امیر طبقے کیلئے ٹیکس مراعات
- پاکستان کا صاف ستھری نقل و حرکت کی جانب منتقلی کا سفر ضروری بھی ہے اور ناگزیر بھی
جب 30 لاکھ روپے مالیت کی ایک انٹری لیول گاڑی پر تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار روپے کا ٹیکس عائد ہوتا ہو، جبکہ تقریباً 1 کروڑ روپے مالیت کی نئی انرجی گاڑی پر صرف تقریباً 1 لاکھ روپے سیلز ٹیکس عائد ہو اور وہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور نیو انرجی وہیکل لیوی، دونوں سے مستثنیٰ ہو، تو بحث محض ماحولیاتی پالیسی تک محدود نہیں رہتی۔ یہ ٹیکس انصاف کا سوال بن جاتی ہے۔ صاف ستھری ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی کے لیے مراعات یقیناً ہونی چاہئیں، لیکن ان کا نتیجہ ایسا نظام نہیں ہونا چاہیے جس میں سب سے زیادہ قوتِ خرید رکھنے والوں کو سب سے زیادہ مالیاتی ریلیف ملے جبکہ متوسط آمدنی والے گھرانے غیر متناسب طور پر زیادہ بوجھ برداشت کریں۔
پاکستان کا صاف ستھری نقل و حرکت کی جانب منتقلی کا سفر ضروری بھی ہے اور ناگزیر بھی۔ ملک پٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی اور توانائی کے بڑھتے ہوئے مسائل برقی گاڑیوں کی طرف منتقلی کو طویل مدتی بنیادوں پر ایک معقول ہدف بناتے ہیں۔ دنیا بھر کی حکومتوں نے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو تیز کرنے کے لیے ٹیکس مراعات کا سہارا لیا ہے اور پاکستان کو بھی اس عالمی رجحان سے خود کو الگ نہیں کرنا چاہیے۔ چنانچہ مقصد درست ہے، مسئلہ ان مراعات کے ڈھانچے میں ہے۔
عوامی پالیسی کو صاف ستھری ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر استعمال کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، نہ کہ آسائش پر مبنی کھپت کو سبسڈی دینی چاہیے۔ اگر ٹیکس مراعات کا زیادہ تر فائدہ ان خریداروں کو پہنچے جو 1 کروڑ روپے یا اس سے زائد مالیت کی گاڑیاں باآسانی خرید سکتے ہیں تو ماحولیاتی مقصد غیر مساوی مالیاتی نتیجے کے مقابلے میں ثانوی حیثیت اختیار کرنے کا خطرہ ہے۔ استطاعت، مقامی پیداوار اور ملکی ویلیو ایڈیشن سے منسلک مراعات فوائد کو کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر تقسیم کرسکتی ہیں، جبکہ ملک کے مینوفیکچرنگ بیس کو بھی تقویت دے سکتی ہیں۔
یہ تشویش صرف صارفین تک محدود نہیں۔ پاکستان کی آٹو موبائل صنعت نے کئی دہائیوں کے دوران اسمبلی پلانٹس، مقامی پیداوار اور مقامی وینڈر نیٹ ورک کی ترقی میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے، جو ہزاروں ملازمتوں کو سہارا دیتا ہے۔ ایسا ٹیکس نظام جو غیر ارادی طور پر مقامی طور پر اسمبل ہونے والی انٹری لیول گاڑیوں کو نقصان پہنچائے، جبکہ درآمدی یا پریمیم متبادل گاڑیوں کو نسبتاً زیادہ پرکشش بنائے، صنعتی پالیسی کے حوالے سے جائز سوالات کو جنم دیتا ہے۔ ماحولیاتی ترقی اور صنعتی ترقی کو ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کو تقویت دینے والا ہونا چاہیے۔
تاہم وسیع تر مسئلہ آٹو موبائل شعبے سے کہیں آگے جاتا ہے۔ پاکستان کے ٹیکس ڈھانچے میں طویل عرصے سے ایک ایسی تشویشناک جانبداری موجود ہے جو دستاویزی اور تنخواہ دار متوسط طبقے کے خلاف ہے۔ ہر بجٹ میں ان افراد پر نئے بوجھ ڈالے جاتے ہیں جن کی آمدنی پہلے ہی ٹیکس حکام کے سامنے مکمل طور پر ظاہر ہوتی ہے، جبکہ دولت کے وسیع حصے بدستور معمولی ٹیکس کے دائرے میں رہتے ہیں یا مؤثر ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ تنخواہ دار ملازمین کے پاس ذرائع آمدن پر ٹیکس کٹوتی سے بچنے کے بہت کم مواقع ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس غیر رسمی معیشت کے بڑے حصے، کم ٹیکس ادا کرنے والے اثاثے اور آمدنی کے مراعات یافتہ ذرائع بدستور بامعنی ٹیکس سے بچتے رہتے ہیں۔ یہ عدم توازن بتدریج خود ٹیکس نظام پر عوام کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔
ایک منصفانہ ٹیکس نظام کا پیمانہ صرف یہ نہیں کہ وہ کتنا ریونیو جمع کرتا ہے بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ ٹیکس کا بوجھ کتنی مساوی طور پر تقسیم کرتا ہے۔ شہری عموماً اس وقت ٹیکس ادا کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں جب انہیں یقین ہو کہ یکساں معاشی استطاعت رکھنے والوں کے ساتھ یکساں ٹیکس برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اعتماد اس وقت کمزور ہونا شروع ہوتا ہے جب معمولی خاندانی گاڑیاں خریدنے والے افراد لگژری متبادل گاڑیاں خریدنے والوں کے مقابلے میں تناسباً زیادہ ٹیکس ادا کریں، یا جب کام کرنے والا متوسط طبقہ بار بار ایسے نظام کی مالی اعانت کرتا رہے جو اپنے ٹیکس بیس کو وسیع کرنے میں ناکام ہو۔
حکومت کے پاس اس لیے موقع ہے کہ ان عدم توازن کے مستقل شکل اختیار کرنے سے پہلے اپنی پالیسی کو بہتر بنائے۔ ماحولیاتی مراعات برقرار رہنی چاہئیں، لیکن انہیں اس انداز میں ازسرنو ترتیب دیا جانا چاہیے کہ سستی برقی نقل و حرکت، مقامی مینوفیکچرنگ اور زیادہ سے زیادہ لوکلائزیشن کی حوصلہ افزائی ہو۔ ٹیکس مراعات کو گاڑی کی قیمت کے درجوں، مقامی ویلیو ایڈیشن یا ملکی پیداوار سے منسلک کیا جاسکتا ہے، بجائے اس کے کہ ان کا زیادہ فائدہ مارکیٹ کے پریمیم حصے کو پہنچے۔ ایسا طریقہ ماحولیاتی اہداف کو صنعتی ترقی اور سماجی انصاف کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں ہم آہنگ کرے گا۔
پاکستان کو مالیاتی اصلاحات اور صاف ستھری ٹرانسپورٹ، دونوں کی ضرورت ہے۔ ان میں سے کسی بھی مقصد کو ٹیکس مساوات کی قیمت پر حاصل نہیں کیا جانا چاہیے۔ ملک کا ٹیکس نظام پہلے ہی ان لوگوں سے غیر متناسب طور پر زیادہ تقاضا کرتا ہے جو ٹیکس چھوٹ کے لیے مذاکرات یا دستاویزات سے بچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس عدم توازن کو آٹو موبائل مارکیٹ تک توسیع دینا صرف ایک ایسے وسیع تاثر کو مزید مضبوط کرے گا جسے ختم کرنا روز بروز مشکل ہوتا جارہا ہے: جب ٹیکس عائد کرنے کی بات آتی ہے تو سب سے بڑی رعایتیں اکثر ان لوگوں کو ملتی ہیں جنہیں ان کی سب سے کم ضرورت ہوتی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments