زرعی پیداواری صلاحیت کا مسئلہ
وزیراعظم کا برآمدات میں اضافے کے اہداف کے مرکز میں زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں کو رکھنا درست اقدام ہے۔ بہت کم شعبے ایسے ہیں جو موجودہ حجم، روزگار کے مواقع، پیداواری صلاحیت اور نسبتاً تیزی سے ترقی کے امکانات کے لحاظ سے ایسی ہی جامع صلاحیت رکھتے ہوں۔
پاکستان کو زراعت کی صلاحیت دریافت کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ صلاحیت پہلے ہی موجود ہے۔ زیادہ مشکل سوال یہ ہے کہ کئی دہائیوں سے پالیسی سطح پر توجہ دیے جانے کے باوجود یہ وسیع صلاحیت اب تک مسلسل زیادہ پیداواری صلاحیت، زیادہ ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کے لیے بڑے اضافی ذخیرے میں کیوں تبدیل نہیں ہوسکی۔
یہی پر زراعت کو سب سے آسان ہدف سمجھنے کے حوالے سے بحث اتنی سیدھی یا آسان نہیں رہتی، موقع یقیناً واضح ہے لیکن اس سے حقیقی فائدہ حاصل کرنا آسان نہیں۔
پاکستان نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران زرعی قرضوں میں توسیع، ٹریکٹروں اور زرعی مداخل (ان پٹس) پر سبسڈی، اجناس کی منڈیوں میں حکومتی مداخلت اور حالیہ عرصے میں سولرائزیشن کے لیے مالی معاونت اور کسانوں کی مدد کے نظام کو ڈیجیٹل بنانے جیسے اقدامات کیے ہیں، ان میں سے بہت سے اقدامات اپنی جگہ قابلِ قدر ہیں، تاہم ان کے ساتھ ساتھ کمزور بیجوں کا نظام، ناقص جینیاتی معیار، ناکافی تحقیق، پانی کا غیر مؤثر استعمال، محدود مشینی زراعت، کمزور زرعی توسیعی خدمات، ناکافی ذخیرہ کاری، اور لائیو اسٹاک شعبے میں بیماریوں پر قابو پانے، ٹریس ایبلٹی اور پیداواری صلاحیت سے متعلق مستقل مسائل بھی موجود ہیں۔
اس نتیجے سے بچنا مشکل ہے کہ پاکستان اکثر زراعت کو بہتر بنانے کے بجائے اسے مالی سہارا دینے میں زیادہ کامیاب رہا ہے۔ یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ زرعی پالیسی کے اگلے مرحلے کو محض کسانوں کی معاونت کے ایک اور دور کو تبدیلی کا نام دے کر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ حالیہ اصلاحات اس حوالے سے ایک بہتر نقطۂ آغاز فراہم کرتی ہیں۔
بیجوں کے شعبے کی ازسرِ نو تنظیم، زرعی تحقیق کی بحالی کی کوششیں، مویشیوں کی شناخت اور ٹریس ایبلٹی، اجناس کی منڈیوں میں اصلاحات، الیکٹرانک ویئر ہاؤس رسیدوں کا نظام اورآبی پیداواری صلاحیت پر زیادہ توجہ جیسے اقدامات زرعی شعبے کی بنیادی رکاوٹوں کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اب اصل چیلنج یہ ہے کہ وسائل کو مسلسل بڑھتی ہوئی اسکیموں کی طویل فہرست میں پھیلانے کے بجائے ان چند مؤثر اقدامات کو بڑے پیمانے پر نافذ کیا جائے جو پیداوار کی بنیادی معاشی ساخت کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بیجوں کے معیار اور جینیاتی بہتری کو اس فہرست میں سرفہرست ہونا چاہیے۔ اسی طرح زرعی تحقیق کو بھی اہم ترجیح دینی چاہیے۔ پیداواری صلاحیت میں موجود فرق اس مرحلے سے بہت پہلے پیدا ہوجاتا ہے جہاں مالی معاونت اہمیت اختیار کرتی ہے۔ بہتر اقسام کے بیج، مضبوط افزائشی پروگرام، موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کی صلاحیت اور معیاری بیجوں کے زیادہ استعمال سے زرعی پیداوار کی مجموعی حدِ صلاحیت کو بلند کیا جا سکتا ہے، بجائے اس کے کہ صرف کم پیداواری سطح پر کام کرنے کی لاگت کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
مشینی زراعت کے لیے بھی اسی نوعیت کی ازسرِ نو سوچ کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں زرعی زمینوں کی ساخت تیزی سے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم ہورہی ہے جس کے باعث جدید اور مہنگی مشینری کی انفرادی ملکیت کا معاشی جواز محدود ہو جاتا ہے۔
اس کا حل صرف ٹریکٹرز پر سبسڈی دینے تک محدود نہیں رہ سکتا۔ مشینری سروس ماڈلز کے ذریعے چھوٹے کسانوں کو پلانٹرز، ہارویسٹرز، لیزر لیولرز، بیلرز، ڈرونز اور دیگر زرعی آلات تک رسائی فراہم کی جا سکتی ہے، بغیر اس کے کہ ہر فارم کو یہ مشینری خود خریدنا پڑے۔ اس سے مشینی زراعت کو محض آلات کی تقسیم کے پروگرام کے بجائے پیداواری انفرااسٹرکچر کے طور پر فروغ دیا جا سکے گا۔
پانی سے متعلق پالیسی میں ماضی کے طریقۂ کار سے زیادہ واضح تبدیلی کی ضرورت ہے۔ پانی نکالنے (پمپنگ) کی لاگت کم کرنا اور پانی کی پیداواری صلاحیت میں بہتری لانا ایک ہی بات نہیں ہے۔
درحقیقت زیرِ زمین پانی کے مؤثر انتظام کے بغیر پانی نکالنے کی لاگت سستی کرنا بنیادی مسئلے کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔ پالیسیوں کا جائزہ اب اس بنیاد پر لیا جانا چاہیے کہ پانی کے ہر یونٹ سے کتنی قدر پیدا کی جارہی ہے۔ فصلوں کے انتخاب، آبپاشی کی ٹیکنالوجی اور پانی کی دستیابی کو الگ الگ منصوبوں کے بجائے ایک مربوط حکمتِ عملی کے تحت مدِنظر رکھنا چاہیے، نہ کہ مختلف اداروں کے زیرِ انتظام الگ الگ نظاموں میں تقسیم کر کے۔
لائیو اسٹاک کا شعبہ شاید حجم اور پیداواری صلاحیت کے درمیان فرق کی سب سے واضح مثال پیش کرتا ہے۔ پاکستان اپنے مویشیوں کی بڑی تعداد پر فخر کر سکتا ہے، لیکن عالمی برآمدی منڈیاں صرف مویشیوں کی تعداد کے اعداد و شمار نہیں خریدتیں۔ وہ ایسے قابلِ سراغ ، صحت مند، مستقل معیار کے حامل نسل کے جانور اور ایسی مصنوعات خریدتی ہیں جو ویٹرنری، حفظانِ صحت اور معیار کے مقررہ تقاضوں پر پورا اترتی ہوں۔
جینیاتی بہتری، جانوروں کی شناخت، بیماریوں کی نگرانی، ویکسینیشن، چارے کا معیار، دودھ کی پیداوار، گوشت کے وزن اور سرٹیفکیشن جیسے عوامل مویشیوں کی مجموعی تعداد کے محض اعدادوشمار سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔
یہی مسئلہ فارم سے باہر بھی موجود ہے۔ پیداوار میں اضافہ اس وقت محدود فائدہ رکھتا ہے جب پیداوار کو مؤثر انداز میں اکٹھا، ذخیرہ، درجہ بندی، پراسیس، سرٹیفائی اور منتقل نہ کیا جا سکے۔
گوداموں کا نظام، کولڈ چین، پیک ہاؤسز، جانچ کی سہولیات، پراسیسنگ کی صلاحیت اور لاجسٹکس زرعی تبدیلی کے لیے ضمنی عوامل نہیں بلکہ اس کا لازمی حصہ ہیں۔
یہ وہ مرحلہ بھی ہے جہاں زرعی پالیسی کو انفرادی کسان کو مداخلت کا بنیادی یونٹ سمجھنے کے طریقۂ کار سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
زیادہ مفید اور منظم اصول پروڈکشن کلسٹر ہے جہاں کسی زرعی جنس کی پہلے سے پیداوار کا حجم اور تجارتی صلاحیت موجود ہو، وہاں اسی جغرافیائی علاقے میں درپیش رکاوٹوں کو ایک ساتھ حل کیا جائے۔ بیج، پانی، مشینری، زرعی توسیعی خدمات، ذخیرہ کاری، پراسیسنگ، مالی معاونت اور منڈی تک رسائی، ان تمام عوامل کو ایک دوسرے کی تکمیل کرنی چاہیے۔
پاکستان نے بہت طویل عرصے تک ان تمام شعبوں کو الگ الگ اسکیموں کی صورت میں چلایا ہے جنہیں مختلف ادارے الگ الگ اہداف کے ساتھ نافذ کرتے رہے ہیں اور اس بات کی کوئی مضبوط وجہ موجود نہیں تھی کہ یہ تمام اجزا آخرکار ایک ہی فارم کی سطح پر مؤثر انداز میں یکجا ہو جائیں گے، نتیجہ یہ نکلا کہ اقدامات تو بہت کیے گئے لیکن حقیقی تبدیلی حیران کن حد تک کم رہی۔
یقیناً مالی معاونت کا اپنا کردار ہے لیکن اسے اس حکمتِ عملی کے بعد آنا چاہیے، اس کا متبادل نہیں بننا چاہیے۔ زرعی قرضوں کو اکثر اس طرح سمجھا گیا ہے جیسے صرف رقم کی فراہمی بڑھانے سے خود بخود پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہو جائے گا۔ ایسا نہیں ہوگا۔ کم پیداواری صلاحیت کو مزید سستے قرضوں کے ذریعے جاری رکھنا کوئی معاشی فائدہ نہیں رکھتا۔
مالی معاونت کی رکاوٹ اس وقت زیادہ اہمیت اختیار کرتی ہے جب قابلِ عمل ویلیو چینز اور سرمایہ کاری کے قابل کاروبار سامنے آنا شروع ہوتے ہیں۔ ذخیرہ کاری کے شعبے سے وابستہ ادارے کولڈ چین کاروبار، پراسیسرز، مشینری سروس فراہم کرنے والے، لائیو اسٹاک کے کاروباری ادارے اور برآمدات پر مبنی چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار سب کو اس وقت بھی بینکوں کی محدود دلچسپی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب ان کے بنیادی معاشی امکانات مضبوط ہوں۔ ایسے حالات میں جزوی کریڈٹ گارنٹیز اور خطرات میں شراکت داری کے دیگر طریقۂ کار مددگار ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے نجی شعبے کے سرمائے کو ان سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جا سکتا ہے جنہیں بصورتِ دیگر مالی معاونت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا رہتا۔
اگر عوامی شعبے کے خطرے میں شراکت دار سرمائے کو محتاط اور محدود انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ زرعی ویلیو چینز کو مکمل کرنے میں مدد دے سکتا ہے، بغیر اس کے کہ حکومت کو خود تمام اخراجات برداشت کرنے پڑیں لیکن اگر اسے بلاامتیاز استعمال کیا جائے تو یہ محض ایک اور سبسڈی بن کر رہ جاتا ہے۔
لہٰذا وسیع تر پالیسی کے معیار کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ کامیابی کا اندازہ اس بات سے نہیں لگایا جا سکتا کہ کتنے ٹریکٹر تقسیم کیے گئے، کتنے کارڈ جاری کیے گئے، کتنے ٹیوب ویل سولرائز کیے گئے یا کتنی مقدار میں زرعی قرضے فراہم کیے گئے۔ یہ صرف منصوبوں کی کارکردگی کے پیمانے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ حکومت نے کیا خرچ کیا یا کیا فراہم کیا لیکن یہ نہیں بتاتے کہ آیا زراعت واقعی زیادہ پیداواری بن سکی یا نہیں۔
اصل پیمانے اس سے کہیں زیادہ اہم اور مشکل ہیں: فی ایکڑ پیداوار، معیاری بیجوں کے استعمال کی شرح، پانی کے ہر یونٹ سے حاصل ہونے والی پیداوار، دودھ اور گوشت کی پیداواری صلاحیت، بیماریوں کی شرح، فصلوں کی برداشت کے بعد ہونے والے نقصانا، ذخیرہ کاری کی گنجائش، پراسیسنگ کی سطح اور بالآخر وہ قدر جس کی حامل مصنوعات پاکستان بیرونِ ملک فروخت کرنے کے قابل ہوسکے۔
وزیراعظم نے ترقی کے لیے درست شعبے کی نشاندہی کی ہے۔ تاہم مشکل مرحلہ یہ تسلیم کرنا ہے کہ زراعت کا مسئلہ اب محض اس کی اہمیت کو پہچاننے کا نہیں رہا۔ پاکستان اس موقع کو کئی بار تسلیم کرچکا ہے۔ اصل ضرورت اب ایسے پیداواری نظام کی تعمیر ہے جو اس صلاحیت سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے قابل بناسکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments