راول ڈیم میں حالیہ مچھلیوں کی ہلاکتیں ماحولیاتی غفلت کے بڑھتے ہوئے سنگین نتائج کو نمایاں کرتی ہیں۔ اگرچہ پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک ای پی اے) فوری وجہ کی تصدیق کے لیے لیبارٹری رپورٹ کی منتظر ہے تاہم بنیادی مسئلے کے بارے میں کسی قسم کا ابہام نہیں۔بغیر صفائی کے چھوڑا جانے والا سیوریج، پلاسٹک کی آلودگی، جھیل میں مٹی کے جمع ہونے اور برسوں کی انتظامی بے عملی نے ملک کے اہم ترین میٹھے پانی کے ذخائر میں سے ایک کی ماحولیاتی صحت کو مسلسل نقصان پہنچایا ہے۔
ہلاک ہونے والی مچھلیاں دراصل ایک وسیع تر ماحولیاتی بحران کی سب سے نمایاں علامت ہیں۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کے بعض علاقوں کیلئے پینے کے پانی کے ایک اہم ذمے کے طور پر جھیل کی ابتر ہوتی حالت کے اثرات حیاتیاتی تنوع سے آگے بڑھ کر عوامی صحت، پانی کی سلامتی اور شہری پائیداری تک پھیلے ہوئے ہیں۔
پاک ای پی اے کا یہ جائزہ کہ سیوریج اور ڈٹرجنٹس کے بڑھتے ہوئے اخراج سے پانی میں تحلیل شدہ آکسیجن کی مقدار کم ہو جاتی ہے جس کے نتیجے میں مچھلیاں دم گھٹنے سے ہلاک ہو جاتی ہیں، ہرگز حیران کن نہیں۔ اس سے قبل جھیل کے کناروں سے اسپتالوں کا فضلہ، استعمال شدہ سرنجیں اور بڑی مقدار میں پلاسٹک کا کچرا ملنا بھی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ کوئی ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ مسلسل جاری رہنے والی آلودگی کا نتیجہ ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ کورنگ دریا (کورنگ نالہ) اور جھیل میں گرنے والے متعدد چھوٹے ندی نالوں میں اب بھی بغیر ٹریٹمنٹ کے گندا پانی مسلسل چھوڑا جا رہا ہے جو اس آبی ذخیرے کی آلودگی میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
راول ڈیم میں مچھلیوں کا بار بار مرنا، آلودگی کے بڑھتے ہوئے شواہد کے ساتھ ملکر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آلودگی برداشت کرنے کی جھیل کی صلاحیت کب کی ختم ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود سرکاری ردعمل زیادہ تر روایتی اور بعد از وقت رہا ہے جہاں حکام اس وقت حرکت میں آتے ہیں جب ماحولیاتی نقصان کو نظر انداز کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔
جھیل کے بالائی حصے میں سیوریج کی صفائی کا طویل التوا کا شکار پلانٹ اس لیے نہ صرف قابلِ ترجیح بلکہ ناگزیر ہے۔ اگرچہ حکومت نے بالآخر فنڈز کی منظوری دے دی ہے لیکن موجودہ مالی سال کے لیے مختص رقم پروجیکٹ کی کل لاگت کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے جو اس جائز خدشے کو جنم دیتا ہے کہ تکمیل میں ابھی کئی سال باقی ہوسکتے ہیں۔ ہر تاخیر آلودگی کو جمع ہونے کا موقع دیتی ہے جس سے ماحولیاتی نقصان اور بحالی کی حتمی لاگت دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگرچہ حالیہ صفائی مہم جس کے دوران جھیل کے گردونواح سے تقریباً دو ٹن کچرا نکالا گیا تعریف کی مستحق ہے، رضاکارانہ مہم اور وقفے وقفے سے صفائی مؤثر گورننس کا متبادل نہیں ہوسکتیں۔ راول ڈیم کے تحفظ کے لیے پانی صاف کرنے کے فعال کارخانوں، باقاعدہ ڈیسِلٹنگ، ٹھوس فضلے کے مؤثر انتظام، پانی کے معیار کی مسلسل مانیٹرنگ اور غیر قانونی کوڑا پھینکنے کے خلاف سخت نفاذ کی ضرورت ہے۔
راول ڈیم میں بار بار آنے والا بحران گورننس کی ایک وسیع تر ناکامی کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ واٹر شیڈ کے تحفظ کی ذمہ داری صوبائی اور میونسپل حدود میں کام کرنے والی متعدد ایجنسیوں کے درمیان بٹی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اکثر جوابدہی کا فقدان رہتا ہے۔ چونکہ آلودگی کا بیشتر حصہ بالائی علاقوں سے آتا ہے، اس لیے اس آبی ذخیرے کی حفاظت کے لیے وفاقی اور صوبائی حکام کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور مقامی انتظامیہ کے درمیان مسلسل ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔
آنے والی لیبارٹری رپورٹ مچھلیوں کی حالیہ اموات کی فوری وجہ کی نشاندہی کرسکتی ہے لیکن بنیادی وجوہات سالوں سے عیاں ہیں۔ پاکستان میں ماحولیاتی تشخیص کی کوئی کمی نہیں بلکہ کمی بروقت نفاذ کی ہے، جب تک سیوریج ٹریٹمنٹ کے بنیادی ڈھانچے کو مزید تاخیر کے بغیر مکمل نہیں کیا جاتا اور واٹر شیڈ کا تحفظ ایک حقیقی پالیسی کی ترجیح نہیں بنتا راول ڈیم کا ماحولیاتی زوال جاری رہے گا جس کے نتائج بالآخر قدرت اور عوام دونوں کو بھگتنا ہونگے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments