کیپیسٹی چارجز وفاقی بجٹ سے ادا کئے جائیں، میاں زاہد
- کاروباری برادری حکومت کی بجلی کے شعبے میں اصلاحات کی مکمل حمایت کے لیے تیار ہے، صدر بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم
پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اور سابق صوبائی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میاں زاہد حسین نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ ملک میں اضافی بجلی کے لیے عائد کیپیسٹی چارجز جو مالی سال 2025-26 میں تقریباً 1,700 ارب روپے رہے بجلی کے بلوں کے بجائے وفاقی بجٹ سے ادا کیے جائیں تاکہ صنعتوں کو بھی مناسب نرخوں پر بجلی فراہم کی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ مسابقتی توانائی مارکیٹ کی جانب منتقلی اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ قومی معاشی بقا کا مسئلہ ہے۔ اسی طرح غیر مؤثر ڈسکوز کی فوری نجکاری بھی ناگزیر ہے۔
سی ٹی بی سی ایم کے تیز رفتار اور بلا رکاوٹ نفاذ کے ساتھ موزوں وہیلنگ ریگولیشنز صنعتی ترقی کو فروغ دیں گے، ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا کریں گے، درآمدی متبادل کو فروغ دیں گے اور ملک کی برآمدات میں اضافے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ کاروباری برادری حکومت کی بجلی کے شعبے میں اصلاحات کی مکمل حمایت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ ان اصلاحات میں فرسودہ اجارہ داریوں کے تحفظ کے بجائے صنعتی پائیداری اور معاشی استحکام کو ترجیح دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ نیپرا سے منظور شدہ توانائی اصلاحات کے ماڈل، مسابقتی ٹریڈنگ بائی لیٹرل کنٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کا تیز رفتار اور شفاف نفاذ، پاکستان کے صنعتی شعبے کو توانائی کے بحران سے نکالنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
انہوں نے بجلی کی مارکیٹ کو اجارہ داری سے مسابقتی، متعدد خریداروں اور متعدد فروخت کنندگان پر مشتمل نظام میں منتقل کرنے کو ایک اہم معاشی سنگِ میل قرار دیا۔


Comments