لاہور میں چوری کے الزام میں زیرِ حراست دو نوجوان خواتین کی پراسرار ہلاکتوں نے ایک بار پھر پاکستان میں پولیس حراست کے دوران ہونے والی اموات کے تشویشناک ریکارڈ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں احتساب کے مسلسل فقدان کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ ان خواتین پر الزامات خواہ کچھ بھی تھے، وہ ریاستی تحویل میں تھیں۔
کسی شخص کو حراست میں لیے جانے کے بعد اس کی حفاظت، صحت اور عزت و وقار کی مکمل ذمہ داری حکام پر عائد ہوتی ہے۔ لہٰذا ان خواتین کی ہلاکتوں کو محض ایک افسوسناک واقعہ قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی غیر تصدیق شدہ دعوؤں کے ذریعے اس کی توجیح پیش کی جا سکتی ہے۔ ریاست پر یہ ناقابلِ تردید ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ وضاحت کرے کہ ان خواتین کی حراست کے دوران آخر کیا ہوا۔
پولیس کے اعلیٰ حکام نے تشدد کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں خواتین طویل عرصے سے منشیات استعمال کرتی تھیں اور ممکنہ طور پر زیادہ مقدار میں منشیات لینے کے باعث ہلاک ہوئیں۔ تاہم ان دعوؤں کی تصدیق شفاف تحقیقات، پوسٹ مارٹم رپورٹس اور فرانزک شواہد کی بنیاد پر ہونا ابھی باقی ہے۔ یہ اطلاعات بھی سنجیدہ توجہ کی متقاضی ہیں کہ خواتین کو پولیس کے حوالے کیے جانے سے قبل مقامی افراد نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
یہ طے کیا جانا ضروری ہے کہ آیا پولیس اسٹیشن پہنچنے پر ان خواتین کا طبی معائنہ کیا گیا تھا، آیا دورانِ حراست ان کی حالت کی مناسب نگرانی کی گئی اور آیا زیرِ حراست افراد کے ساتھ برتاؤ سے متعلق طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیا گیا۔ یہ ایسے معاملات ہیں جن پر قیاس آرائی کے بجائے واضح اور قابلِ اعتماد جوابات درکار ہیں۔ یہ واقعہ اس لیے بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب لاہور کے ایک اور پولیس اسٹیشن میں ذہنی معذوری کی حامل لڑکی کے مبینہ ریپ کے الزامات کے باعث پولیس پر عوام کا اعتماد پہلے ہی متزلزل ہو چکا ہے۔ اگرچہ دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تاہم یہ دونوں واقعات مل کر پولیس اسٹیشنز میں کمزور ادارہ جاتی حفاظتی نظام اور ناکافی نگرانی کے حوالے سے خدشات کو مزید تقویت دیتے ہیں۔
حراست کے دوران ہونے والی ہر موت فوری، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ نہ صرف ایک قانونی ذمہ داری ہے بلکہ ادارے کی ساکھ کا امتحان بھی ہے۔ کسی بھی تحقیقات کو ایسے حکام کی مداخلت سے محفوظ رکھا جانا چاہیے جو ممکنہ طور پر اس واقعے میں ملوث ہوں جبکہ تحقیقات کے نتائج بھی عوام کے سامنے لائے جانے چاہئیں۔ اگر غفلت، بدسلوکی یا مجرمانہ طرزِ عمل ثابت ہوجائے تو ذمہ دار افراد کے خلاف محض معمول کی تبادلے یا محکمانہ کارروائی کے بجائے باقاعدہ قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ سانحہ نظام میں فوری اصلاحات کی ضرورت کو بھی اجاگر کرتا ہے جن میں زیرِ حراست افراد کا لازمی طبی معائنہ، پولیس اسٹیشنز میں مسلسل سی سی ٹی وی نگرانی، مؤثر آزادانہ نگرانی اور گرفتاری و حراست سے متعلق ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد شامل ہیں۔
انصاف کے نظام کی اصل آزمائش اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ سب سے زیادہ کمزور اور بے بس افراد کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔ ان دونوں خواتین کو کسی جرم میں سزا نہیں سنائی گئی تھی, وہ محض مشتبہ تھیں اور ان پر نسبتاً معمولی رقم اور زیورات چوری کرنے کا الزام تھا۔ ان کا قصور یا بے قصوری طے کرنا عدالت کا کام تھا۔ اس کے بجائے وہ ریاستی حراست میں ہلاک ہوگئیں۔ جب تک ایک غیر جانب دارانہ تحقیقات کے ذریعے حقائق سامنے نہیں آتے اور جہاں ضروری ہو وہاں ذمہ داروں کا احتساب نہیں کیا جاتا، ایسے واقعات فوجداری نظامِ انصاف پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرتے رہیں گے اور اس تاثر کو مزید تقویت ملے گی کہ پولیس میں بامعنی اصلاحات کا وعدہ تاحال پورا نہیں ہوسکا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments