BR100 Increased By (1.02%)
BR30 Increased By (1.68%)
KSE100 Increased By (0.98%)
KSE30 Increased By (1.06%)
BAFL 59.16 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
BIPL 27.26 Increased By ▲ 0.20 (0.74%)
BOP 36.00 Increased By ▲ 1.25 (3.6%)
CNERGY 11.25 Increased By ▲ 0.19 (1.72%)
DFML 18.08 Decreased By ▼ -0.03 (-0.17%)
DGKC 220.19 Increased By ▲ 3.20 (1.47%)
FABL 100.55 Decreased By ▼ -1.79 (-1.75%)
FCCL 56.88 Increased By ▲ 0.46 (0.82%)
FFL 16.51 Increased By ▲ 0.10 (0.61%)
GGL 23.90 Increased By ▲ 0.09 (0.38%)
HBL 325.60 Increased By ▲ 3.56 (1.11%)
HUBC 223.58 Increased By ▲ 2.06 (0.93%)
HUMNL 10.75 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.10 (1.37%)
LOTCHEM 27.20 Increased By ▲ 0.08 (0.29%)
MLCF 103.09 Increased By ▲ 5.15 (5.26%)
OGDC 318.49 Increased By ▲ 2.19 (0.69%)
PAEL 44.38 Increased By ▲ 2.08 (4.92%)
PIBTL 16.90 Increased By ▲ 0.12 (0.72%)
PIOC 275.86 Increased By ▲ 6.48 (2.41%)
PPL 222.48 Increased By ▲ 1.79 (0.81%)
PRL 63.81 Increased By ▲ 0.16 (0.25%)
SNGP 104.91 Decreased By ▼ -1.33 (-1.25%)
SSGC 27.25 Increased By ▲ 0.17 (0.63%)
TELE 8.81 Increased By ▲ 0.08 (0.92%)
TPLP 14.97 Increased By ▲ 0.19 (1.29%)
TRG 62.37 Increased By ▲ 0.96 (1.56%)
UNITY 11.90 Increased By ▲ 0.76 (6.82%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.02 (-1.61%)
رائے

لین دین کی سطح پر تحقیقات پاکستان کے بینکاری اصلاحاتی ایجنڈے کا اگلا مرحلہ کیوں بننی چاہئیں؟

  • اس پیمانے کی اصلاحات جتنی اہم ہوتی ہیں، اتنے ہی بڑے خطرات بھی اپنے ساتھ لاتی ہیں
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کا بینکاری شعبہ ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) محض مشاورتی سرکلرز جاری کرنے سے آگے بڑھ کر ڈیجیٹل فراڈ کی روک تھام، بائیومیٹرک تصدیق اور منی لانڈرنگ کے خلاف اقدامات سے متعلق لازمی اور مقررہ مدت پر مبنی ضابطہ جاتی نظام نافذ کر چکا ہے۔ کسی بھی غیرجانبدارانہ معیار سے دیکھا جائے تو یہ ایک مثبت اور ناگزیر پیش رفت ہے۔ مرکزی بینک کی سخت ریگولیٹری نگرانی ڈیجیٹلائزیشن کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتی بلکہ درحقیقت اسی کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

جب صارفین کو یہ یقین ہو کہ ڈیجیٹل طور پر منتقل کیا گیا ہر روپیہ محفوظ بھی ہے تو وہ زیادہ لین دین کرتے، زیادہ بچت کرتے اور رسمی بینکاری نظام سے زیادہ وابستہ ہوتے ہیں۔ یہی مالیاتی شمولیت کی بنیادی حکمت عملی ہے۔ ماضی میں گھروں میں نقد رقم محفوظ رکھنے والے افراد اسی وقت رسمی بینکاری نظام کا رخ کریں گے جب انہیں یقین ہوگا کہ یہ نظام صرف ان کے لین دین کا ریکارڈ ہی نہیں رکھتا بلکہ ان کے سرمائے کا تحفظ بھی کرتا ہے۔

تاہم اس نوعیت کی وسیع اصلاحات اپنے ساتھ نئے خطرات بھی لے کر آتی ہیں۔ جوں جوں ڈیجیٹل ذرائع — جیسے موبائل والٹس، فوری ادائیگیوں کے نظام، کیو آر کوڈ پر مبنی مرچنٹ ادائیگیاں اور برانچ لیس بینکاری — پھیل رہے ہیں، غیر ریاستی فراڈ نیٹ ورکس کے لیے مواقع بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ روایتی معنوں میں بینکوں کے سرورز ہیک کرنے والے افراد نہیں بلکہ سماجی دھوکا دہی (سوشل انجینئرنگ)، سم سوئپ، جعلی سرمایہ کاری اسکیموں اور فشنگ گروہوں کے ذریعے فراڈ کرنے والے عناصر ہیں، جو خاص طور پر ان نئے صارفین کو نشانہ بناتے ہیں جو پہلی بار ڈیجیٹل بینکاری سے وابستہ ہو رہے ہیں اور جنہیں مالیاتی شمولیت کی پالیسی نظام میں لانا چاہتی ہے۔

مرکزی بینک بظاہر اس توازن کو بخوبی سمجھتا ہے، اسی لیے بائیومیٹرک تصدیق، فراڈ سے متعلق شکایات کے ازالے کے طریقہ کار اور سیکیورٹی رپورٹنگ جیسے ضابطے تیزی سے متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ نیت درست ہے، اب اصل امتحان مؤثر عمل درآمد کا ہے۔

گمشدہ کڑی: لین دین کی سطح پر تحقیقات

پاکستان میں ڈیجیٹل فراڈ پر ہونے والی زیادہ تر بحث فراڈ کی نشاندہی تک محدود رہتی ہے، یعنی ایسے خودکار نظام جو مشکوک لین دین کو فوری طور پر شناخت کر لیتے ہیں۔ یہ مرحلہ ضروری ضرور ہے، مگر کافی نہیں۔ کسی مشکوک لین دین کی نشاندہی اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب اس کے بعد مکمل تحقیقات بھی کی جائیں۔

اصل ضرورت لین دین کی سطح پر تفتیش کی ہے، یعنی رقوم کی نقل و حرکت کا سراغ لگانا، فراڈ کے لیے استعمال ہونے والے ’میول اکاؤنٹس‘ کی شناخت کرنا اور اس پورے سلسلے کو دوبارہ ترتیب دینا جس میں صارف کے دھوکا کھانے سے لے کر اس کے اکاؤنٹ سے رقم نکلنے تک کے تمام مراحل شامل ہوں۔ یہی وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان کے اداروں کو ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔

یہ صلاحیت پیدا کرنا محض ظاہری بہتری نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے لیے بینکوں کو ایسے خصوصی تحقیقاتی یونٹس قائم کرنا ہوں گے جن میں ایسے ماہرین موجود ہوں جو لین دین کے ریکارڈ کو اسی طرح پڑھ سکیں جیسے کوئی تفتیش کار جائے وقوعہ کا جائزہ لیتا ہے۔ انہیں ڈیوائس ڈیٹا، آئی پی لاگز، وصول کنندہ اکاؤنٹس کی سابقہ سرگرمیوں اور صارفین کے رویوں کا باہمی تجزیہ کر کے ایسا مضبوط کیس تیار کرنا ہوگا جو ریگولیٹر، عدالت یا اپنے سرمائے کی واپسی کے منتظر صارف، ہر ایک کے سامنے قابلِ قبول ہو۔

اسی تناظر میں مرکزی بینک کی حالیہ ہدایات غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہیں۔ فراڈ سے متعلق شکایات کے منظم ازالے، مقررہ مدت میں فیصلے اور تاخیر کی صورت میں ادارہ جاتی جوابدہی کو لازمی قرار دے کر اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو عملی طور پر اپنی تحقیقاتی صلاحیتیں مضبوط بنانے پر مجبور کر دیا ہے۔

اگر لین دین کی سطح پر تحقیقات کا مؤثر نظام قائم ہو جائے تو اس کے تین بڑے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اول، متاثرہ صارف کی رقم جلد واپس ملنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ دوم، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراڈ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کے لیے مضبوط شواہد میسر آتے ہیں۔ سوم، ان تحقیقات سے حاصل ہونے والی معلومات مستقبل میں فراڈ کی بہتر شناخت کے لیے استعمال ہونے والے نظام کو مزید مؤثر بناتی ہیں۔ ان میں سے ہر ایک فائدہ اپنی جگہ سرمایہ کاری کا جواز فراہم کرتا ہے، جبکہ مجموعی طور پر یہ اس کی ناگزیر اہمیت ثابت کرتے ہیں۔

غیر بینکاری آبادی کے لیے ایک اسٹریٹجک قدم

اگر یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہو جائے تو اس کے اثرات نہایت دور رس ہوں گے۔ پاکستان میں اب بھی بڑی تعداد میں ایسے افراد موجود ہیں جو رسمی بینکاری نظام سے باہر ہیں، اور مالیاتی نظام پر اعتماد بڑھانے والی ہر اصلاح دراصل انہیں غیر رسمی معیشت سے نکل کر بینکاری نظام کا حصہ بننے کی دعوت دیتی ہے۔

اگر پہلی مرتبہ بینک اکاؤنٹ کھولنے والا شخص یہ سنتا ہے کہ اس کے پڑوسی کی فراڈ شکایت کا فوری اور منصفانہ ازالہ ہوا تو اس کے بینکاری نظام پر اعتماد میں اضافہ ہوگا۔ اس اعتبار سے لین دین کی سطح پر سخت اور مؤثر تحقیقات محض دفاعی انتظام نہیں بلکہ بینکاری شعبے کی ترقی کی حکمت عملی بھی ہیں۔ ایک ایسی منڈی میں جہاں رسمی مالیاتی نظام پر بداعتمادی اب بھی خاصی گہری ہے، خصوصاً خواتین، چھوٹے تاجروں اور دیہی آبادی میں، صارفین کا اعتماد ہی ڈیجیٹل بینکاری کے فروغ کا سب سے طاقتور ذریعہ بن سکتا ہے۔

سست روی کی قیمت

اس تمام پیش رفت کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ بینکوں کو اب ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا۔ مرکزی بینک کی جانب سے نئے ضابطہ جاتی تقاضے مسلسل سامنے آ رہے ہیں، مگر کئی اداروں میں سرکلر کے اجرا اور حقیقی معنوں میں مؤثر عمل درآمد کے درمیان اب بھی نمایاں فرق موجود ہے۔ محض کاغذی تعمیل کافی نہیں، بلکہ بینک کی روزمرہ سرگرمیوں میں ہر سطح پر ان ضوابط پر عمل نظر آنا چاہیے۔

عمل درآمد کو صرف کمپلائنس ڈپارٹمنٹ کی دستاویزی کارروائی نہیں سمجھا جا سکتا۔ اسے بینک کے ہر شعبے کی عملی ذمہ داری بنانا ہوگا، خواہ وہ کال سینٹر کا نمائندہ ہو جو کسی متاثرہ صارف کی پہلی شکایت سنتا ہے یا وہ سینئر تفتیش کار جو کئی ماہ بعد فراڈ کے پورے سلسلے کی چھان بین کرتا ہے۔

اسی لیے اعلیٰ سطح کی تربیت کو رسمی سالانہ سرگرمی کے بجائے مسلسل عمل بنانا ناگزیر ہے۔ تحقیقاتی افسران، برانچ مینیجرز اور ریلیشن شپ افسران سب کو جدید فراڈ کے طریقہ کار سے مکمل آگاہی ہونی چاہیے، جن میں جعلی شناخت کے ذریعے کالز، فرضی سرمایہ کاری کے لنکس، محبت یا ملازمت کے نام پر فراڈ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ آواز اور ویڈیوز کے ذریعے صارفین کو دھوکا دینا شامل ہے۔

جو عملہ ان نئے فراڈ طریقوں کو پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، وہ اپنے سامنے موجود صارف کا تحفظ بھی نہیں کر سکتا، چاہے بینک کے پس پردہ نگرانی کے نظام کتنے ہی جدید کیوں نہ ہوں۔

’ذمہ داری‘ بطور ثقافت، محض ضابطہ جاتی تقاضا نہیں

شاید اس وقت بینکوں کو سب سے بڑی تبدیلی تکنیکی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ثقافت میں لانے کی ضرورت ہے۔ فراڈ سے آگاہی کو سال میں ایک بار مکمل کیے جانے والے آن لائن تربیتی کورس تک محدود نہیں رہنا چاہیے، جسے ملازمین صرف آڈٹ کی رسمی شرط پوری کرنے کے لیے مکمل کرتے ہیں۔

اسے ”ذمہ داری“ کا ایسا احساس بنانا ہوگا جو ادارے کی ثقافت کا حصہ ہو اور ہر سطح پر ہر ملازم یہ سمجھے کہ صارف کے تحفظ میں اس کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید فراڈ کے بدلتے طریقوں کے مطابق باقاعدہ اور لازمی تربیت، ادارے کے اندر آگاہی مہمات جن میں فراڈ سے تحفظ کو منی لانڈرنگ کی روک تھام کی تربیت جتنی اہمیت دی جائے، اور ایسی قیادت درکار ہے جو اس معاملے کو اپنی ترجیح بنائے، نہ کہ اسے صرف رسک مینجمنٹ کے ایسے شعبے کے سپرد کر دے جو صارفین سے براہِ راست رابطے سے دور ہو۔

ایسا بینک جہاں ہر ملازم خود کو صارف کے تحفظ کا ذاتی طور پر ذمہ دار سمجھے، فراڈ کی روک تھام میں ہمیشہ اس ادارے سے بہتر کارکردگی دکھائے گا جہاں یہ ذمہ داری صرف کسی ایک شعبے تک محدود ہو۔

آگے کا راستہ

گزشتہ تین برسوں کے دوران جاری کیے گئے مسلسل ضابطہ جاتی اقدامات سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اس مساوات کے دونوں پہلوؤں کو بخوبی سمجھتا ہے۔ ایک طرف ڈیجیٹلائزیشن سے پیدا ہونے والے مواقع ہیں اور دوسری جانب اس کے ساتھ وابستہ خطرات۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ بینک بھی اسی عجلت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ انہیں لین دین کی سطح پر مؤثر تحقیقاتی صلاحیتیں قائم کرنا ہوں گی، اصلاحات کے اعلان اور ان کے عملی نفاذ کے درمیان موجود خلا کو کم کرنا ہوگا، اور فراڈ سے آگاہی کو محض ضابطہ جاتی تقاضے کے بجائے ادارہ جاتی ثقافت کا حصہ بنانا ہوگا۔

اگر پاکستان کے بینک اس سمت میں کامیاب ہو گئے تو ملک میں خاموشی سے جاری بینکاری انقلاب نہ صرف مزید مضبوط ہوگا بلکہ اسے وہ سرمایہ بھی حاصل ہوگا جو کوئی قانون یا ضابطہ زبردستی پیدا نہیں کر سکتا: عام پاکستانی صارف کا پائیدار، محنت سے حاصل کیا گیا اعتماد۔

Comments

200 حروف