کیا پاکستان پری وائے ٹو کے مرحلے میں ہے؟
- کیا پاکستان کی بیرونی افرادی قوت کی کہانی اپنی نوعیت تبدیل کرنا شروع کر رہی ہے؟
پاکستان کے بیرونی کھاتوں کی کہانی عموماً ترسیلاتِ زر کے ذریعے بیان کی جاتی ہے، اور اس کی معقول وجہ بھی موجود ہے۔ یہی ترسیلات کرنٹ اکائونٹ کی مالی ضروریات پوری کرتی ہیں، گھریلو کھپت کو سہارا دیتی ہیں اور ادائیگیوں کے توازن کو بار بار قومی شرمندگی کا باعث بننے سے بچاتی ہیں۔ لیکن اس کہانی کی یہ عام تشریح حد سے زیادہ محدود بھی ہے، کیونکہ یہ ترسیلاتِ زر کو محض رقم کے طور پر دیکھتی ہے۔ یہ سوال نہیں اٹھاتی کہ آیا یہ صرف پیسہ ہی نہیں بلکہ کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ بھی ہو سکتی ہیں۔
زیادہ اہم سوال یہ نہیں کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی پہلے سے زیادہ ڈالر وطن بھیج رہے ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی بیرونی افرادی قوت کی کہانی اپنی نوعیت تبدیل کرنا شروع کر رہی ہے؟ کیا یہ صرف گھریلو بقا کا ذریعہ رہنے کے بجائے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے ذریعے عالمی منڈیوں تک رسائی کا وسیلہ بنتی جا رہی ہے؟ کیا ترسیلاتِ زر صرف کرنٹ اکائونٹ کو سہارا دینے کے بجائے اب بیرونِ ملک پاکستانیوں کے نیٹ ورکس کو خدمات کی برآمدات کے ایک مؤثر راستے میں تبدیل کر سکتی ہیں، جیسا کہ 1990 کی دہائی سے لے کر 2000 کی دہائی کے وسط تک بھارت کی آئی ٹی صنعت کی غیر معمولی ترقی کے دوران دیکھا گیا تھا؟
یہ کوئی سادہ یا یک رخی کہانی نہیں، اور نہ ہی اسے ایسا بنا کر پیش کیا جانا چاہیے۔ پاکستان، بھارت نہیں ہے۔ دو معاشی کامیابیوں کی کہانیاں کبھی ایک جیسی نہیں ہوتیں، اور اگر بھارت سے موازنہ پیش گوئی کے طور پر کیا جائے، نہ کہ محض مثال کے طور پر، تو وہ جلد ہی سطحی اور گمراہ کن بن جاتا ہے۔ بھارت کے پاس زیادہ مضبوط تکنیکی بنیاد، ادارہ جاتی تسلسل، زیادہ پختہ ٹیکنالوجی کمپنیاں، سافٹ ویئر برآمدات کی ابتدائی صلاحیت، اور بالآخر عالمی خدمات کی طلب سے فائدہ اٹھانے کی کہیں زیادہ کامیاب صلاحیت موجود تھی۔ پاکستان کے پاس ان میں سے کوئی بھی چیز اسی پیمانے پر موجود نہیں۔
اس کے باوجود، اگر اس موازنے کو محدود رکھا جائے تو بھارت کی مثال مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ مقصد اس کی نقل کرنا نہیں، اور نہ ہی اسے پاکستان کی تقدیر سمجھنا چاہیے، بلکہ صرف ایک محدود سوال پوچھنا ہے: کسی معیشت کی وہ ابتدائی کیفیت کیا ہوتی ہے جب وہ بیرونی طلب میں اچانک اضافے سے فائدہ اٹھانے کے قابل بننے لگتی ہے؟ بھارت کے لیے وائے ٹو کے کا موقع کسی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں تھا۔ دنیا کے دو ہندسوں والے تاریخی نظام کے مسئلے پر عالمی تشویش کو بنیاد بنا کر کسی نے قومی حکمتِ عملی تیار نہیں کی تھی۔ لیکن جب تاریخ کا وہ غیر متوقع موقع آیا تو بھارت اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار تھا۔
بھارت کے پاس انگریزی بولنے والے تکنیکی ماہرین، ہنر مند بیرونِ ملک مقیم افراد ، بڑھتی ہوئی سافٹ ویئر برآمدات، ابتدائی غیر ملکی صارفین اور ایسی کمپنیاں موجود تھیں جو مطلوبہ خدمات فراہم کر سکتی تھیں۔ وائے ٹو کے نے بھارتی آئی ٹی صنعت کو جنم نہیں دیا، بلکہ اس کی صلاحیت کو بڑے پیمانے پر آزمایا۔ یہی فرق پاکستان کے لیے اہم ہے، کیونکہ سوال یہ نہیں کہ پاکستان اگلے وائے ٹو کے جیسے موقع کی پیش گوئی کر سکتا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں اب ایسی بنیادی معاشی شرائط پیدا ہونا شروع ہو گئی ہیں کہ اگر مستقبل میں عالمی خدمات کی طلب میں اسی نوعیت کا کوئی نیا موقع پیدا ہو تو وہ اس سے فائدہ اٹھا سکے؟
اس معیار پر دیکھا جائے تو جواب اب اتنا آسانی سے رد نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان سے بیرونِ ملک ہجرت کی کہانی دراصل ایک کہانی نہیں بلکہ کم از کم تین مختلف کہانیاں ہیں جو بیک وقت سامنے آ رہی ہیں۔ پہلی دولت اور سیکیورٹی کی بنیاد پر ہجرت ہے، جس میں پرانا سرمایہ، نیا سرمایہ، پیشہ ور اشرافیہ اور اعلیٰ متوسط طبقے کے خاندان اپنی فیملیز، سرمایہ، بچوں کی تعلیم اور مستقبل کے بہتر مواقع کیلئے بیرونِ ملک منتقل ہورہے ہیں۔ دوسری ہنرمند افراد کی ہجرت ہے، جس میں ڈاکٹر، انجینئر، آئی ٹی ماہرین، بینکار، کنسلٹنٹس، منیجرز، نرسیں، اکاؤنٹنٹس اور طلبہ بہتر آمدنی، زیادہ تحفظ اور مستقل رہائش کی خاطر بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔ تیسری مزدوروں کی ہجرت ہے، جس میں خلیجی ممالک جانے والے مزدور، نیم ہنر مند کارکن اور غیر قانونی طریقوں سے ہجرت کرنے والے افراد شامل ہیں، جن کی روانگی کے اسباب بہتر مستقبل کی خواہش سے لے کر شدید مجبوری تک پھیلے ہوئے ہیں۔
اس پوری تصویر کا صرف ایک حصہ ہی سرکاری اعدادوشمار میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ مزدوروں کی ہجرت کا ریکارڈ، ہنرمند افراد کی ہجرت کے مقابلے میں زیادہ بہتر انداز میں رکھا جاتا ہے، جبکہ دولت کی ہجرت کا اندازہ زیادہ تر بالواسطہ طور پر لگایا جاتا ہے۔ طلبہ کی ہجرت ان دونوں کے درمیان کہیں آتی ہے، کیونکہ ابتدا میں اس کے اخراجات اکثر ذاتی یا خاندانی دولت سے پورے کیے جاتے ہیں، کامیابی کی صورت میں وہ ہنرمند افرادی قوت کا حصہ بن جاتی ہے، اور بعد میں یہی طلبہ ترسیلاتِ زر بھیجنے والے بھی بن سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ تمام درجہ بندیاں مکمل طور پر واضح نہیں، لیکن مجموعی سمت بالکل واضح ہے: پاکستان میں تقریباً ہر طبقے میں ملک چھوڑنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
یہ صورتِ حال بذاتِ خود ترقی کی علامت نہیں۔ ممکن ہے یہ صرف داخلی معاشی ناکامی ہو جس کے ساتھ زرمبادلہ کی آمد بھی منسلک ہو۔ کوئی ملک اپنے شہریوں کو اس لیے بھی بیرونِ ملک بھیج سکتا ہے کہ اس کی افرادی قوت عالمی منڈی میں قیمتی ہو، یا اس لیے بھی کہ اس کی داخلی معیشت اپنے شہریوں کے خواب، صلاحیت اور عزائم کو جذب کرنے کے قابل نہ رہی ہو۔ یہ فرق بہت اہم ہے، کیونکہ پہلی صورت صلاحیت کی علامت ہے، جبکہ دوسری صورت محض اندرونی دباؤ کم کرنے کا ایک ذریعہ ہے، جسے بہتر حساب کتاب کی وجہ سے کامیابی سمجھ لیا جاتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ دلچسپ اشارہ وہ تبدیلی ہے جو ہجرت کے ساتھ ساتھ رونما ہو رہی ہے۔ پاکستان کی آئی سی ٹی برآمدات اب برآمدی ڈھانچے میں نمایاں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ اگرچہ ان کا حجم اب بھی محدود، غیر مستحکم اور غیر یکساں ہے، لیکن ان کی اہمیت پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ فری لانسنگ میں اضافہ ہو رہا ہے، چھوٹی سافٹ ویئر اور سروسز کمپنیاں بیرونِ ملک خدمات فروخت کر رہی ہیں، اور غیر ملکی صارفین سے حاصل ہونے والی آمدنی زیادہ نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ اس آمدنی کا ایک حصہ آئی سی ٹی برآمدات کے طور پر ریکارڈ ہوتا ہے، جبکہ ایک حصہ غالباً ترسیلاتِ زر سے ملتے جلتے ذرائع سے ظاہر ہوتا ہے۔ کچھ آمدنی آف شور ڈھانچوں، غیر ملکی بینک اکاؤنٹس، غیر رسمی بلنگ کے نظام اور ایسے کاروباری اداروں کے ذریعے بھی آتی ہے جو ریاست کے معاشی ریکارڈ کے روایتی طریقۂ کار میں پوری طرح فٹ نہیں بیٹھتے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں بھارت سے موازنہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ آج کا پاکستان وائے ٹو کے کے بعد والا بھارت نہیں ہے۔ ایسا کہنا حقیقت سے زیادہ فیاضی ہوگی۔ نہ ہی پاکستان 2003 یا 2005 کے بھارت جیسی پوزیشن میں ہے، جب خدمات کی برآمدات ایک مضبوط اور واضح معاشی قوت بن چکی تھیں۔ زیادہ محتاط اور قابلِ دفاع موازنہ 1997 سے 1999 کے درمیان کے بھارت سے کیا جا سکتا ہے، یعنی وہ مرحلہ جب صلاحیتیں جمع ہو چکی تھیں لیکن بڑے پیمانے پر کامیابی کا عملی ثبوت ابھی سامنے نہیں آیا تھا۔ اس وقت بھارت کے پاس سافٹ ویئر کمپنیاں، انجینئرز، بیرونِ ملک مقیم پیشہ ور افراد سے روابط، غیر ملکی صارفین اور برآمدات کی ایک ابھرتی ہوئی کہانی موجود تھی۔ لیکن اسے ابھی تک وہ عالمی آزمائش درپیش نہیں آئی تھی جو بعد میں اس کی حقیقی صلاحیت کو دنیا کے سامنے لے کر آئی۔
پھر وائے ٹو کے کا مرحلہ آ پہنچا۔ یہ کام نہایت معمولی نوعیت کا، بار بار دہرایا جانے والا، سخت ڈیڈ لائنز کا پابند اور انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ لیکن اصل اہمیت بھی اسی میں تھی۔ بھارت نے ثابت کر دیا کہ وہ بڑے پیمانے پر ایسے غیر دلکش مگر ضروری کام قابلِ اعتماد انداز میں انجام دے سکتا ہے، اور برآمدی صلاحیت کے اعتبار سے یہ خوبی کسی ظاہری چمک دمک سے کہیں زیادہ اہم تھی۔ وائے ٹو کے سے حاصل ہونے والی آمدنی وقتی تھی، مگر اس سے پیدا ہونے والی ساکھ کہیں زیادہ دیرپا ثابت ہوئی، کیونکہ غیر ملکی صارفین کو معلوم ہو گیا کہ بھارتی کمپنیاں دباؤ کے حالات میں بھی مؤثر انداز سے کام مکمل کر سکتی ہیں۔
پاکستان کو ابھی تک ایسا کوئی لمحہ نصیب نہیں ہوا۔ تاہم ممکن ہے کہ وہ ایسے مرحلے کے قریب پہنچ رہا ہو جو اس بڑے لمحے سے پہلے کی کیفیت ہو۔ دعویٰ صرف اتنا ہی محدود ہے۔ یہ نہیں کہا جا رہا کہ پاکستان اگلا بھارت بننے والا ہے، نہ ہی یہ کہ غیر معمولی معاشی کامیابی ناگزیر ہے، اور نہ ہی یہ کہ ترسیلاتِ زر کسی جادوئی عمل کے ذریعے خود بخود پیداواری صلاحیت میں تبدیل ہو جائیں گی۔ دعویٰ اس سے کہیں زیادہ محدود، لیکن زیادہ دلچسپ ہے: ممکن ہے پاکستان میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں (ڈائسپورا) کے ذریعے خدمات کی برآمدات کا ایک نیا راستہ تشکیل پا رہا ہو، اس سے پہلے کہ اسے باضابطہ طور پر کوئی نام دیا جائے۔
ممکن ہے اس راستے کے لیے روایتی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی ضرورت ہی نہ ہو۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کہ مستقبل قریب میں پاکستان کے لیے یہ توقع رکھنا مشکل ہے کہ بڑی کثیرالقومی سروسز کمپنیاں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کریں گی۔ عالمی کمپنیاں عموماً ایسے ممالک میں اپنی بیلنس شیٹس منتقل کرنے کے لیے جلدی نہیں کرتیں جہاں پیش گوئی کے قابل معاشی ماحول ایک درآمد شدہ تعیش محسوس ہوتا ہو۔ لیکن خدمات کی برآمدات اس کے باوجود بڑھ سکتی ہیں، بغیر اس کے کہ روایتی معنوں میں غیر ملکی سرمایہ ملک میں داخل ہو۔ یہ برآمدات معاہدوں، سفارشات، آف شور فرنٹ آفسز، بیرونِ ملک پاکستانیوں کی ملکیت والی ایجنسیوں، ریموٹ ٹیموں، فری لانس پلیٹ فارمز، پیشہ ورانہ روابط اور ایسی چھوٹی کمپنیوں کے ذریعے فروغ پا سکتی ہیں جو ان منڈیوں میں خدمات فروخت کریں جہاں پہلے ہی بیرونِ ملک مقیم پاکستانی خریداروں کے نظام کا حصہ ہوں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ڈائسپورا صرف ترسیلاتِ زر بھیجنے والی مشین نہیں رہتا۔ لندن میں مقیم پاکستانی نژاد کسی کمپنی کا بانی لاہور کو کام منتقل کر سکتا ہے۔ دبئی میں کام کرنے والا کوئی بینکار کراچی تک کسی منصوبے کی رسائی ممکن بنا سکتا ہے۔ کینیڈا میں موجود کوئی ڈاکٹر بلنگ، دستاویزات کی تیاری یا سافٹ ویئر سے متعلق کام کسی پاکستانی ٹیم کے سپرد کر سکتا ہے۔ ریاض میں موجود کوئی لاجسٹکس آپریٹر بیک آفس خدمات کی طلب پیدا کر سکتا ہے۔ آسٹن میں کام کرنے والا کوئی ٹیکنالوجی ماہر کسی پاکستانی کمپنی کا پہلا گاہک، پہلا حوالہ یا پہلا سیلز چینل بن سکتا ہے۔ اکثر پہلا معاہدہ سماجی تعلقات کی بنیاد پر ہوتا ہے، دوسرا تجارتی بنیاد اختیار کر لیتا ہے، جبکہ تیسرا بار بار ملنے والے کاروبار میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
سرمایہ آنے سے پہلے اعتماد اسی طرح سفر کرتا ہے۔ بھارت کے بیرونِ ملک مقیم افراد نے بھارتی سافٹ ویئر کمپنیوں کے لیے پہلے معاہدے کا مسئلہ حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا، کیونکہ ابتدائی دور میں غیر ملکی صارفین کو یقین نہیں تھا کہ آیا بھارت مطلوبہ خدمات فراہم کر سکے گا یا نہیں۔ بیرونِ ملک مقیم بھارتیوں نے اسی غیر یقینی صورتحال کو کم کیا۔ وہ جانتے تھے کہ کس سے رابطہ کرنا ہے، کس پر اعتماد کرنا ہے، نگرانی کیسے کرنی ہے، اور خریداروں کی توقعات کو عملی نتائج میں کیسے تبدیل کرنا ہے۔ پاکستان کا ڈائسپورا بھی ایسا ہی کردار ادا کر سکتا ہے، اگرچہ اس کا راستہ نسبتاً محدود، زیادہ منتشر اور کم رسمی ہوگا۔
یہ فرق بہت اہم ہے۔ بھارت کی کہانی بالآخر بڑی کمپنیوں کی قیادت میں آگے بڑھی، جہاں بڑی ٹیکنالوجی برآمد کنندگان نے عالمی منڈی تک رسائی کے فوائد کو اپنے اندر سمو لیا۔ پاکستان کی کہانی شاید زیادہ منتشر رہے: فری لانسرز، چھوٹی خصوصی ایجنسیاں، سافٹ ویئر ہاؤسز، خلیجی منڈیوں کو خدمات فراہم کرنے والے ادارے، بیرونِ ملک پاکستانیوں کے ذریعے قائم غیر ملکی کمپنیاں، اور وہ ریموٹ ٹیمیں جو پاکستان میں بیٹھ کر دنیا بھر کو خدمات فراہم کریں اور ایسی مالیاتی راہوں سے ادائیگیاں وصول کریں جنہیں سرکاری اعدادوشمار صرف جزوی طور پر ہی ریکارڈ کر پاتے ہیں۔ اس سے یہ کہانی دیکھنے اور ناپنے میں ضرور مشکل ہو جاتی ہے، لیکن معاشی اعتبار سے اس کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ البتہ یہ شماریاتی لحاظ سے ضرور پیچیدہ ہو جاتی ہے۔
اسی لیے صرف ترسیلاتِ زر کو کامیابی کا پیمانہ سمجھنا ناکافی ہے۔ ترسیلاتِ زر اس وجہ سے بھی بڑھ سکتی ہیں کہ کوئی ملک اپنی مجبوری اور معاشی مشکلات برآمد کر رہا ہو۔ وہ اس لیے بھی بڑھ سکتی ہیں کہ ملک کے اندر روزگار کے مواقع ناکام ہو چکے ہوں، مہنگائی نے مقامی معیشت کو بری طرح متاثر کر دیا ہو اور ملک چھوڑنا ایک منطقی فیصلہ بن گیا ہو۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا ترسیلاتِ زر، ہنرمند افراد کی ہجرت، آئی سی ٹی برآمدات، فری لانس آمدنی اور غیر ملکی گاہکوں سے حاصل ہونے والی آمدنی ایک ساتھ بڑھنا شروع ہو رہی ہیں یا نہیں۔ اگر ترسیلاتِ زر بڑھ رہی ہوں لیکن آئی سی ٹی برآمدات جمود کا شکار رہیں تو کہانی زیادہ تر بقا کی ہوگی۔ لیکن اگر آئی سی ٹی برآمدات بھی ہنرمند ہجرت اور مضبوط ہوتے ہوئے ڈائسپورا نیٹ ورک کے ساتھ بڑھنے لگیں تو پھر کہانی کا رخ بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔
اس کے ساتھ کووِڈ کے بعد ایک نئی پیچیدگی بھی پیدا ہو چکی ہے۔ بیرونِ ملک جانے کی خواہش پہلے سے زیادہ ہو سکتی ہے، لیکن ہجرت کے مواقع اب زیادہ محدود اور منتخب ہو گئے ہیں۔ طلبہ کے ویزے مشکل ہو چکے ہیں، تنخواہوں کی کم از کم شرائط بڑھ گئی ہیں، جبکہ لیبر مارکیٹیں پہلے سے زیادہ سیاسی نوعیت اختیار کر چکی ہیں۔ دولت مند افراد کے لیے ہجرت کے راستے اب بھی موجود ہیں۔ ہنرمند افراد کی ہجرت بھی ممکن ہے، لیکن اب اس کے لیے زیادہ مضبوط اسناد اور قابلیت درکار ہے۔ مزدوروں کی ہجرت جاری ہے، مگر وہ پہلے سے زیادہ معاشی چکروں، سیاسی حالات اور سرحدی قوانین سے متاثر ہو رہی ہے۔
اس سے ممکن ہے ایک نئی قسم کی ہجرت جنم لے: ورچوئل ہجرت ۔ اس میں کارکن اپنی جگہ رہتا ہے، کام بیرونِ ملک چلا جاتا ہے، اور آمدنی واپس پاکستان آ جاتی ہے۔ ممکن ہے یہی پاکستان کی بیرونی افرادی قوت کی کہانی میں سب سے اہم تبدیلی ثابت ہو۔ ہر وہ شخص جو ملک چھوڑنا چاہتا ہے، باہر نہیں جا سکے گا، اور نہ ہی ہر وہ شخص جو دنیا کو خدمات فروخت کرتا ہے، ہجرت کرے گا۔ بہت سے لوگ پاکستان میں رہتے ہوئے ہی کوڈنگ، ڈیزائن، اکاؤنٹنگ، مارکیٹنگ، اینالیٹکس، کلاؤڈ سپورٹ، مصنوعی ذہانت کے ٹولز، بیک آفس خدمات اور پیشہ ورانہ آؤٹ سورسنگ کے ذریعے عالمی لیبر مارکیٹ کا حصہ بن جائیں گے۔
معاشی اصطلاح میں یہ بھی لیبر آربٹریج ہی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس کے لیے ہوائی اڈے سے گزرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے ملک ایک ایسے ہائبرڈ بیرونی لیبر ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہو، جس میں کچھ لوگ ہجرت کے ذریعے بیرونِ ملک جائیں، مہارتیں خدمات کی برآمدات کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچیں، اور آمدنی ترسیلاتِ زر اور ڈیجیٹل ذرائع دونوں کے ذریعے واپس پاکستان آئے۔ یہ بھارت کا راستہ نہیں، لیکن اس کی مماثلت بھارت کی اس ابتدائی کہانی سے ضرور ہے جو اس کی بڑی معاشی کامیابی سے پہلے وجود میں آ رہی تھی۔
تاہم یہاں ایک اہم اور ناگزیر احتیاط بھی ضروری ہے۔ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں (ڈائسپورا) کے نیٹ ورک مواقع کے دروازے تو کھول سکتے ہیں، لیکن وہ خود کام انجام نہیں دے سکتے۔ منڈی تک رسائی پہلا آرڈر دلا سکتی ہے، مگر دوسرے آرڈر کا انحصار کام کے کامیاب اور معیاری نفاذ پر ہوتا ہے۔ پاکستان کا مسئلہ کبھی بھی انفرادی صلاحیتوں کی کمی نہیں رہا، بلکہ اصل مسئلہ یہ رہا ہے کہ بکھری ہوئی صلاحیتوں کو ایک ایسی قابلِ اعتماد، بڑے پیمانے پر کام کرنے والی اور عالمی سطح پر قابلِ شناخت استعداد میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب اب بھی نہیں ملا۔
تو پھر اگر بھارت کی ترقی کے تسلسل میں پاکستان کی موجودہ پوزیشن کا تعین کیا جائے تو وہ کہاں کھڑا ہے؟ یقیناً وائے ٹو کے کے بعد والے مرحلے پر نہیں، نہ ہی غیر معمولی معاشی پیش رفت کے مرحلے پر، اور نہ ہی اس منزل پر جہاں عالمی کامیابی حاصل ہو چکی ہو۔ نسبتاً زیادہ مناسب، اگرچہ محدود، موازنہ بھارت کے 1997 سے 1999 کے دور سے کیا جا سکتا ہے، جب خدمات کی برآمدات نمایاں ہونا شروع ہو چکی تھیں، بیرونِ ملک مقیم بھارتیوں کے روابط تجارتی لحاظ سے مفید ثابت ہو رہے تھے، مطلوبہ صلاحیت موجود تھی، لیکن بڑے پیمانے پر کامیابی کا عملی ثبوت ابھی سامنے نہیں آیا تھا۔ پاکستان شاید کسی حد تک، غیر مکمل اور غیر یکساں انداز میں، اسی مرحلے کے قریب کھڑا ہے۔
اس کے ابتدائی آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیرونِ ملک ہجرت بڑھ رہی ہے۔ آئی سی ٹی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کا نیٹ ورک پہلے سے زیادہ وسیع اور گہرا ہو چکا ہے۔ غیر ملکی صارفین سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی پہلے سے زیادہ نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ اگرچہ ان میں سے کوئی بھی اشارہ حتمی نہیں۔ یہ نہ تو پاکستان کی تقدیر کا فیصلہ ہے اور نہ ہی ابھی اسے معاشی ترقی کی مکمل کہانی قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ ممکن ہے کہ یہ ایک ایسی خاموش مگر مضبوط لہر ہو جو مستقبل میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔
ممکن ہے پاکستان آج بھی اپنے شہری اس لیے بیرونِ ملک بھیج رہا ہو کہ اس کی معیشت انہیں اپنے اندر جذب کرنے میں ناکام ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنی صلاحیتیں بھی برآمد کرنا شروع کر رہا ہو، کیونکہ اس کی افرادی قوت عالمی منڈی میں معاہدوں کے ذریعے خدمات فراہم کرنے کے قابل بنتی جا رہی ہے۔ شاید سب سے غیر آرام دہ، لیکن حقیقت سے قریب جواب یہی ہے کہ یہ دونوں باتیں ایک ہی وقت میں درست ہو سکتی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کو انتہائی غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔


Comments