آف پرائس ریٹیلر ’منسٹری آف برانڈز‘ نے پاکستان میں پہلا آؤٹ لیٹ کھول دیا
- ایم او بی نے 2026 کے اوائل میں سری لنکا سے کاروبار کا آغاز کیا اور اب جنوبی ایشیا میں علاقائی توسیع کا سلسلہ شروع کردیا ہے
بین الاقوامی آف پرائس ریٹیلر منسٹری آف برانڈز (ایم او بی) نے پاکستان میں کاروبار کا آغاز کرتے ہوئے عالمی فیشن برانڈز رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ اس کا پہلا آؤٹ لیٹ ہفتے کو کراچی کے ڈی ایچ اے فیز 6 میں کھولا گیا ہے۔
ایم او بی نے 2026 کے اوائل میں سری لنکا سے کاروبار کا آغاز کیا تھا اور اب جنوبی ایشیا میں علاقائی توسیع کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔
ایم او بی پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نور منڈی والا نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’تین منزلوں پر محیط کراچی کا نیا اسٹور معروف بین الاقوامی ہائی اسٹریٹ، پریمیم اور ڈیزائنر برانڈز کو ایک ہی چھت تلے پیش کرتا ہے، جن پر اصل خوردہ قیمت کے مقابلے میں 90 فیصد تک رعایت دی جارہی ہے۔‘‘
اس اسٹور میں خواتین، مردوں اور بچوں کے ملبوسات، جوتے، ہینڈ بیگز اور دیگر لوازمات دستیاب ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہاں 2 ہزار سے زائد بین الاقوامی برانڈز کی مصنوعات موجود ہیں، جن میں زیادہ تر امریکا اور یورپ سے تعلق رکھتے ہیں۔
ایک الگ پریس بیان کے مطابق کراچی کے اسٹور میں دستیاب عالمی فیشن برانڈز میں فیراگامو، رالف لارین، فارم ریو، ٹوری برچ، ریگ اینڈ بون، آن رننگ، ہوکا، ایئر جورڈن، مائیکل کورس، کارل لیگر فیلڈ اور کیلون کلائن شامل ہیں۔
نور منڈی والا نے کہا، ’’میں کراچی میں مختلف مقامات پر مزید اسٹورز کھول کر شہر بھر میں توسیع کرنا چاہوں گا۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ آئندہ پانچ برس کے دوران ملک بھر میں 10 سے 15 اسٹورز کھولنے کا منصوبہ ہے، جن میں لاہور اور اسلام آباد بھی شامل ہوں گے۔
بیان کے مطابق ایم او بی کا کاروباری ماڈل عالمی سطح پر رائج آف پرائس ریٹیل ماڈل پر مبنی ہے۔ یہ ماڈل صارفین کو قابلِ رسائی قیمتوں اور غیرمعمولی قدر کے ساتھ مسلسل تبدیل ہوتی مصنوعات کی وسیع رینج فراہم کرتا ہے، جس کے باعث ہر بار خریداری کا تجربہ منفرد ہوتا ہے۔
بیان میں کہا گیا، ’’پاکستانی صارفین جو بیرونِ ملک سفر کے دوران بین الاقوامی ہائی اسٹریٹ اور پریمیم برانڈز کی خریداری کے عادی ہیں، ان کے لیے ایم او بی اب یہ تجربہ ملک میں ہی فراہم کررہا ہے، جہاں ایک ہی چھت تلے مستند مصنوعات، آسان رسائی اور غیرمعمولی قدر دستیاب ہے۔‘‘
بیان میں نور منڈی والا کے حوالے سے کہا گیا، ’’میرا ہمیشہ سے یہ یقین رہا ہے کہ اسٹائل ذاتی پسند کا معاملہ ہونا چاہیے، مراعات یافتہ طبقے تک محدود نہیں۔ ایم او بی کا تصور اسی خیال سے وجود میں آیا کہ شاندار فیشن کی دریافت کے لیے نہ ہوائی جہاز کا ٹکٹ درکار ہو، نہ غیرملکی کرنسی اور نہ ہی بہت بڑا بجٹ۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہم اصل برانڈز اور منفرد مصنوعات صارفین کے گھر کے قریب لارہے ہیں، ایسی قیمتوں پر جو فیشن کو حقیقی معنوں میں سب کے لیے قابلِ رسائی بناتی ہیں۔ ایم او بی کی ایک اور بات جو مجھے بہت پسند ہے، وہ اس کی انفرادیت ہے۔ ہماری بہت سی مصنوعات محدود تعداد میں یا صرف ایک ہی پیس کی صورت میں دستیاب ہوتی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ آپ وہی چیز نہیں خرید رہے ہوتے جو ہر دوسرا شخص پہن رہا ہے۔ میرے نزدیک عمدہ اسٹائل ہمیشہ اسی کا نام رہا ہے کہ آپ کتنا خرچ کرتے ہیں نہیں، بلکہ آپ کیا دریافت کرتے ہیں اور اسے اپنے انداز میں کیسے پیش کرتے ہیں۔‘‘


Comments