پاکستان کا ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (آرای ای آر) انڈیکس جولائی 2026 میں بڑھ کر 107.92 ہوگیا
- 100 سے زیادہ آرای ای آر کا مطلب ہے کہ ملک کی برآمدات مسابقتی لحاظ سے کمزور جبکہ درآمدات نسبتاً سستی ہیں
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ (آرای ای آر)، جو مختلف غیر ملکی کرنسیوں کے وزنی اوسط کے مقابلے میں ملکی کرنسی کی قدر کو ظاہر کرتا ہے، جولائی 2026 میں بڑھ کر 107.92 ہوگیا، جبکہ جون 2026 میں یہ 106.33 ریکارڈ کیا گیا تھا۔
ٹاپ لائن ریسرچ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’یہ سطح آٹھ سال کی بلند ترین سطح پر برقرار ہے اور 10 سال کی اوسط 102.44 سے بھی زیادہ ہے۔‘‘
100 سے زیادہ آرای ای آر کا مطلب ہے کہ ملک کی برآمدات مسابقتی لحاظ سے کمزور جبکہ درآمدات نسبتاً سستی ہیں۔ اس کے برعکس، جب آرای ای آر انڈیکس 100 سے کم ہو تو صورتحال الٹ ہوجاتی ہے۔
ایس بی پی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 میں آرای ای آر میں ماہانہ بنیادوں پر 1.5 فیصد اضافہ ہوا۔
تاہم اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ آرای ای آر انڈیکس کی 100 کی سطح کو کرنسی کی متوازن قدر قرار دینا درست نہیں۔
مرکزی بینک نے اس حوالے سے ایک وضاحتی نوٹ میں کہا کہ ’’آرای ای آر کا 100 سے اوپر یا نیچے جانا محض 2010 کی اوسط قدر کے مقابلے میں تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے اور اس کا کرنسی کی متوازن قدر سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘


Comments