BR100 Increased By (1.91%)
BR30 Increased By (2.79%)
KSE100 Increased By (1.56%)
KSE30 Increased By (1.67%)
BAFL 56.76 Increased By ▲ 0.71 (1.27%)
BIPL 24.71 Increased By ▲ 0.21 (0.86%)
BOP 29.72 Increased By ▲ 0.83 (2.87%)
CNERGY 12.93 Increased By ▲ 0.72 (5.9%)
DFML 16.91 Increased By ▲ 0.20 (1.2%)
DGKC 186.97 Increased By ▲ 3.97 (2.17%)
FABL 93.53 Increased By ▲ 1.19 (1.29%)
FCCL 51.85 Increased By ▲ 1.85 (3.7%)
FFL 13.99 Increased By ▲ 0.17 (1.23%)
GGL 19.26 Increased By ▲ 0.59 (3.16%)
HBL 302.83 Increased By ▲ 7.62 (2.58%)
HUBC 201.33 Increased By ▲ 5.76 (2.95%)
HUMNL 9.27 Decreased By ▼ -0.02 (-0.22%)
KEL 5.59 Decreased By ▼ -0.03 (-0.53%)
LOTCHEM 25.72 Increased By ▲ 0.42 (1.66%)
MLCF 91.29 Increased By ▲ 3.05 (3.46%)
OGDC 317.05 Increased By ▲ 6.71 (2.16%)
PAEL 33.98 Increased By ▲ 0.97 (2.94%)
PIBTL 13.57 Increased By ▲ 0.38 (2.88%)
PIOC 236.64 Increased By ▲ 5.63 (2.44%)
PPL 221.12 Increased By ▲ 4.64 (2.14%)
PRL 94.38 Increased By ▲ 6.96 (7.96%)
SNGP 90.69 Increased By ▲ 2.62 (2.97%)
SSGC 23.07 Increased By ▲ 0.59 (2.62%)
TELE 7.24 Increased By ▲ 0.27 (3.87%)
TPLP 11.74 Increased By ▲ 0.14 (1.21%)
TRG 55.34 Increased By ▲ 3.89 (7.56%)
UNITY 7.75 Increased By ▲ 0.01 (0.13%)
WTL 1.00 Increased By ▲ 0.01 (1.01%)
کھیل

سعودی شہزادی ریما خواتین کے اسپورٹس نیٹ ورک اے ڈبلیو ایس این کی مشیر مقرر

  • شہزادی ریما اے ڈبلیو ایس این کے مشاورتی بورڈ میں شامل، خواتین کے کھیلوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور کھیلوں کو تبدیلی کا ذریعہ بنانے کے عزم کا اظہار
شائع اپ ڈیٹ

امریکا میں سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بندر آل سعود خواتین کے کھیلوں کے میڈیا پلیٹ فارم آل ویمنز اسپورٹس نیٹ ورک (اے ڈبلیو ایس این) میں مشیر کی حیثیت سے شامل ہوگئی ہیں، جبکہ میڈیا کمپنی مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کے دیگر خطوں میں خواتین کے کھیلوں کی کوریج بڑھانے کی کوششیں کر رہی ہے۔

اداکارہ ووپی گولڈ برگ کی مشترکہ بنیاد رکھنے والے اسپورٹس میڈیا پلیٹ فارم اے ڈبلیو ایس این نے کہا کہ شہزادی ریما کی تقرری سے خواتین کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر مزید نمایاں کرنے کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

اے ڈبلیو ایس این کے چیف ایگزیکٹو جارج چنگ نے کہا کہ کھیلوں میں خواتین اور لڑکیوں کے لیے شہزادی ریما کی حمایت کے باعث یہ شراکت داری فطری انتخاب ہے۔

چنگ نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’وہ سمجھتی ہیں کہ کھیل تبدیلی کا محرک ہوتے ہیں۔ ہم خود کو محض دنیا بھر کے کھیلوں کو زیادہ نمایاں کرنے والا پلیٹ فارم نہیں بلکہ انہیں خواتین کے لیے قابلِ رسائی بنانے والا عالمی پلیٹ فارم سمجھتے ہیں۔‘‘

چنگ نے بتایا کہ اے ڈبلیو ایس این 2027 کی پہلی سہ ماہی میں مشرقِ وسطیٰ میں اپنا پہلا اسپورٹس فیسٹیول منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ان تقریبات میں کھیلوں کے مقابلے، تربیتی کیمپ، تفریح اور خریداری کے تجربات شامل ہوں گے، جن کا مقصد مقامی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی کھلاڑیوں تک رسائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نیٹ ورک کے لیے پروگرام تیار کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی اگلے سال دنیا بھر میں کم از کم چار اسپورٹس فیسٹیول منعقد کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے، جن میں سعودی عرب، امریکا اور برطانیہ میں ہونے والی تقریبات بھی شامل ہیں۔

شہزادی ریما کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب اپنے وسیع تر معاشی اور سماجی اصلاحاتی ایجنڈے ’ویژن 2030‘ کے تحت خواتین کے کھیلوں میں مسلسل سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ سعودی ویمنز پریمیئر لیگ کا آغاز 2022 میں ہوا تھا، جس کا مقصد ملک میں خواتین کی فٹ بال کے لیے زیادہ پیشہ ورانہ ڈھانچہ تشکیل دینا ہے۔ اے ڈبلیو ایس این نے گزشتہ سال لیگ کے میچز نشر کرنا شروع کیے تھے۔

سعودی عرب کی کھیلوں میں سرمایہ کاری کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر حلقوں کی جانب سے تنقید کا بھی سامنا ہے، جو کہتے ہیں کہ ملک اپنی بین الاقوامی ساکھ بہتر بنانے کے لیے کھیلوں کی ہائی پروفائل تقریبات کا استعمال کر رہا ہے۔

چنگ نے کہا کہ اے ڈبلیو ایس این کو خطے میں اپنے پروگراموں کے حوالے سے کسی قسم کی پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے خواتین کی ٹیموں، کھیلوں کی سہولیات اور نشریات میں سرمایہ کاری کو خواتین کھلاڑیوں کے لیے بڑھتی ہوئی حمایت کا ثبوت قرار دیا۔

چنگ کے مطابق سعودی خواتین کی فٹ بال کی اے ڈبلیو ایس این پر ناظرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، ہر میچ کی ناظرین کی تعداد میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیزن کے دوران اوسط دیکھنے کے دورانیے میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کے تماثا پلیٹ فارم پر اے ڈبلیو ایس این نے ابتدائی 10 روز میں 15 لاکھ ناظرین حاصل کیے، جو ان کے بقول روایتی مغربی منڈیوں سے باہر خواتین کے کھیلوں میں موجود طلب کو ظاہر کرتا ہے۔

Comments

200 حروف