BR100 Increased By (0.44%)
BR30 Increased By (1.39%)
KSE100 Increased By (0.62%)
KSE30 Increased By (0.61%)
BAFL 58.79 Decreased By ▼ -0.35 (-0.59%)
BIPL 26.82 Increased By ▲ 0.20 (0.75%)
BOP 35.38 Increased By ▲ 0.26 (0.74%)
CNERGY 8.20 Increased By ▲ 0.05 (0.61%)
DFML 19.77 Increased By ▲ 0.08 (0.41%)
DGKC 221.94 Increased By ▲ 3.32 (1.52%)
FABL 96.91 Decreased By ▼ -0.15 (-0.15%)
FCCL 58.36 Increased By ▲ 1.61 (2.84%)
FFL 17.84 Decreased By ▼ -0.04 (-0.22%)
GGL 23.54 Decreased By ▼ -0.12 (-0.51%)
HBL 294.10 Increased By ▲ 1.11 (0.38%)
HUBC 231.41 Decreased By ▼ -0.40 (-0.17%)
HUMNL 11.07 Decreased By ▼ -0.05 (-0.45%)
KEL 8.75 Increased By ▲ 0.33 (3.92%)
LOTCHEM 28.07 Decreased By ▼ -0.15 (-0.53%)
MLCF 107.15 Increased By ▲ 3.85 (3.73%)
OGDC 339.96 Increased By ▲ 1.79 (0.53%)
PAEL 44.49 Increased By ▲ 1.02 (2.35%)
PIBTL 18.64 Increased By ▲ 0.94 (5.31%)
PIOC 273.85 Increased By ▲ 3.85 (1.43%)
PPL 247.98 Increased By ▲ 3.66 (1.5%)
PRL 35.29 Decreased By ▼ -0.14 (-0.4%)
SNGP 123.17 Decreased By ▼ -2.49 (-1.98%)
SSGC 32.04 Decreased By ▼ -0.90 (-2.73%)
TELE 8.87 Decreased By ▼ -0.04 (-0.45%)
TPLP 10.57 Decreased By ▼ -0.26 (-2.4%)
TRG 64.40 Decreased By ▼ -0.50 (-0.77%)
UNITY 11.12 Increased By ▲ 0.09 (0.82%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.01 (0.8%)
مارکٹس

فیڈ کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی توقعات، ڈالر کی قدر میں اضافہ

  • ڈالر انڈیکس 13 ماہ کی بلند ترین سطح 101.8 تک پہنچنے کے بعد ایشیائی سیشن میں 101.6 کے قریب مستحکم رہا
شائع June 25, 2026 اپ ڈیٹ June 25, 2026 11:28am

عالمی کرنسی مارکیٹ میں جمعرات کے روز امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس نے کئی بڑی کرنسیوں کو دباؤ میں ڈال دیا اور سونے سمیت دیگر عالمی اثاثوں پر بھی اثر ڈالا۔

ڈالر انڈیکس 13 ماہ کی بلند ترین سطح 101.8 تک پہنچنے کے بعد ایشیائی سیشن میں 101.6 کے قریب مستحکم رہا۔ یورو کے مقابلے میں ڈالر نے 1.14 کی اہم حد عبور کی اور 1.1325 تک جا پہنچا، جبکہ جاپانی ین کے مقابلے میں ڈالر 161.73 کی سطح پر رہا، جو کئی دہائیوں کی کمزور ترین ین پوزیشن کے قریب ہے۔

ڈالر کی مضبوطی کے باعث عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 4,000 ڈالر فی اونس سے نیچے آ گئی، جو گزشتہ سات ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح ہے۔ اسی طرح بٹ کوائن بھی مختصر وقت کے لیے 60,000 ڈالر سے نیچے چلا گیا۔

مارکیٹ میں امریکی معیشت کی مضبوط کارکردگی اور شرح سود بلند رہنے کی توقعات ڈالر کی تیزی کا بنیادی سبب بن رہی ہیں۔ ایران جنگ اور تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات کو بھی کم کر دیا ہے، جبکہ سرمایہ کار اب ممکنہ طور پر اکتوبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کو بھی قیمتوں میں شامل کر رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی دو سالہ ٹریژری ییلڈز میں 27 بیسز پوائنٹس اضافہ ہوا ہے، جبکہ یورپ میں اسی مدت کے بانڈ ییلڈز میں کمی دیکھی گئی ہے، جس سے شرح سود کا فرق مزید بڑھ گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق مضبوط امریکی پیداواری شرح اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے منسلک ترقی سرمایہ کاری کو امریکا کی طرف راغب کر رہی ہے، جو ڈالر کو مزید تقویت دے رہی ہے۔

اب سرمایہ کاروں کی نظریں امریکی افراطِ زر کے اہم پیمانے کور پی سی ای کے اعداد و شمار پر مرکوز ہیں، جو آئندہ مالیاتی پالیسی کے لیے اہم اشارے فراہم کریں گے۔

Comments

200 حروف