پیٹرسن 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں میں انگلینڈ کے مینٹور مقرر
- کیون پیٹرسن کی واپسی! انگلینڈ کی وائٹ بال ٹیموں کے مینٹور مقرر، آئندہ سال افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری میں تجربات سے رہنمائی کریں گے
انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے پیر کو بتایا کہ کیون پیٹرسن کو آئندہ سال جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ سے قبل انگلینڈ کی وائٹ بال ٹیموں کا خصوصی مینٹور مقرر کردیا گیا ہے، جس کے بعد وہ 2014 میں ریٹائرمنٹ کے بعد پہلی بار انگلینڈ کے ٹیم سیٹ اپ کا حصہ بنیں گے۔
سابق ایشز اور ٹی20 ورلڈ کپ فاتح بلے باز رواں ماہ کے آخر میں سری لنکا کے خلاف ہونے والی سیریز کے لیے برینڈن میک کولم کے کوچنگ اسٹاف میں شامل ہوں گے، جہاں وہ مارکس ٹریسکوتھک، ٹم ساؤتھی، جیتن پٹیل اور سارہ ٹیلر کے ساتھ کام کریں گے۔
46 سالہ پیٹرسن انگلینڈ کے آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے وائٹ بال دوروں کے ساتھ ساتھ آئندہ موسمِ گرما میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم سیریز کے دوران بھی ٹیم کے ساتھ رہیں گے، جس کے بعد ون ڈے انٹرنیشنل (او ڈی آئی) ورلڈ کپ کا انعقاد ہوگا۔
پیٹرسن نے کہا، ’’مجھے بے حد فخر ہے کہ مجھے جنوبی افریقہ میں ورلڈ کپ جیتنے کے سفر میں اس ٹیم کی مدد کے لیے کہا گیا ہے۔ 2014 کے بعد پہلی بار دوبارہ انگلینڈ کی شرٹ پہننا میرے لیے ایک گہرا اعزاز اور انتہائی خاص لمحہ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہمارے پاس وائٹ بال کا انتہائی باصلاحیت اسکواڈ ہے اور میں ان کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر بھرپور محنت کرنے اور ان کی صلاحیتوں کو زیادہ سے زیادہ نکھارنے کے لیے بے حد پرجوش ہوں۔‘‘
’’اگلے 12 ماہ کے دوران برینڈن کے تھنک ٹینک کا حصہ بننا ایک شاندار موقع ہے اور میں کام شروع کرنے کے لیے بے تاب ہوں۔‘‘
جارحانہ انداز میں کھیلنے والے مڈل آرڈر بلے باز پیٹرسن نے انگلینڈ کی جانب سے تینوں فارمیٹس میں تقریباً 14 ہزار رنز بنائے۔ انگلینڈ نے آخری بار 2019 میں اپنی سرزمین پر ون ڈے ورلڈ کپ جیتا تھا۔
تاہم آسٹریلیا میں 2014 کی ایشز سیریز میں انگلینڈ کو 5-0 سے وائٹ واش شکست کے بعد پیٹرسن کا انگلینڈ کیریئر متنازع انداز میں اختتام پذیر ہوا۔ اس دوران ڈریسنگ روم میں اور بلے باز اور ٹیم مینجمنٹ کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
پیٹرسن اس سیریز میں انگلینڈ کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز تھے اور انگلینڈ کے لیے کھیلنے کے خواہش مند بھی تھے، تاہم انہیں بتایا گیا کہ اب وہ ٹیم کے منصوبوں کا حصہ نہیں رہے۔ یوں ان کا بین الاقوامی کیریئر تلخی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
جنوبی افریقہ میں پیٹرسن کی پرورش ورلڈ کپ کی تیاریوں میں انگلینڈ کے لیے خاص طور پر مفید ثابت ہوسکتی ہے، کیونکہ اکتوبر 2027 سے جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا مشترکہ طور پر ورلڈ کپ کی میزبانی کریں گے۔
میک کولم نے کہا، ’’میں خاص طور پر اس بات پر پرجوش ہوں کہ ہمارے بلے بازوں کو ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملے گا۔ کے پی کو یہ منفرد سمجھ حاصل ہے کہ اعلیٰ ترین سطح پر کارکردگی دکھانے کے لیے کیا کچھ درکار ہوتا ہے، جو ہمارے کھلاڑیوں کے لیے بے حد قیمتی ثابت ہوگی۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہم نے ہمیشہ ایک دوسرے کا احترام کیا ہے اور اس بات کو سراہا ہے کہ دوسرا شخص کھیل میں کیا کردار ادا کرتا ہے، اس لیے میں ایک ساتھ کام کرنے کے لیے بہت پُرجوش ہوں۔‘‘


Comments