اولمپک کونسل آف ایشیا (او سی اے) کے صدر شیخ جوعان بن حمد الثانی نے ہفتے کو کہا کہ سیاست دانوں کو کھیلوں میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ یہ بیان ایشین گیمز میں تائیوان کے ایک حکومتی عہدیدار سے متعلق سفارتی تنازع کے بعد سامنے آیا۔
تائیوان کے وزیر کھیل لی یانگ، جو سابق اولمپک بیڈمنٹن چیمپئن بھی رہ چکے ہیں کو جمعہ کو ایشین گیمز میں پرچم کشائی کی تقریب میں شرکت سے ابتدا میں روک دیا گیا جس کے باعث صورتحال کشیدہ ہوگئی اور احتجاجاً تائیوان کے وفد نے تقریب میں شرکت سے انکار کردیا۔
بعد ازاں لی یانگ کو تقریب میں داخلے کی اجازت دے دی گئی تاہم یہ تقریب مقررہ وقت سے ایک گھنٹے سے زائد تاخیر سے منعقد ہوئی۔ تائیوان کی کابینہ نے ایک بیان میں شکایت کی کہ لی یانگ کو ’’غیر معقول رکاوٹ‘‘ کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ان کے پاس تقریب میں شرکت کے لیے مطلوبہ ایکریڈیٹیشن بھی موجود تھی۔
شیخ جوعان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ وہ اس واقعے سے لاعلم تھے، تاہم چار سال بعد منعقد ہونے والے ان کھیلوں میں سیاست دانوں کو کھیلوں سے دور رہنا چاہیے۔
قطری عہدیدار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہاں ہماری توجہ ایتھلیٹس پر اور اس بات کو یقینی بنانے پر ہونی چاہیے کہ تمام ایتھلیٹس کو مقابلے میں مساوی حقوق اور اپنی آزادی حاصل ہو۔
لہٰذا میرے خیال میں سیاست دانوں یا سیاست کو کھیلوں میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔ یہ میری رائے ہے۔
او سی اے کے ڈائریکٹر جنرل حسین المسلم نے مزید کہا کہ پرچم کشائی کی تقریب کھیلوں میں شریک کھلاڑیوں کے لیے تھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ وزارت یا حکومت کے وفد کے لیے نہیں تھی۔


Comments