لیسکو اور میپکو کو دو یا تین ڈسکوز میں تقسیم کرنے کی تجویز، تکنیکی کمیٹی قائم
- ذرائع کے مطابق دونوں کمپنیوں کی کارکردگی پنجاب کی دیگر ڈسکوز کے مقابلے میں نسبتاً کمزور رہی ہے
وزارت نجکاری نے لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کو نجکاری سے قبل دو یا تین چھوٹی بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) میں تقسیم کرنے کے امکان کا جائزہ لینے کے لیے ایک تکنیکی کمیٹی قائم کر دی ہے، کیونکہ دونوں کمپنیاں تمام ڈسکوز میں سب سے بڑے سروس ایریا کی حامل ہیں۔ باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس اقدام کا مقصد نجکاری کے عمل کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
تکنیکی کمیٹی میں پرائیویٹائزیشن کمیشن کے پاور ایڈوائزر ساجد اکرم کو چیئرمین مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ارکان میں پاور ڈویژن کے جوائنٹ سیکریٹری (نجکاری) غلام رسول، نیپرا کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ٹیرف عمران حفیظ اور پی پی ایم سی کے منیجنگ ڈائریکٹر عابد لودھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق دونوں کمپنیوں کی کارکردگی پنجاب کی دیگر ڈسکوز کے مقابلے میں نسبتاً کمزور رہی ہے، خاص طور پر بجلی چوری، لائن لاسز اور واجبات کی وصولی کے شعبوں میں۔
میپکو 1998 میں کمپنیز آرڈیننس 1984 کے تحت قائم کی گئی ایک سرکاری، غیر فہرست شدہ کمپنی ہے، جس کی ملکیت وزارت توانائی کے ذریعے حکومت پاکستان کے پاس ہے۔ یہ نیپرا کی جانب سے جاری مستقل ڈسٹری بیوشن لائسنس کے تحت جنوبی پنجاب کے 13 انتظامی اضلاع کو بجلی فراہم کرتی ہے۔
کمپنی کا انتظام بورڈ آف ڈائریکٹرز کے سپرد ہے، جس کی معاونت چار ذیلی کمیٹیاں کرتی ہیں، جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ریاستی ملکیتی ادارہ جات (ایس او ای) ایکٹ اور دیگر وفاقی ضوابط کے مطابق ادارے کی حکمت عملی پر عمل درآمد کی نگرانی کرتے ہیں۔
صارفین کی تعداد کے لحاظ سے میپکو پاکستان کی سب سے بڑی بجلی تقسیم کار کمپنی ہے، جو تقریباً 8.76 ملین صارفین کو خدمات فراہم کرتی ہے۔ اس کا نیٹ ورک 82 ہزار کلومیٹر سے زائد تقسیمی لائنوں اور 780 سے زیادہ گرڈ اسٹیشنز پر مشتمل ہے، جو تین صوبوں کی سرحدوں اور متعدد ڈسکوز سے متصل علاقوں تک پھیلا ہوا ہے۔
کمپنی کا ہدف محفوظ، قابل اعتماد اور کم لاگت بجلی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ریکوری بہتر بنا کر اور نقصانات کم کر کے مالی استحکام برقرار رکھنا ہے۔ اس مقصد کے لیے میپکو ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (اے ایم آئی) اور ڈیجیٹل بلنگ سسٹم کے ذریعے گرڈ کی جدیدکاری پر کام کر رہی ہے تاکہ شفافیت اور صارفین کی سہولت میں اضافہ ہو۔
دوسری جانب لیسکو نے جولائی 1998 میں کمپنیز آرڈیننس 1984 (موجودہ کمپنیز ایکٹ 2017) کے تحت ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر کام شروع کیا۔ کمپنی کا انتظامی ڈھانچہ غیر مرکزی نوعیت کا ہے، جہاں بورڈ آف ڈائریکٹرز پالیسی نگرانی کرتا ہے جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر مجموعی آپریشنز کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔
فیلڈ آپریشنز کے لیے لیسکو کے سروس ایریا کو 8 آپریشن سرکلز میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کی سربراہی سپرنٹنڈنگ انجینئرز (ایس ایز) کرتے ہیں، جبکہ 41 ڈویژنز ایگزیکٹو انجینئرز (ایکسین) کے زیر انتظام ہیں۔
لیسکو لاہور اور ملحقہ اضلاع، جن میں قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ شامل ہیں، میں تقریباً 7.05 ملین گھریلو، تجارتی، صنعتی، بلک سپلائی، ٹیوب ویل اور جنرل سروس صارفین کو بجلی فراہم کرتی ہے۔
حالیہ برسوں میں لیسکو نے اپنے نظام کو جدید بنانے کے لیے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب کا منصوبہ شروع کیا ہے، جس کا ہدف 2029 تک تمام صارفین کو اسمارٹ میٹرز پر منتقل کرنا ہے۔ تاہم کمپنی کو ٹرانسفارمرز اور میٹرز کی قلت جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس کے باعث نئے کنکشنز اور خراب میٹرز کی تبدیلی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ اس صورتحال پر نیپرا نے بھی توجہ دی ہے جبکہ صارفین کی جانب سے شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔
نئے کنکشنز کے عمل کو تیز کرنا، شکایات کے ازالے کے نظام کو بہتر بنانا اور ڈیجیٹل بلنگ سروسز کو وسعت دینا لیسکو کی جاری اصلاحات کا حصہ ہیں تاکہ بڑھتی ہوئی طلب اور بنیادی ڈھانچے کی محدود صلاحیت کے درمیان توازن قائم کیا جا سکے۔
مالی سال 2024-25 کے آڈٹ کے مطابق دونوں ڈسکوز کی کارکردگی غیر تسلی بخش رہی۔
تکنیکی کمیٹی کے ٹی او آرز میں شامل ہے:(i)لیسکو اور میپکو کو چھوٹی کمپنیوں میں تقسیم کرنے کی فزیبلٹی کا جائزہ لینا۔(ii)نیشنل الیکٹرسٹی پلان، پاور پالیسی اور جاری نجکاری پروگرام کی روشنی میں اس تنظیمِ نو کے ممکنہ فوائد اور نقصانات کا تجزیہ کرنا۔(iii)یہ جائزہ لینا کہ آیا اس سے قبل بھی ایسی کوئی کمیٹی قائم کی گئی تھی، اور اگر ہاں تو اس کی سفارشات اور نتائج کیا تھے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments