پاکستان کو درپیش توانائی کا چیلنج ایک بار پھر وہ توجہ حاصل کررہا ہے جس کا وہ مستحق ہے، حکومت نے ملکی سطح پر تیل و گیس کی تلاش، ریفائنریوں میں سرمایہ کاری، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں شفافیت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول پر زیادہ توجہ دینے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ ترجیحات خوش آئند ہیں۔ تاہم چیلنج کی نوعیت اور حجم کے پیش نظر محض نئے سرے سے تلاشِ توانائی کی مہم یا ایک نئے روڈ میپ سے کہیں زیادہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
پٹرولیم وزیر کا یہ اعتراف کہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 90 فیصد درآمد کرتا ہے جبکہ ملکی سطح پر روزانہ تقریباً 70 ہزار بیرل تیل کی پیداوار، روزانہ تقریباً 5 لاکھ بیرل کی طلب کا صرف ایک محدود حصہ پورا کرتی ہے، ان کے بیان میں شاید سب سے اہم اعداد و شمار ہیں۔ یہ صورتحال ایسی معیشت کی ساختی کمزوری کو واضح کرتی ہے جس کا توانائی درآمدی بل عالمی قیمتوں، شرحِ تبادلہ میں اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی حالات سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں سے شدید متاثر ہوتا ہے۔
عالمی توانائی منڈیوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ نے اس کمزوری کی ایک بار پھر یاد دہانی کرادی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع اور اس کے نتیجے میں خطے میں توانائی کی ترسیل میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے ظاہر کیا ہے کہ جغرافیائی سیاسی خطرات بڑھنے کی صورت میں خام تیل اور پٹرولیم قیمتیں کس تیزی سے تبدیل ہوسکتی ہیں۔ پاکستان نے حالیہ صورتحال کے دوران ایندھن کی بلاتعطل فراہمی برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے تاہم ایسے جھٹکوں کے مالیاتی اور بیرونی کھاتوں پر مرتب ہونے والے اثرات کو محض نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
یہ صورتحال حکومت کی جانب سے ملکی وسائل کی تلاش پر ازسرنو توجہ کو موزوں بناتی ہے۔ پاکستان میں معدنی و ارضیاتی وسائل کے وسیع امکانات موجود ہیں جبکہ بین الاقوامی ایکسپلوریشن کمپنیوں کو راغب کرنے کی حالیہ کوششیں جن میں ترک پیٹرولیم کی جانب سے سمندر میں مجوزہ ڈرلنگ سرگرمیاں بھی شامل ہیں حوصلہ افزا ہیں۔ تاہم توانائی کے نئے ذخائر کی تلاش فطری طور پر غیر یقینی عمل ہے۔ نئی دریافتوں کو درآمدی توانائی کا یقینی متبادل نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ ہی ڈرلنگ کے اعلانات کو خودبخود توانائی کے تحفظ کے مترادف قرار دیا جانا چاہیے۔
زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایسا سرمایہ کاری ماحول تشکیل دے سکتا ہے جس میں توانائی کی تلاش کا عمل مستقل بنیادوں پر تجارتی طور پر پرکشش بن سکے۔ اس کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، مسابقتی قیمتوں، بروقت منظوریوں، شفاف معاہدوں اور ایسے ضابطہ جاتی فریم ورک کی ضرورت ہے جو ہر حکومت کی تبدیلی کے ساتھ تبدیل نہ ہو۔ یہی اصول توانائی کے ڈاؤن اسٹریم شعبے میں سرمایہ کاری پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
لہٰذا ریفائنری پالیسی کی منظوری بھی ایک اور اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔ پاکستان کو کئی برسوں سے فرسودہ ریفائننگ سیکٹر، ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کے بڑھتے ہوئے مہنگے درآمدی بل اور ملکی ریفائننگ صلاحیت میں مطلوبہ سرمایہ کاری کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ریفائنریوں کی جدید کاری سے مصنوعات کے معیار اور اقسام میں بہتری لائی جا سکتی ہے، درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے اور بیرونی رسد میں پیدا ہونے والے اچانک تعطل سے نمٹنے کی ملک کی صلاحیت مضبوط ہو سکتی ہے۔ تاہم یہاں بھی پالیسی کے تسلسل کی اہمیت محض اعلان سے کہیں زیادہ ہوگی۔
تاہم ایک وسیع تر پہلو کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ توانائی کا تحفظ محض زیادہ تیل اور گیس کی پیداوار کا نام نہیں بلکہ اس کا مطلب توانائی ذرائع میں تنوع پیدا کرنا، کارکردگی بہتر بنانا، نقصانات کم کرنا، ترسیلی اور ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرنا اور توانائی کی قیمتوں کا ایسا تعین یقینی بنانا ہے جو مؤثر استعمال کی حوصلہ افزائی کرے جبکہ کمزور اور مستحق گھرانوں پر غیرمعمولی بوجھ بھی نہ ڈالے۔
توانائی پالیسی کے حوالے سے پاکستان کا ماضی کا تجربہ اس بات کے لیے کافی ثبوت فراہم کرتا ہے کہ جب ان تمام عناصر کو الگ الگ دیکھا جائے تو اس کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ مہنگی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت، غیر مؤثر تقسیم، ترسیلی نظام کی رکاوٹیں، گیس شعبے کا گردشی قرضہ اور غیر مؤثر انداز میں دی جانے والی سبسڈیز، سب نے ایسے اخراجات مسلط کیے ہیں جن کا بوجھ بالآخر صارفین یا قومی خزانے کو اٹھانا پڑتا ہے۔
لہٰذا حکومت کا یہ دعویٰ کہ گردشی قرضے میں اضافے کا سلسلہ روک دیا گیا ہے محض سراہنے کے بجائے اس کا بغور جائزہ لینے کا متقاضی ہے۔ گردشی قرضے کے مجموعی حجم میں پائیدار کمی کے لیے ان بنیادی عوامل کی ساختی اصلاح ضروری ہے جو ابتدا ہی سے اس قرضے میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ ایک مرتبہ کی ادائیگیاں، بجٹ سے مالی معاونت یا جمع شدہ واجبات میں ردوبدل سے اعداد و شمار میں بہتری تو لائی جا سکتی ہے، لیکن جب تک قرضے میں اضافے کے بنیادی سلسلے کو قابو میں نہ رکھا جائے، یہ اقدامات حقیقی اصلاحات قرار نہیں دیے جا سکتے۔
یہی اصول پٹرولیم قیمتوں کے تعین پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ قیمتوں کے طریقہ کار میں زیادہ شفافیت خوش آئند ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہو۔ قیمتوں میں زیادہ وقفے سے ایڈجسٹمنٹ کی حالیہ پالیسی نے یہ ثابت کیا ہے کہ صارفین اور حکومت کو وقفے وقفے سے بڑے مالی جھٹکوں کا سامنا کرانے کے بجائے ملکی قیمتوں کو بیرونی منڈیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق بتدریج ایڈجسٹ ہونے کا موقع دینا زیادہ مفید ہے۔ تاہم شفافیت کے ساتھ مسابقت اور ڈی ریگولیشن بھی ناگزیر ہیں۔
