BR100 Increased By (0.47%)
BR30 Increased By (0.74%)
KSE100 Increased By (0.42%)
KSE30 Increased By (0.41%)
BAFL 62.03 Increased By ▲ 0.63 (1.03%)
BIPL 27.60 Increased By ▲ 0.16 (0.58%)
BOP 36.60 Increased By ▲ 0.29 (0.8%)
CNERGY 8.45 Increased By ▲ 0.24 (2.92%)
DFML 20.10 Increased By ▲ 0.14 (0.7%)
DGKC 227.40 Increased By ▲ 0.26 (0.11%)
FABL 101.00 Decreased By ▼ -0.46 (-0.45%)
FCCL 58.94 Decreased By ▼ -0.34 (-0.57%)
FFL 17.85 No Change ▼ 0.00 (0%)
GGL 25.05 Increased By ▲ 0.94 (3.9%)
HBL 305.55 Decreased By ▼ -1.90 (-0.62%)
HUBC 233.34 Increased By ▲ 0.20 (0.09%)
HUMNL 11.47 Decreased By ▼ -0.03 (-0.26%)
KEL 8.31 Decreased By ▼ -0.02 (-0.24%)
LOTCHEM 28.51 Increased By ▲ 0.32 (1.14%)
MLCF 108.63 Increased By ▲ 1.20 (1.12%)
OGDC 337.60 Increased By ▲ 2.69 (0.8%)
PAEL 45.44 Increased By ▲ 0.02 (0.04%)
PIBTL 18.91 Increased By ▲ 0.06 (0.32%)
PIOC 282.01 Increased By ▲ 1.55 (0.55%)
PPL 245.48 Increased By ▲ 1.74 (0.71%)
PRL 36.21 Decreased By ▼ -0.03 (-0.08%)
SNGP 119.13 Decreased By ▼ -0.50 (-0.42%)
SSGC 31.88 Increased By ▲ 0.03 (0.09%)
TELE 9.22 Increased By ▲ 0.20 (2.22%)
TPLP 11.37 Increased By ▲ 0.65 (6.06%)
TRG 65.80 Increased By ▲ 1.49 (2.32%)
UNITY 11.03 Increased By ▲ 0.12 (1.1%)
WTL 1.29 No Change ▼ 0.00 (0%)
اداریہ

دہشت گردی کیلئے کوئی پناہ گاہ نہیں

  • افغانستان اب بھی سفارتی تنہائی کا شکار ہے اور شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے
شائع July 2, 2026 اپ ڈیٹ July 2, 2026 11:14am

سرحد پار دہشت گردی پاکستان کے سکیورٹی ماحول کا ایک قابلِ قبول حصہ نہیں بن سکتی۔

کراچی میں پاکستان رینجرز کی ایک چوکی پر حالیہ حملہ، اور اس کے بعد افغان سرحد کے پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیے گئے حملے، ایک ایسی حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں جسے نظر انداز کرنا اب دن بہ دن زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

دہشت گرد تنظیمیں کئی برسوں سے جاری مسلسل انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے باوجود اب بھی خود کو منظم کرنے، نئی بھرتیاں کرنے، تربیت فراہم کرنے اور پاکستان کے خلاف حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ایسی صلاحیتیں بنیادی ڈھانچے، مالی وسائل اور سب سے بڑھ کر محفوظ پناہ گاہوں کے بغیر برقرار نہیں رہ سکتیں۔

اس لیے پاکستان کا مؤقف نہ صرف معقول ہے بلکہ بین الاقوامی قانون سے بھی پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔ ہر خودمختار ریاست کو یہ حق حاصل ہے، بلکہ یہ اس کی ذمہ داری بھی ہے، کہ وہ اپنے شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کو منظم دہشت گردی سے محفوظ رکھے۔ سفارت کاری ہمیشہ ریاستی معاملات چلانے کا اولین ذریعہ ہونی چاہیے، لیکن جب بین الاقوامی سرحد کے اُس پار سے مسلسل حملے کیے جا رہے ہوں تو سفارت کاری کو غیر معینہ مدت تک صرف صبر و تحمل کی مشق نہیں بن جانا چاہیے۔

اب بنیادی سوال یہ نہیں رہا کہ آیا افغانستان کے اندر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی ہے یا نہیں۔ پاکستان متعدد مرتبہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور اس سے وابستہ دہشت گرد تنظیموں کے بارے میں اپنے خدشات پیش کر چکا ہے۔ حملوں کا مسلسل سلسلہ، سرحد پار روابط رکھنے والے مشتبہ افراد کی گرفتاریاں اور کابل کے سامنے بار بار سفارتی احتجاج اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ برسوں کی بات چیت کے باوجود یہ مسئلہ اب تک حل نہیں ہو سکا۔

اس صورتحال میں افغان طالبان حکومت پر ایک واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

ہر حکومت اپنی سرزمین پر اختیار رکھتی ہے اور اس بات کی ذمہ دار ہوتی ہے کہ اس کی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف خطرات پیدا کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ یہ خودمختار ریاستوں کے درمیان تعلقات کو منظم کرنے والے بنیادی ترین اصولوں میں سے ایک ہے۔ اگر افغانستان کے اندر دہشت گرد تنظیمیں اب بھی آزادانہ طور پر سرگرم ہیں تو اس کی وضاحت کرنے کی ذمہ داری اُن حکام پر عائد ہوتی ہے جو وہاں اقتدار اور اختیار رکھتے ہیں۔

اس کے نتائج صرف پاکستان کی فوری سکیورٹی تشویشات تک محدود نہیں ہیں۔ افغانستان اب بھی سفارتی تنہائی کا شکار ہے اور شدید معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔ بین الاقوامی برادری کے بڑے حصے کی جانب سے اسے تاحال باضابطہ تسلیم نہیں کیا گیا، جبکہ ملک کی تعمیرِ نو اور معاشی بحالی کا انحصار بھی عالمی تعاون میں اضافے پر ہے۔ افغانستان کی سرزمین سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ دہشت گرد تنظیموں کو سرگرم رہنے کی اجازت دینا نہ صرف اس سفارتی تنہائی کو مزید گہرا کرتا ہے بلکہ معمول کے تعلقات کی بحالی کے امکانات کو بھی مزید کمزور بناتا ہے۔

یہ حکمتِ عملی بالآخر خود افغانستان کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔ جو ریاستیں شدت پسند گروہوں کو برداشت کرتی ہیں، وہ اکثر یہ دیکھتی ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ایسی تنظیمیں اثاثہ نہیں بلکہ بوجھ بن جاتی ہیں۔ انتہا پسند نیٹ ورک شاذ و نادر ہی کسی ایک مقصد یا ایک سرحد تک محدود رہتے ہیں۔ وہ عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتے ہیں، ریاستی رٹ کو کمزور کرتے ہیں اور بالآخر انہی حکومتوں کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں جو کبھی یہ سمجھتی تھیں کہ وہ انہیں قابو میں رکھ سکتی ہیں۔

اسی تناظر میں پاکستان کی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں کو دیکھا جانا چاہیے۔ کوئی بھی ذمہ دار حکومت اپنے علاقے پر بار بار ہونے والے حملوں کو محض اس امید پر برداشت نہیں کر سکتی کہ حالات کسی وقت خود بخود بہتر ہو جائیں گے۔ جب سفارتی کوششیں بارہا قابلِ پیمائش نتائج دینے میں ناکام رہیں تو حملوں کے ذمہ دار عناصر کے خلاف دفاعی کارروائی ناگزیر ہوتی جاتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ردعمل میں یہ امتیاز بھی برقرار رہنا چاہیے کہ دہشت گرد عناصر اور عام افغان شہریوں میں واضح فرق رکھا جائے۔ لاکھوں افغان خود کئی دہائیوں سے جنگ، بے گھر ہونے اور تشدد کا شکار رہے ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی کی تمام کوششوں کا ہدف صرف دہشت گرد نیٹ ورکس اور انہیں پناہ دینے والے عناصر ہونے چاہییں، نہ کہ وہ بے گناہ شہری جن کی زندگی پہلے ہی انتہائی کٹھن حالات سے دوچار ہے۔

تاہم طویل المدتی حل صرف فوجی کارروائیوں میں نہیں ہے۔ انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن دہشت گرد نیٹ ورکس کو منتشر کر سکتے ہیں اور فوری خطرات کو ختم کر سکتے ہیں، لیکن اگر دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں برقرار رہیں تو وہ سرحد کو مستقل طور پر محفوظ نہیں بنا سکتے۔ دیرپا استحکام کے لیے ہمسایہ ممالک کے درمیان حقیقی تعاون اور اس بات کے غیر مبہم عزم کی ضرورت ہے کہ دہشت گردوں کو کہیں بھی سرگرم ہونے کی جگہ نہیں دی جائے۔

لہٰذا افغان طالبان حکومت کے سامنے ایک ایسا انتخاب موجود ہے جو خطے کے مستقبل کے امن و سلامتی کا تعین کرے گا۔ وہ دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کر سکتی ہے، پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کا ازالہ کر سکتی ہے اور یہ ثابت کر سکتی ہے کہ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ معمول کے تعلقات کی خواہاں ہے۔ یا پھر وہ اسی راستے پر چلتی رہ سکتی ہے جو اسے مزید سفارتی تنہائی، معاشی مشکلات اور اپنے دفاع پر مجبور ممالک کی جانب سے مزید مؤثر اور سخت سکیورٹی اقدامات کی طرف لے جائے گا۔

پاکستان گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خون کی بہت بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔ اس سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ اپنی مغربی سرحد کے پار سے دہشت گردی کی مسلسل برآمد کو برداشت کرتا رہے۔ اور نہ ہی دنیا کی کسی خودمختار حکومت سے ایسی توقع کی جانی چاہیے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف