 5.63 (2.44%)
PPL 221.12 Increased By ▲ 4.64 (2.14%)
PRL 94.38 Increased By ▲ 6.96 (7.96%)
SNGP 90.69 Increased By ▲ 2.62 (2.97%)
SSGC 23.07 Increased By ▲ 0.59 (2.62%)
TELE 7.24 Increased By ▲ 0.27 (3.87%)
TPLP 11.74 Increased By ▲ 0.14 (1.21%)
TRG 55.34 Increased By ▲ 3.89 (7.56%)
UNITY 7.75 Increased By ▲ 0.01 (0.13%)
WTL 1.00 Increased By ▲ 0.01 (1.01%)
کاروبار اور معیشت

پاکستان کو یو این ڈی پی کے تعاون سے 35 منصوبوں کے لیے 26 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار

  • پاکستان کا 2030 تک غربت کے خاتمے، کرۂ ارض کے تحفظ اور تمام افراد کے لیے امن و صحت یقینی بنانے کا ہدف
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان نے منگل کے روز اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے تعاون سے تیار کیے گئے 35 منصوبوں میں 26 ارب ڈالر مالیت کی عالمی سرمایہ کاری طلب کرلی ہے، جس کا مقصد 2030 تک غربت کا خاتمہ، کرۂ ارض کا تحفظ اور تمام افراد کے لیے امن و صحت یقینی بنانا ہے۔

یو این ڈی پی پاکستان کی ڈپٹی ریزیڈنٹ نمائندہ وان نگوین نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر یو این ڈی پی کے ایس ڈی جیز پلس پروگرام کے تحت 9 شعبوں میں 35 منصوبوں کی تیاری میں معاونت کی گئی ہے، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 26 ارب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کی گنجائش ہے۔

وہ ’نیشنل ایس ڈی جیز انویسٹمنٹ فیئر — پاکستان کے پائیدار مستقبل میں سرمایہ کاری‘ کے عنوان سے منعقدہ 2 روزہ کانفرنس اور نمائش کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہی تھیں۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے میلے میں اپنے اپنے اسٹالز قائم کیے، جہاں زراعت، خوراک، توانائی، ٹرانسپورٹ، پانی، کچرے کے انتظام، سیاحت اور سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے سمیت مختلف شعبوں سے متعلق اپنے منصوبوں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔

اقوام متحدہ نے 2015 میں پائیدار ترقی کے 17 عالمی اہداف (ایس ڈی جیز) مقرر کیے تھے، جن کا مقصد 2030 تک غربت کا خاتمہ، کرۂ ارض کا تحفظ اور تمام افراد کے لیے امن و صحت یقینی بنانا ہے۔

وان نگوین نے کہا کہ پاکستان میں ایس ڈی جیز کے لیے مالی معاونت کے خلا، یعنی درکار مالی وسائل اور اس وقت دستیاب رقم کے درمیان فرق، کا تخمینہ معیشت کی سالانہ پیداوار کے تقریباً 16 فیصد کے برابر لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب سرکاری مالی وسائل محدود ہیں اور ترقیاتی معاونت بھی بتدریج کم ہورہی ہے، صرف سرکاری سرمایہ اس خلا کو پُر نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا، ’’پاکستانی حکومت کو صرف سرمایہ کاروں کو یہ نہیں بتانا چاہیے کہ اسے کتنی سرمایہ کاری درکار ہے، بلکہ اسے سرمایہ کاروں کو یہ بھی دکھانا چاہیے کہ پاکستان انہیں کیا پیش کرسکتا ہے، مثلاً سرمایہ کاری پر منافع۔ اسی طرح سرمایہ کاروں کو بھی صرف یہ نہیں بتانا چاہیے کہ انہیں پاکستان میں کون سے خطرات نظر آتے ہیں، بلکہ انہیں یہ واضح کرنے میں مدد دینی چاہیے کہ ان خطرات کو کس طرح قابلِ انتظام بنایا جاسکتا ہے۔‘‘

ان کے مطابق یہی وہ مقام ہے جہاں یو این ڈی پی مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے، کیونکہ وہ مختلف نقطہ ہائے نظر کو یکجا کرنے اور ترقیاتی ترجیحات کو ایسے مواقع میں تبدیل کرنے میں مدد دے سکتا ہے جن کا سرمایہ کار مناسب طور پر جائزہ لے سکیں۔

دریں اثنا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ورچوئل خطاب میں کہا کہ گزشتہ 3 برس کے دوران ملک کی معیشت مستحکم ہوئی ہے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے درکار ’’بنیادی مالیاتی نظم و ضبط‘‘ حاصل کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر چند ہفتے قبل تاریخ کی بلند ترین سطح 21.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئے تھے، جو 3 ماہ کی درآمدی ضروریات پوری کرنے کے بین الاقوامی معیار پر پورا اترتے ہیں، جبکہ تقریباً 3 برس قبل یہ ذخائر صرف 2 ہفتے کی درآمدات کے لیے کافی تھے۔

انہوں نے کہا، ’’لہٰذا ان منصوبوں کو اس اعتماد کے ساتھ پیش کریں کہ ہمارے پاس وہ بنیادی مالیاتی استحکام موجود ہے جسے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جارہا ہے۔‘‘

وزیر خزانہ نے یاد دلایا کہ نیویارک کلائمیٹ ویک کے دوران کوپ 31 میں پاکستان ان پہلے 6 ممالک میں شامل تھا جنہوں نے کلائمیٹ امپلی مینٹیشن برج (برج) پر دستخط کیے تھے، جس کا مقصد موسمیاتی حوالے سے اپنے وعدوں کو ایسے منصوبوں میں تبدیل کرنا ہے جن کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ توجہ برج کو ’’منصوبہ بندی کے مرحلے سے عمل درآمد اور مؤثر عملی فعالیت‘‘ کی جانب لے جانے پر مرکوز ہے۔

محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ پاکستان کو ایسے منصوبوں کی تیاری اور عمل درآمد کی صلاحیت بہتر بنانے کی ضرورت ہے جو سرمایہ کاری کے قابل اور بینکوں سے مالی معاونت حاصل کرنے کے اہل ہوں، جبکہ انہیں ’’آگے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی معیار کے مطابق‘‘ ترتیب دینے، رپورٹ کرنے اور ان کی نگرانی کی صلاحیت بھی پیدا کرنا ہوگی، خصوصاً برج کے دائرہ کار میں۔

وزیر خزانہ نے کہا، ’’پاکستان کو یقیناً برج کے حوالے سے استعداد کار بڑھانے میں مدد درکار ہے۔ دیگر ممالک جنہوں نے ہم سے بہتر کارکردگی دکھائی ہے، ہم برج کے تناظر میں ان کی مدد اور تعاون ضرور حاصل کرنا چاہیں گے، کیونکہ برج اب ’کیا اور کیوں‘ سے ’کیسے اور کون‘ کے مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ میرے خیال میں یہی وہ مقصد ہے جس کے لیے یہ ورکشاپ منعقد کی گئی ہے۔‘‘

Comments

200 حروف