سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی پی ایل میں سرکاری شیئر ہولڈنگ بڑھ کر 74.86 فیصد ہو گئی
- حکومتِ پاکستان نے 14 اگست 2009 کو بینظیر امپلائز اسٹاک آپشن اسکیم کا آغاز کیا تھا
حکومتِ پاکستان نے بینظیر امپلائز اسٹاک آپشن اسکیم کے تحت قائم کردہ پی پی ایل ایمپلائیز امپاورمنٹ ٹرسٹ سے 200,057,318 عام شیئرز کی مکمل ملکیت واپس حکومتِ پاکستان کو منتقل کردی ہے۔
پی پی ایل نے بتایا کہ یہ منتقلی سپریم کورٹ آف پاکستان کے مقدمات سی اے نمبر 421 سے 423 برائے 2018، سی اے نمبر 19-کے برائے 2019 اور سی پی نمبر 852 برائے 2018 کے فیصلے کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔
ایک بیان میں پی پی ایل نے کہا کہ اب پی پی ایل میں حکومتِ پاکستان کی براہِ راست شیئر ہولڈنگ 67.51 فیصد سے بڑھ کر 74.86 فیصد ہوگئی ہے۔
پاکستان میں تلاش اور پیداوار کرنے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک کے طور پر پی پی ایل تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر کی تلاش، کھوج، ترقی اور پیداوار میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
حکومتِ پاکستان نے 14 اگست 2009 کو بینظیر امپلائز اسٹاک آپشن اسکیم کا آغاز کیا تھا۔
یہ اسکیم بعض سرکاری ملکیتی اداروں اور ایسے نجی اداروں کے مستقل اور کنٹریکٹ ملازمین کے لیے متعارف کرائی گئی تھی جن میں حکومتِ پاکستان کی نمایاں سرمایہ کاری موجود تھی، بشرطیکہ وہ اسکیم کے آغاز کی تاریخ پر ملازم ہوں اور پانچ سالہ ویسٹنگ مدت مکمل کر چکے ہوں۔
22 اکتوبر 2020 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک تفصیلی حکم نامہ جاری کیا، جس میں یہ فیصلہ دیا گیا کہ بینظیر ایمپلائیز اسٹاک آپشن اسکیم کا نفاذ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 154 کی خلاف ورزی ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے بعد ازاں حکم دیا کہ بی ای ایس او ایس کے تحت سرکاری ملکیتی اداروں (ایس او ایز) کی جانب سے جمع کرائی گئی یا مختص کی گئی تمام رقوم فوری طور پر وفاقی کنسولیڈیٹڈ فنڈ میں منتقل کی جانی چاہئیں۔


Comments