جبری گمشدگیوں پر نایاب عدالتی احتساب
- یہ فیصلہ اس مؤقف کو عدالتی وزن فراہم کرتا ہے جس پر متاثرہ خاندان اور انسانی حقوق کے کارکن برسوں سے زور دیتے آئے ہیں
تقریباً تین دہائیوں قبل جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے ایک شخص کو حال ہی میں عدالتی طور پر مردہ قرار دیا جانا، غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں طویل عرصے سے قائم استثنیٰ کے ماحول پر ایک سخت فردِ جرم ہے، جہاں حراست میں قتل، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی دیگر سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات بارہا سامنے آتے رہے ہیں، مگر کبھی کسی کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا۔
یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس نے اس مؤقف کی توثیق کی ہے جو عبدالرشید وانی کے اہلِ خانہ 1997 سے مسلسل اختیار کرتے آ رہے تھے: کہ انہیں بھارتی فوج کے ایک افسر نے حراست میں لیا، دورانِ حراست قتل کر دیا گیا، اور بعد ازاں ان کی لاش کو خفیہ طور پر ٹھکانے لگا دیا گیا۔
یہ عدالتی فیصلہ ایسے خطے میں ایک نادر سرکاری اعتراف کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں بے شمار خاندان کئی دہائیوں سے اپنے ان پیاروں کی تلاش میں ہیں جو سکیورٹی فورسز کی تحویل میں لیے جانے کے بعد لاپتا ہو گئے۔
یہ فیصلہ اس مؤقف کو عدالتی وزن فراہم کرتا ہے جس پر متاثرہ خاندان اور انسانی حقوق کے کارکن برسوں سے زور دیتے آئے ہیں کہ جبری گمشدگیاں الگ تھلگ واقعات نہیں بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری تنازع سے وابستہ ایک نہایت تشویشناک اور منظم طرزِ عمل کا حصہ ہیں۔
اگرچہ عدالت کا یہ فیصلہ وانی خاندان کو کسی حد تک اعتراف اور تسلیم کیے جانے کا احساس دلاتا ہے، لیکن یہ اُن غیر معمولی تاخیر اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کو بھی بے نقاب کرتا ہے جو آج بھی ہزاروں دیگر متاثرہ خاندانوں کو انصاف سے محروم رکھے ہوئے ہیں۔
اس میں بہت کم شبہ ہے کہ متنازع علاقے میں سکیورٹی آپریشنز کو منظم کرنے والا قانونی ڈھانچہ استثنیٰ کی ایک ثقافت کو فروغ دیتا رہا ہے۔ اس کے باوجود، اگرچہ متعدد پولیس تحقیقات میں مبینہ طور پر سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے شواہد سامنے آئے، لیکن آج تک کسی ایک شخص کو بھی قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔
اس کا نتیجہ ایک ایسے نظام کی صورت میں نکلا ہے جہاں متاثرہ خاندانوں کو انتہائی نامساعد حالات میں انصاف کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے، جبکہ سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات کا سامنا کرنے والے افراد قانون کی گرفت سے باہر رہتے ہیں۔
وانی کیس ایک مرتبہ پھر ایسوسی ایشن آف پیرنٹس آف ڈس اپیئرڈ پرسنز کی خدمات کی جانب بھی توجہ مبذول کراتا ہے، جو کئی دہائیوں سے تنازع کے دوران لاپتا ہونے والے افراد کے انجام کو دستاویزی شکل دینے میں مصروف ہے۔
اس تنظیم کے مطابق 1989 میں بھارتی حکمرانی کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کے بعد سے اب تک جموں و کشمیر میں تقریباً 8,000 افراد جبری گمشدگی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہر ایک عدد کے پیچھے ایک ایسا خاندان ہے جو برسوں کی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے؛ نہ وہ اپنے پیاروں کا سوگ منا سکتا ہے، نہ زندگی میں آگے بڑھ سکتا ہے، اور اکثر قانونی و معاشی حقوق سے بھی محروم رہتا ہے۔ کشمیر کی نیم بیواؤں کی حالت اس تنازع کے سب سے دیرپا انسانی المیوں میں شمار ہوتی ہے۔
اتنی ہی تشویشناک بات ہزاروں بے نشان قبروں کے بارے میں دستیاب مستند شواہد ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں، جن میں اے پی ڈی پی اور انٹرنیشنل پیپلز ٹربیونل آن ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس اِن کشمیر شامل ہیں، نے لائن آف کنٹرول کے قریب واقع علاقوں میں ہزاروں بے نشان اور نامعلوم قبروں کی موجودگی کی نشاندہی کی ہے۔
جموں و کشمیر کے سابق ریاستی انسانی حقوق کمیشن نے بھی مختلف مقامات پر ہزاروں لاشوں کی تدفین کی تصدیق کی تھی اور ان کی شناخت کے لیے ڈی این اے پروفائلنگ کی سفارش کی تھی۔ تاہم ان سفارشات پر کبھی عمل درآمد نہیں کیا گیا، اور اگست 2019 میں نئی دہلی کی جانب سے خطے کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد یہ کمیشن خود بھی غیر فعال ہو گیا۔
وانی کیس کا یہ عدالتی فیصلہ محض اپنی نایاب حیثیت کے باعث یاد رکھا جانے والا ایک غیر معمولی فیصلہ بن کر نہیں رہ جانا چاہیے۔ بلکہ اسے تمام غیر حل شدہ جبری گمشدگیوں کے مقدمات کی قابلِ اعتماد تحقیقات، بے نشان قبروں کی آزاد فرانزک جانچ، اور عہدے یا منصب سے بالاتر ہو کر حقیقی احتساب کے آغاز کا نقطۂ آغاز بننا چاہیے۔
ہر متاثرہ شخص اعتراف کا حق رکھتا ہے، ہر خاندان جوابات کا مستحق ہے، اور ہر وہ ریاست جو قانون کی حکمرانی کا دعویٰ کرتی ہے، اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ قانون سے بالاتر کوئی بھی نہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments