BR100 Increased By (0.52%)
BR30 Increased By (0.44%)
KSE100 Increased By (0.46%)
KSE30 Increased By (0.58%)
BAFL 61.64 Decreased By ▼ -0.40 (-0.64%)
BIPL 28.47 Increased By ▲ 0.44 (1.57%)
BOP 36.85 Increased By ▲ 0.08 (0.22%)
CNERGY 8.32 Decreased By ▼ -0.07 (-0.83%)
DFML 20.59 Increased By ▲ 0.66 (3.31%)
DGKC 226.90 Decreased By ▼ -0.03 (-0.01%)
FABL 101.56 Increased By ▲ 1.38 (1.38%)
FCCL 58.66 Increased By ▲ 0.05 (0.09%)
FFL 18.12 Increased By ▲ 0.18 (1%)
GGL 26.62 Increased By ▲ 1.42 (5.63%)
HBL 305.91 Increased By ▲ 0.27 (0.09%)
HUBC 233.61 Increased By ▲ 1.06 (0.46%)
HUMNL 11.28 Decreased By ▼ -0.14 (-1.23%)
KEL 8.24 Decreased By ▼ -0.05 (-0.6%)
LOTCHEM 29.38 Increased By ▲ 0.91 (3.2%)
MLCF 107.17 Decreased By ▼ -1.12 (-1.03%)
OGDC 345.43 Increased By ▲ 6.33 (1.87%)
PAEL 45.39 Increased By ▲ 0.04 (0.09%)
PIBTL 18.87 Decreased By ▼ -0.19 (-1%)
PIOC 284.56 Increased By ▲ 0.99 (0.35%)
PPL 248.71 Increased By ▲ 2.76 (1.12%)
PRL 36.29 Increased By ▲ 0.21 (0.58%)
SNGP 118.77 Increased By ▲ 0.07 (0.06%)
SSGC 31.37 Decreased By ▼ -0.30 (-0.95%)
TELE 9.21 Decreased By ▼ -0.06 (-0.65%)
TPLP 11.64 Increased By ▲ 0.41 (3.65%)
TRG 67.62 Decreased By ▼ -0.22 (-0.32%)
UNITY 10.93 Decreased By ▼ -0.08 (-0.73%)
WTL 1.28 No Change ▼ 0.00 (0%)

آڈٹ حکام نے دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ میں 25.744 ملین روپے کے بے ضابطہ اخراجات کی نشاندہی کی ہے جو کہ پراجیکٹ پر کام نہ کرنے والے افسران کی غیر مجاز تعیناتی اور انہیں تنخواہوں کی ادائیگی کی وجہ سے ہوئے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق منظور شدہ پی سی-ون میں اسلام آباد رابطہ دفتر میں چیئرمین کے اسٹاف آفیسرز کی آسامیوں کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔ اسی طرح لاجسٹکس سیل کے لیے صرف ایک چیف لاجسٹکس آفیسر کی آسامی منظور کی گئی تھی جبکہ مشیر (ہیومن ریسورسز و لاجسٹکس) کی کوئی آسامی بھی پی سی ون میں شامل نہیں تھی۔

منصوبے کی انتظامی منظوری کے پیرا 5 کے مطابق منصوبے پر عملدرآمد کے دوران تمام ضابطہ جاتی تقاضوں اور مقررہ رہنما اصولوں پر سختی سے عمل کرنا لازمی تھا۔

مزید برآں واپڈا بجٹ مینول کے پیرا 9.3.23 کے مطابق اتھارٹی اور اس کے مرکزی دفاتر کے اخراجات منصوبوں سے مقررہ شرح کے مطابق اوورہیڈ چارجز کی مد میں پورے کیے جائیں گے۔

جولائی 2024 سے جون 2025 کے عرصے کے لیے سی ای او/جی ایم ڈی بی ڈی سی اور جی ایم (ایل اے اینڈ آر) چلاس کے دفاتر کے آڈٹ کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ دو افسران، ڈائریکٹر (سول) اور ڈپٹی ڈائریکٹر (پبلک ریلیشنز)، بالترتیب 9 ستمبر 2021 اور 22 ستمبر 2022 سے چیئرمین واپڈا کے اسلام آباد دفتر میں بطور اسٹاف آفیسر تعینات ہیں۔

اس کے علاوہ دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے لیے یکم دسمبر 2020 کو چیف لاجسٹک آفیسر تعینات ہونے والے ایک افسر کو بعد ازاں 11 اکتوبر 2022 کو جی ایم (ایل اے اینڈ آر/ایچ آر ڈی) واپڈا کا اضافی چارج دیا گیا اور وہ لاہور میں ہی تعینات رہے۔ بعد ازاں 31 جنوری 2025 کو انہیں ایڈوائزر (ایچ آر اینڈ لاجسٹکس) کے طور پر دوبارہ تعینات کر دیا گیا حالانکہ پی سی-ون میں ایسی کوئی اسامی موجود نہیں تھی اور وہ چلاس کے بجائے لاہور میں ہی خدمات سرانجام دیتے رہے۔

آڈٹ میں نشاندہی کی گئی کہ دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ پر کام نہ کرنے اور پروجیکٹ سے متعلق کوئی فرائض سرانجام نہ دینے کے باوجود ان افسران کو ڈیم کی تعمیر کے لیے مختص فنڈز سے 25.744 ملین روپے (17.717 ملین روپے اور 8.027 ملین روپے) تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ادا کیے گئے۔ آڈٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ان اخراجات کو پروجیکٹ کے کھاتے میں ڈالنا غیرمنصفانہ تھا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی سی-ون کی دفعات اور متعلقہ قواعد کی عدم پیروی کے نتیجے میں منصوبے سے باہر افسران کی غیر مجاز تعیناتی کی وجہ سے مالی سال 2024-25 تک 25.744 ملین روپے کے بے ضابطہ اخراجات ہوئے۔

اس معاملے کو ستمبر 2025 میں انتظامیہ کے ساتھ اٹھایا گیا اور دسمبر 2025 میں وزارت آبی وسائل کو رپورٹ کیا گیا۔ انتظامیہ نے جواب دیا کہ افسران کو اتھارٹی کے کام کے بہترین مفاد میں چیئرمین آفس میں تعینات کیا گیا تھا۔

تاہم آڈٹ نے اس جواب کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اور لاہور میں یہ تعیناتیاں پی سی-ون کی دفعات کی صریح خلاف ورزی تھیں۔

Comments

200 حروف