لہٰذا ڈاؤن اسٹریم پٹرولیم سیکٹر کو مکمل ڈی ریگولیشن کی جانب پیش رفت جاری رکھنی چاہیے جبکہ اوگرا کی توجہ تجارتی فیصلوں کے انتظامی کنٹرول کے بجائے مارکیٹ کی نگرانی، مسابقت، حفاظتی اقدامات اور قواعد و ضوابط کی پابندی یقینی بنانے پر مرکوز ہونی چاہیے۔ پٹرولیم سپلائی چین کی ڈیجیٹل نگرانی، اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی اور ان لینڈ فریٹ ایکویلائزیشن مارجن جیسے طریقہ کار میں زیادہ شفافیت، مارکیٹ کو آزاد بنانے کے عمل کے لیے ضروری معاون اقدامات ہوں گے۔
نہ ہی توانائی کی تلاش کو بجلی، قابلِ تجدید توانائی اور زیادہ توانائی بچت کی جانب ملک کی وسیع تر منتقلی سے الگ کرکے دیکھا جانا چاہیے۔ پاکستان میں تقسیم شدہ شمسی توانائی کی صلاحیت میں پہلے ہی غیر معمولی اضافہ ہوچکا ہے جس کے روایتی بجلی اور گیس کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں لہٰذا پالیسی سازوں کو توانائی پالیسی مرتب کرتے وقت ماضی کے کھپت کے رجحانات کو بنیاد بنانے کے رجحان سے گریز کرنا ہوگا۔
یہ پہلو جامع توانائی روڈ میپ کی بات کرتے وقت خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ مجوزہ روڈ میپ کا مقصد محض درآمدی ایندھن کی جگہ مقامی طور پر پیدا ہونے والے ایندھن کو دینا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے ایک بنیادی سوال کا جواب بھی دینا چاہیے کہ آئندہ دو دہائیوں میں پاکستان کا توانائی نظام کیسا ہونا چاہیے، بالخصوص ملک کو درپیش بیرونی کھاتوں کی پابندیوں، موسمیاتی خطرات، بدلتی ٹیکنالوجی اور قابلِ تجدید توانائی و توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام کی تیزی سے بدلتی معاشی صورتِ حال کے پیش نظر؟
اس کا جواب ایسے توانائی نظام پر مشتمل ہونا چاہیے جس میں جہاں ملکی ہائیڈروکاربن تجارتی طور پر قابلِ عمل ہوں وہاں ان کا استعمال جاری رکھا جائے لیکن ساتھ ہی مقامی قابلِ تجدید توانائی کے وسائل پر زیادہ انحصار، درآمدی ایندھن کے زیادہ مؤثر استعمال، جدید ریفائنریوں اور پائپ لائنز، مضبوط بجلی کے ترسیلی و تقسیمی نیٹ ورک اور مارکیٹ کی بنیاد پر توانائی کی قیمتوں کا تعین بھی یقینی بنایا جائے۔ بالآخر توانائی کا تحفظ توانائی کے ذرائع میں تنوع ہی کا نتیجہ ہے۔
پاکستان محض ڈرلنگ کے ذریعے توانائی کے عدم تحفظ سے نجات حاصل نہیں کر سکتا، نہ ہی سبسڈی دے کر اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلسل اور مربوط کوششوں کے ذریعے ملکی سرمایہ کاری کو قابلِ عمل، درآمدات کو زیادہ مؤثر، منڈیوں کو زیادہ مسابقتی اور مجموعی توانائی نظام کو بیرونی جھٹکوں سے کم متاثر ہونے والا بنایا جائے۔
فوری مقصد واضح ہونا چاہیے: درآمدی توانائی پر ملک کا انحصار کم کیا جائے لیکن ایک قسم کی کمزوری کو دوسری قسم کی کمزوری سے تبدیل نہ کیا جائے۔ اس کے لیے توانائی کے نئے ذخائر کی تلاش ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ڈی ریگولیشن، بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری، مالیاتی نظم و ضبط، بہتر ضابطہ کاری اور توانائی کے زیادہ متنوع نظام کی جانب سوچا سمجھا اور منظم سفر بھی ناگزیر ہے۔
فی الحال توانائی کے تحفظ پر حکومت کی ازسرنو توجہ خوش آئند ہے۔ تاہم کامیابی کا حقیقی پیمانہ تیار کیے جانے والے روڈ میپس یا کھودے جانے والے کنوؤں کی تعداد نہیں ہوگا، بلکہ یہ ہوگا کہ عالمی توانائی منڈیوں میں ہر بار اتار چڑھاؤ آنے پر پاکستان پہلے کے مقابلے میں کس حد تک کم متاثر ہوتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments