ماہرین کا پاکستان کے کان کنی کے شعبے کی جامع ڈیجیٹل اصلاحات پر زور
- ماہر کا کہنا ہے کہ کان کنی کا شعبہ ڈیجیٹل ترقی کے لحاظ سے اب بھی دیگر صنعتوں سے پیچھے ہے
ماہرین نے پاکستان کے کان کنی کے شعبے میں جامع ڈیجیٹل تبدیلی پر زور دیتے ہوئے حکومت اور صنعت پر زور دیا ہے کہ وہ ڈیٹا پر مبنی جدت اور باہمی تعاون کو محور بنا کر ایک مؤثر فریم ورک تشکیل دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کان کنی کا شعبہ اب بھی ڈیجیٹل ترقی کے حوالے سے دیگر صنعتوں کے مقابلے میں پیچھے ہے۔
ان خیالات کا اظہار جمعرات کو کراچی میں منعقدہ مائننگ ٹیکنیکل کانفرنس 2026 کے دوران کیا گیا۔ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) کی جانب سے منعقدہ کانفرنس کا موضوع ”اشتراک، جدت اور ٹیکنالوجی کے ذریعے پاکستان کے کان کنی کے شعبے کو آگے بڑھانا“ تھا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی ایم ٹی جرمنی کے سینئر پراجیکٹ مینیجر فلوریان بائر نے کہا، ”کان کنی کا شعبہ اب بھی ڈیجیٹل ترقی کے لحاظ سے دیگر صنعتوں سے پیچھے ہے۔ ڈیجیٹل حکمت عملی اور اس پر عمل درآمد کے درمیان نمایاں خلا موجود ہے۔“
فلوریان بائر نے کہا، ”ڈیجیٹلائزیشن کی راہ میں حائل رکاوٹیں صرف اس صنعت کی فطری خصوصیات تک محدود نہیں بلکہ کمپنیوں کے تنظیمی ڈھانچے اور ادارہ جاتی ثقافت بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔“
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے ایسا فریم ورک درکار ہے جو ڈیٹا پر مبنی جدت، مربوط نظام اور باہمی تعاون پر مبنی مہارتوں کے ماحولیاتی نظام پر استوار ہو۔
انہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ایک اہم شعبے مشین لرننگ (ایم ایل) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کمپیوٹرز کو روایتی انداز میں پروگرام کرنے کے بجائے ڈیٹا سے سیکھنے کی صلاحیت دی جاتی ہے۔ ”جوں جوں نظام کو مزید مثالیں ملتی ہیں، وہ خودکار طور پر بہتر ہوتا جاتا ہے، مثلاً کسی مشین کی خرابی سے قبل دیکھ بھال کے وقت کی پیش گوئی کرنا۔“
دریں اثنا، سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) کے نائب صدر برائے تکنیکی امور و خریداری فیصل اقبال صدیقی نے کہا کہ مستقبل کی کان کنی کے لیے افرادی قوت کی تیاری اور افراد و ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب عملہ ان جدید نظاموں کو چلانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
انہوں نے بتایا، ”ایس ای سی ایم سی نے ایکسکیویٹرز اور ہال ٹرکس کے آپریٹرز کی تربیت کے لیے سمیولیٹر پر مبنی تربیتی نظام متعارف کرایا ہے۔“
کانفرنس میں کان کنی کے شعبے کے وژن اور مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کوماتسو مڈل ایسٹ کے مائننگ بزنس ڈویژن کے ڈائریکٹر مائیکل میٹسن نے کہا، ”ہماری کوشش یہ ہے کہ مینوفیکچرنگ اور ٹیکنالوجی میں جدت کے ذریعے ایسی قدر پیدا کی جائے جو ایک پائیدار مستقبل کی بنیاد رکھے، جہاں انسان، کاروبار اور کرۂ ارض سب یکساں طور پر ترقی کریں۔“
