BR100 Increased By (0.27%)
BR30 Increased By (0.52%)
KSE100 Increased By (0.37%)
KSE30 Increased By (0.19%)
BAFL 58.35 Increased By ▲ 0.19 (0.33%)
BIPL 27.35 Increased By ▲ 0.12 (0.44%)
BOP 34.86 Increased By ▲ 0.46 (1.34%)
CNERGY 12.99 Decreased By ▼ -0.12 (-0.92%)
DFML 18.69 Increased By ▲ 0.29 (1.58%)
DGKC 214.30 Increased By ▲ 0.64 (0.3%)
FABL 99.78 Increased By ▲ 0.22 (0.22%)
FCCL 57.90 Decreased By ▼ -0.16 (-0.28%)
FFL 16.33 Increased By ▲ 0.10 (0.62%)
GGL 24.19 Increased By ▲ 0.21 (0.88%)
HBL 330.52 Decreased By ▼ -7.64 (-2.26%)
HUBC 214.48 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 10.70 Increased By ▲ 0.12 (1.13%)
KEL 7.45 Increased By ▲ 0.02 (0.27%)
LOTCHEM 27.80 Increased By ▲ 0.13 (0.47%)
MLCF 103.11 Increased By ▲ 0.36 (0.35%)
OGDC 319.50 Increased By ▲ 0.58 (0.18%)
PAEL 43.25 Increased By ▲ 0.15 (0.35%)
PIBTL 16.74 Increased By ▲ 0.11 (0.66%)
PIOC 277.00 Increased By ▲ 4.00 (1.47%)
PPL 230.70 Increased By ▲ 1.25 (0.54%)
PRL 70.40 Decreased By ▼ -0.40 (-0.56%)
SNGP 104.67 Increased By ▲ 0.09 (0.09%)
SSGC 27.66 Increased By ▲ 0.25 (0.91%)
TELE 8.51 Decreased By ▼ -0.02 (-0.23%)
TPLP 15.87 Increased By ▲ 0.11 (0.7%)
TRG 60.50 Increased By ▲ 0.21 (0.35%)
UNITY 11.83 Increased By ▲ 0.11 (0.94%)
WTL 1.21 Increased By ▲ 0.01 (0.83%)
کاروبار اور معیشت

یورپی یونین نے جی ایس پی پلس اسکیم میں توسیع کا طریقہ کار تبدیل کر دیا، وزارت تجارت

  • یورپی یونین کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان سے متعلق مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کا ذکر کیا گیا ہے، جواد پال
شائع اپ ڈیٹ

وزارت تجارت نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کو آگاہ کیا ہے کہ یورپی یونین نے جی ایس پی پلس اسکیم میں توسیع کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے اور جنوری 2027 سے شروع ہونے والی نئی اسکیم میں خودکار توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جواد حنیف کی زیر صدارت ہوا، جس میں سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ جی ایس پی پلس کی نئی اسکیم جنوری 2027 سے نافذ ہوگی، تاہم اس کے لیے دو سالہ عبوری مدت رکھی گئی ہے۔ اس دوران متعلقہ ممالک کو اقوام متحدہ کے 32 کنونشنز پر عملدرآمد کے ایکشن پلان کے ساتھ توسیع کی باضابطہ درخواست جمع کرانا ہوگی، جس کا یورپی یونین جائزہ لے گی۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان سے متعلق مثبت اور منفی دونوں پہلوؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں انسانی حقوق، سیکیورٹی اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم اس میں یہ بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان کو سیکیورٹی، معاشی مشکلات اور سیلاب جیسے موسمیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے باعث متعدد شعبوں میں عملدرآمد کی صلاحیت متاثر ہوئی ہے۔

سیکریٹری تجارت نے کمیٹی اراکین سے درخواست کی کہ وہ یورپی پارلیمنٹ کے ارکان سے ملاقاتوں کے دوران پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو موجودہ سیکیورٹی حالات کے پیش نظر بعض بنیادی اقدامات کرنا پڑتے ہیں، کیونکہ پاکستان کے حالات یورپی ممالک سے مختلف ہیں۔

اجلاس میں کمیٹی کے ارکان اسد عالم خان نیازی، خورشید احمد جونیجو، شائستہ پرویز، ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی، طاہرہ اورنگزیب، میر امیر مگسی، ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ اور کرن حیدر نے شرکت کی۔ کمیٹی نے وزیر تجارت کی مسلسل عدم موجودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

وزارت تجارت کے حکام نے کمیٹی کو قومی ٹیرف پالیسی کے تحت جاری اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت درآمدی ڈیوٹیز اور ٹیکسوں میں کمی کے ذریعے صنعتوں اور برآمدات کو زیادہ مسابقتی بنانے پر کام کر رہی ہے۔ گزشتہ سال دو ہزار ٹیرف لائنز پر ڈیوٹیز کم کی گئیں تاکہ خام مال سستا دستیاب ہو سکے۔

سیکریٹری تجارت نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال حکومت نے صنعت اور برآمد کنندگان کو 160 ارب روپے کی سہولت فراہم کی، جبکہ مالی سال 2026-27 کے لیے 120 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق اس پیکیج کے نتیجے میں مالی سال 2025-26 کے دوران برآمدات میں 1.27 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں درآمدات بڑھ سکتی ہیں، تاہم پیداوار اور برآمدات میں اضافے سے تجارتی توازن بہتر ہو جائے گا۔

اجلاس میں پاک چین آزاد تجارتی معاہدے کے پاکستان کے تجارتی خسارے پر اثرات کا بھی جائزہ لیا گیا اور وزارت تجارت سے اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ طلب کی گئی۔ کمیٹی نے پاکستان اور امریکا کے درمیان حالیہ تجارتی مذاکرات پر بھی ان کیمرا بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا۔

قائمہ کمیٹی نے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ، ایکسپورٹ فنانس اسکیم، پاکستان ری انشورنس کمپنی، ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ میں مجوزہ ترامیم اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کی مالی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس کراچی میں منعقد کیا جائے گا، جہاں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے دفاتر کا دورہ بھی کیا جائے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف