آٹو ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اسمگلنگ یا درآمدی حکمت عملی کو مضبوط بنانے کے پیشِ نظر لوکلائزیشن (مقامی پیداوار) دوست اقدامات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے آئندہ آٹو پالیسی 2026-2031 تشکیل دے۔
آٹو تجزیہ کار زین شارق نے کہا کہ مجوزہ آٹو پالیسی کی موجودہ شکل مکمل طور پر آٹو پارٹس کی مقامی تیاری کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کا نام تبدیل کرکے آٹو اسمبلنگ اینڈ امپورٹ پالیسی رکھ دینا چاہیے کیونکہ اس میں پاکستان میں مقامی پیداوار یقینی بنانے کے لیے کوئی مؤثر اقدام شامل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل (ایچ ای وی) کو 18 فیصد سیلز ٹیکس کے دائرے میں شامل کرنا بھی ان گاڑیوں کو نقصان پہنچائے گا، حالانکہ بعض شعبوں میں ان کی مقامی پیداوار کا تناسب زیادہ ہے اور یہ کسی حد تک کاربن اخراج میں بھی کمی لاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوائد کا براہِ راست تعلق ممکنہ ایندھن کی بچت سے ہونا چاہیے نہ کہ محض گاڑی کے لیبل سے۔ مجوزہ فوائد ایسے مفروضوں پر مبنی ہیں جن میں زمینی حقائق کو بالکل مدنظر نہیں رکھا گیا اور اگر اس پالیسی پر نظرثانی نہ کی گئی تو چوتھے اور پانچویں سال میں، یا اس سے بھی پہلے بڑے مالی خسارے کا سامنا ہوسکتا ہے۔
زین نے کہا کہ برآمدات کو ایک یقینی امر سمجھ لیا گیا ہے جبکہ ساختی لاگت میں 34 فیصد کمی لانے کے لیے کوئی اقدامات شامل نہیں کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ الیکٹرک وہیکلز (ای وی) کی سیلز ٹیکس میں ہونے والے نقصان کو مزید سبسڈی دینے کے لیے انٹرنل کمبسشن انجن والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کرنا ان اصل سازوسامان تیار کنندگان (او ای ایمز) کو براہِ راست سزا دینے کے مترادف ہے جنہوں نے مقامی پیداوار کو فروغ دیا ہے جبکہ اس کا فائدہ صرف درآمدات پر انحصار کرنے والوں کو پہنچے گا۔
پاکستان آٹو انڈسٹری کے ایک اور ماہر اور کنسلٹنٹ شفیق احمد شیخ نے کہا کہ ان کے خیال میں حکومت کی جانب سے پہلے تجویز کردہ آٹو پالیسی 2026-2031 ایک نمایاں پیش رفت تھی کیونکہ یہ محض ٹیکنالوجی میں تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ اس سے گاڑیوں کی پیداوار میں اضافہ ہوگا، نئی ٹیکنالوجیز متعارف ہوں گی، معروف عالمی کمپنیوں کے جدید ترین پلانٹس کے قیام کے ساتھ اچھی خاصی غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) آئے گی، روزگار کے مواقع بڑھیں گے، وینڈر ڈویلپمنٹ اور ان کے کاروبار میں اضافہ ہوگا، پٹرولیم مصنوعات کے درآمدی بل میں کمی آئے گی اور سب سے بڑھ کر صارفین کو کم قیمت پر بہتر خصوصیات سے لیس عالمی معیار کی چینی گاڑیاں دستیاب ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ متوقع تبدیلیوں اور ترامیم کے باعث نئی پالیسی نہ صرف نیشنل ٹیرف بورڈ کی شرح سے مطابقت رکھے گی بلکہ سابقہ پالیسی کی بنیادی خصوصیات کو بھی متاثر کرے گی۔ مثال کے طور پر ای وی کٹس پر کم ڈیوٹی عالمی سطح پر الیکٹرک وہیکل کے شعبے میں پیش پیش کمپنیوں سے بڑے پیمانے پر غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کو راغب کرتی ہے۔ مقامی پیداوار کے بلند اہداف اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ مقامی انجینئرنگ وینڈر بیٹریوں، کنٹرولرز اور الیکٹرک موٹرز کی زیادہ قدر والے معاہدے حاصل کرسکیں۔ یہ منظم معاشی تبدیلی مقامی صنعت کے استحکام کو یقینی بنانے کے ساتھ پاکستان میں جدید ترین ماحول دوست ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔
شفیق احمد شیخنے کہا کہ بعض اسمبلرز ابتدائی طور پر تیار کی گئی پالیسی کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کی فروخت کم ہوجائے گی، تاہم میرے خیال میں مسابقت بڑھے گی اور صارفین کو فائدہ ہوگا، کیونکہ پالیسی میں ریاستی سرپرستی کے تحت معاونت لازمی قرار دینے کے بجائے نجی سرمایہ کاری پر زیادہ انحصار کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صارفین کو قرض فراہم کرنے سے متعلق بینکاری پالیسیاں خریداروں کو سہولت دیں گی اور بینکوں کے کاروبار میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر وسطی ایشیائی اور افریقی منڈیوں کے لیے برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پالیسی پاکستان کے بھاری بھرکم پٹرول درآمدی بل میں کمی لانے پر بھی بھرپور توجہ مرکوز کرتی ہے۔
ماہر نے کہا کہ اس پالیسی کے ذریعے پاکستان عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرسکتا ہے جس کے لیے مقامی وینڈر بیس کو ای وی پرزہ جات کے برآمدی مرکز میں تبدیل کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے مقامی وینڈرز کو وائرنگ ہارنسز، الیکٹرک موٹرز اور تانبے سے تیار کردہ پرزہ جات جیسے زیادہ طلب والے ای وی اجزا کی تیاری پر توجہ دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی خصوصاً چینی، الیکٹرک وہیکل کمپنیوں کو علاقائی برآمدی مراکز قائم کرنے کی جانب راغب کیا جاسکتا ہے جبکہ پاکستان کی مسابقتی انجینئرنگ افرادی قوت کی لاگت سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اس کے ساتھ جدید ای وی الیکٹرانکس کے لیے مشترکہ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں سے لیس خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیڈز) بھی قائم کیے جانے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں نئے علاقائی تجارتی معاہدوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی ساختہ ای وی پرزہ جات کو براہِ راست ابھرتی ہوئی عالمی گرین سپلائی چینز میں برآمد کیا جاسکتا ہے۔ ای وی انجینئرنگ کے شعبے میں غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) راغب کرنے سے مقامی وینڈرز اور ان کی پیداواری صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہوگا جس سے اعلیٰ مہارت رکھنے والی ٹیکنالوجی کی ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوں گی۔ عالمی سطح پر انضمام سے پیداواری پیمانے کی معیشتیں پیدا ہوں گی اور پیداواری لاگت میں کمی آئے گی جس کے نتیجے میں ملکی صارفین کو جدید ترین گاڑیاں کہیں کم قیمت پر دستیاب ہوسکیں گی۔
انہوں نے کہا کہ 15 فیصد کی یکساں ڈیوٹی پر نظرثانی کی جانی چاہیے کیونکہ اس سے مقامی پیداوار اور مقامی پرزہ سازوں کا شعبہ مکمل طور پر ختم ہوسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو ملک بھر میں بڑے پیمانے پر فیکٹریوں کی بندش کے نتیجے میں آٹو انڈسٹری میں فوری اور وسیع پیمانے پر بے روزگاری پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے ایسا طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے جو تمام فریقوں کے لیے فائدہ مند ہو۔
انہوں نے کہا کہ سستی اور مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹنگ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں، جبکہ درآمد شدہ استعمال شدہ، حادثہ زدہ اور ساختی طور پر ناقص گاڑیوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ انہوں نے تمام گاڑیوں کے وہیکل آئیڈینٹی فکیشن نمبرز (VIN) کی لازمی ڈیجیٹل کراس ریفرنسنگ، بین الاقوامی کریش ٹیسٹ معیارات پر عمل درآمد، ایئر بیگز کی فراہمی اور ڈبلیو پی 29 کے تقاضوں کے مطابق تمام مقامی طور پر تیار اور درآمد ہونے والی گاڑیوں میں حفاظتی خصوصیات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔


Comments