انہوں نے خودکار نظام، پائیداری اور مختلف نظاموں کے باہمی انضمام (انٹرآپریبلٹی) کے قابلِ اعتماد حلوں کے ذریعے کان کنی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کان کنی کے پورے نظام میں ڈیجیٹل حلوں کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سطحی کان کنی، پتھر کی کانوں، زیرِ زمین کان کنی اور افرادی قوت کی استعداد بڑھانے جیسے شعبوں کا بھی جائزہ پیش کیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مائننگ ٹیکنیکل کانفرنس ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جس نے صنعت، جامعات اور ٹیکنالوجی جیسے تین اہم شعبوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا ہے، جو مستقبل میں پاکستان کے کان کنی کے شعبے کی سمت متعین کریں گے۔
انہوں نے کہا، ”پاکستان کے پاس معدنی وسائل کے وسیع مگر غیر استعمال شدہ ذخائر موجود ہیں، جن کی ترقی کے لیے سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی ناگزیر ہے۔ سندھ حکومت نے اس ضرورت کو بروقت محسوس کرتے ہوئے ایسا پالیسی فریم ورک تشکیل دیا جس سے اس شعبے میں نمایاں تبدیلی آئی۔ اس صنعت کا مستقبل ایسے انسانی وسائل کی تیاری سے وابستہ ہے جو آنے والی کئی دہائیوں تک اس شعبے کی قیادت کر سکیں۔ میں کمپنیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ صرف مشینری اور کان کنی ہی نہیں بلکہ افرادی قوت پر بھی سرمایہ کاری کریں۔“
مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تھر کے کوئلے کی ترقی کے لیے قانونی اور پالیسی فریم ورک فراہم کیا، جس کے نتیجے میں اس وقت دو بلاکس فعال ہیں، جن میں ایک ایس ای سی ایم سی چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی وسائل کے استعمال سے اب تک 3.2 ارب ڈالر کی بچت ہوئی، جو بصورتِ دیگر مہنگا ایندھن درآمد کرنے پر خرچ ہوتے۔
انہوں نے کہا، ”اگر پاکستان کے معدنی وسائل کو ذمہ دارانہ سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے ذریعے ترقی دی جائے تو یہ روزگار، صنعتی ترقی اور قومی معیشت کے لیے بے پناہ قدر پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت قومی معیشت اور مقامی آبادی کے لیے دیرپا فوائد پیدا کرنے والی ذمہ دارانہ سرمایہ کاری اور شراکت داری کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گی۔
ایس ای سی ایم سی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر اقبال نے کہا کہ عالمی کمپنیاں پاکستان کے وسیع مگر غیر ترقی یافتہ معدنی وسائل میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے منتظم کی حیثیت سے کمپنی کا مقصد ایسا مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا جہاں مختلف شعبوں سے وابستہ فریق ادارہ جاتی حدود سے بالاتر ہو کر کان کنی کے شعبے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل وضع کر سکیں۔
عامر اقبال نے کہا، ”ہماری ذمہ داری تھی کہ تمام متعلقہ شراکت داروں کو ایک میز پر اکٹھا کریں۔ کان کنی کی کمپنیاں عملی تجربہ رکھتی ہیں، جامعات تحقیق اور علمی مہارت فراہم کرتی ہیں، ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے جدید حل پیش کرتے ہیں جبکہ حکومت پالیسی کی سمت متعین کرتی ہے۔ جب یہ تمام صلاحیتیں یکجا ہوتی ہیں تو حقیقی پیش رفت ممکن بنتی ہے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”کوئی ایک ادارہ تنہا پاکستان کے کان کنی کے شعبے میں تبدیلی نہیں لا سکتا۔ اس کے لیے ایسے پائیدار اشتراک کی ضرورت ہے جو عملی تجربے، علمی تحقیق، حکومتی معاونت اور عالمی تکنیکی مہارت کو یکجا کرے۔“


Comments