تعمیراتی شعبے کیلئے خصوصی فنانسنگ نظام قائم کیا جائے، میاں زاہد حسین
پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچوئلز فورم اور آل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ طویل المدتی اور کم لاگت فنانسنگ کے خلاء کو پورا کرنے کیلئے ایک خصوصی تعمیراتی فنانسنگ کا نظام قائم کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے ڈیجیٹل ون ونڈو منظوری کے نظام کے قیام، ٹیکس پالیسی میں بہتری، زمین اور عمارتوں کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے، لینڈ ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے اور تعمیراتی سامان پر عائد ڈیوٹیز میں کمی کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی مراعات کا مرکز سستے مکانات، عمودی شہری ترقی، ماحول دوست عمارتوں، زلزلہ پروف تعمیرات، مقامی طور پر تیار کردہ تعمیراتی سامان اور جدید ٹیکنالوجیز کا فروغ ہونا چاہیے۔
نیشنل بزنس گروپ پاکستان اور ایف پی سی سی آئی کے پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کو اب تعمیراتی شعبے کو محض رئیل اسٹیٹ کی سرگرمی کے طور پر نہیں بلکہ صنعتی ترقی کو کئی گنا بڑھانے والے اہم شعبے کے طور پر دیکھنا ہوگا۔
تعمیراتی شعبے کی شرح نمو 5.7 فیصد اور مقامی سطح پر سیمنٹ کی طلب میں نمایاں اضافے کے پیش نظر بروقت اصلاحات روزگار کے مواقع، سرمایہ کاری، جدت، درجنوں متعلقہ صنعتوں اور مجموعی معاشی ترقی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پاکستان کے تعمیراتی شعبے کے لیے جامع ترقیاتی پیکیج کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ مؤثر اور بروقت اصلاحات پاکستان کے تعمیراتی شعبے کو معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کا اہم محرک بنا سکتی ہیں۔


Comments