پنجاب میں 3 ہزار پٹواریوں کے تبادلے خوش آئند اقدام
- پٹواری نسبتاً جونیئر عہدوں پر فائز ہوتے ہیں، تاہم ان کا اختیار انہیں شہریوں اور جائیداد کے حوالے سے خاصا اثر و رسوخ فراہم کرتا ہے
ایک ہی دن میں پنجاب بھر میں 3,000 سے زائد پٹواریوں کے تبادلے اس نوعیت کی انتظامی مداخلت ہے جسے سراہا جانا چاہیے، خصوصاً حکومت کے اس شعبے میں جہاں واقفیت بعض اوقات کارکردگی کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر سکتی ہے۔
پٹواری نسبتاً جونیئر عہدوں پر فائز ہوتے ہیں، تاہم اراضی ریکارڈ، انتقالات، ملکیت کی دستاویزات اور دیگر محصولات سے متعلق معاملات پر ان کا اختیار انہیں شہریوں اور جائیداد کے حوالے سے خاصا اثر و رسوخ فراہم کرتا ہے۔
لہٰذا پنجاب حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر کی جانے والی یہ تبدیلیاں نظام کی ایک واضح کمزوری کو نشانہ بناتی ہیں: ایسے افسران کا ایک ہی مقام پر اتنا طویل عرصہ تعینات رہنا کہ وہ اثر و رسوخ کے ایسے نیٹ ورک قائم کرلیں جنہیں بعد ازاں ختم کرنا انتہائی مشکل ہو جائے۔
مقررہ وقفے سے تبادلے کے پیچھے ایک مضبوط انتظامی اصول موجود ہے۔ کسی ایک مقام پر اوسط تعیناتی کی مدت عام طور پر تقریباً تین سال تک محدود ہونی چاہیے، جبکہ اس میں استثنیٰ حقیقی انتظامی ضروریات کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ تعلقات یا سہولت کی بنیاد پر۔
طویل عرصے تک ایک ہی مقام پر تعیناتی سے زمینداروں، پراپرٹی ڈیلروں، مقامی سیاست دانوں اور دیگر مفاد رکھنے والے افراد کے ساتھ تعلقات مضبوط ہونے کا موقع ملتا ہے۔ ایک ایسے محکمہ مال کے نظام میں جس میں قیمتی زمین اور سرکاری صوابدید کے وسیع اختیارات شامل ہوں، یہ تعلقات سرپرستی، جوڑ توڑ اور بدعنوانی کو جنم دے سکتے ہیں۔ باقاعدہ تبادلے ایسے رویے کو مکمل طور پر ختم نہیں کرسکتے، تاہم وہ مضبوط مقامی نیٹ ورکس کے قیام اور انہیں برقرار رکھنا زیادہ مشکل بنا سکتے ہیں۔
اس تازہ کارروائی کا حجم یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ صوبائی حکومت سمجھتی ہے کہ مسئلہ صرف چند مشکل افسران تک محدود نہیں ہے۔ اس کی وسیع تر انسداد بدعنوانی مہم میں پولیس، محکمہ خوراک، بورڈ آف ریونیو، محکمہ ایکسائز اور دیگر سرکاری محکموں کے سیکڑوں اہلکار شامل رہے ہیں، جبکہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے مزید 176 افسران کے خلاف کارروائی کی ہے۔
ایسی مداخلتیں قابلِ تحسین ہیں اگر یہ حکمرانی کو بہتر بنانے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہوں، نہ کہ کبھی کبھار کی جانے والی ایسی انتظامی صفائی جس سے متاثر کن اعداد و شمار تو سامنے آئیں لیکن دیرپا تبدیلی پیدا نہ ہو۔
یہ فرق انتہائی اہم ہے کیونکہ کسی افسر کا تبادلہ محض اسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتا ہے۔ اگر کسی پٹواری کو ایک اسٹیشن سے دوسرے اسٹیشن منتقل کردیا جائے تو وہ بدعنوان پٹواری ہی رہتا ہے، جب تک کہ بدعنوانی کی تحقیقات کرکے اسے قانون کے مطابق سزا نہ دی جائے۔ جہاں بدعنوانی کے قابلِ اعتماد شواہد موجود ہوں، وہاں قانون کے مطابق محکمانہ اور فوجداری کارروائی ہونی چاہیے۔ جہاں مسئلہ طویل تعیناتی یا مقامی سطح پر غیر صحت مند اثر و رسوخ سے متعلق ہو، وہاں تبادلہ کافی ہوسکتا ہے۔
دونوں معاملات کو ایک دوسرے میں ضم کرنا اس مشق کو کمزور کردے گا، کیونکہ اس سے سنگین بدعنوانی تبادلوں کے احکامات کے پیچھے چھپ سکتی ہے، جبکہ بے قصور افسران کے ساتھ بھی ایسا سلوک ہوسکتا ہے جیسے محض تبادلہ ہی ان کے قصوروار ہونے کا ثبوت ہو۔
لہٰذا اصل امتحان اس وقت ہوگا جب 3,000 تبادلوں کے احکامات کا شور ختم ہونے کے بعد حکومت کے اقدامات سامنے آئیں گے۔
حکومت کو ایسے قابلِ پیمائش معیارات مقرر کرنے چاہئیں جن میں انتقالات اور زمین سے متعلق دیگر خدمات کی تکمیل میں لگنے والا وقت، ریکارڈ کی درستگی اور اس تک رسائی، عوامی شکایات کی تعداد اور نوعیت، محکمانہ کارروائی اور غیر قانونی ادائیگیوں کے مطالبات کی رپورٹس شامل ہوں۔ اس پیمائش کے بغیر یہ جاننے کا کوئی قابلِ اعتماد طریقہ نہیں ہوگا کہ آیا بدعنوانی واقعی کم ہوئی ہے یا محض اس نے اپنا نیا ڈاک کا پتہ حاصل کرلیا ہے۔
ٹیکنالوجی کو بھی ان مواقع کو کم کرنا چاہیے جو روایتی پٹواری نظام کو بدعنوانی کے لیے اتنا حساس بناتے ہیں۔
ڈیجیٹل اراضی ریکارڈ، قابلِ سراغ درخواستیں، واضح طور پر متعین کردہ کارروائی کی مدت اور سرکاری فیصلوں کا الیکٹرانک ریکارڈ غیر ضروری ذاتی صوابدید کو کم کرسکتے ہیں اور جب کچھ غلط ہو تو ایک آڈٹ ٹریل فراہم کرسکتے ہیں۔ تبادلے اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب ان کے ساتھ ادارہ جاتی اصلاحات بھی ہوں جو اگلے افسر کو بالکل وہی نیٹ ورک دوبارہ قائم کرنے سے روکیں جو اس کے پیش رو نے پیچھے چھوڑا تھا۔
لہٰذا پنجاب کا یہ اقدام ایک مناسب آغاز ہے اور دیگر ایسے عوامی خدمات سے متعلق محکموں کے لیے ایک مفید نمونہ ثابت ہوسکتا ہے جہاں افسران اتنے طویل عرصے تک تعینات رہتے ہیں کہ وہ مقامی طاقت کے ڈھانچے کا حصہ بن جاتے ہیں۔ تاہم انتظامی سطح پر اچانک اور سخت کارروائی کا اثر زیادہ دیر قائم نہیں رہتا، جب تک اس کے بعد عمل درآمد، نگرانی اور ساختی اصلاحات نہ کی جائیں۔
تین ہزار تبادلے ایک متاثر کن سرخی ضرور بناتے ہیں۔ لیکن اس اخبار کی نظر میں تین ہزار زیادہ شفاف اور بدعنوانی سے پاک دفاتر اس سے کہیں بہتر نتیجہ ہوں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments