معلومات کا طوفان
- معلومات محض خام ڈیٹا کا مجموعہ ہے جبکہ علم اس ڈیٹا کی بامعنی تفہیم، گہری سمجھ بوجھ اور تجزیے کا نام ہے
کمیونیکیشن کے میدان میں پچاس کی دہائی سے جاری تکنیکی ترقی کی رفتار حیران کن ہے، اس دور میں شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب ہاتھ سے لکھی جانے والی خط و کتابت کا وجود تقریباً ختم ہو جائے گا۔اسی بنا پر اب خوشخطی یا اچھی لکھائی کی مہارت کی ضرورت بھی کم و بیش ختم ہو چکی ہے اور یہ اب ماضی کا حصہ بن چکی ہے۔
اس زمانے میں لوگ اپنی ضرورت کی تمام معلومات کے لیے کتابوں، پرنٹ میڈیا، ریڈیو اور پھر کسی حد تک ٹیلی ویژن پر انحصار کرتے تھے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں ٹیلی پرنٹر کی آمد نے ان اعلیٰ تربیت یافتہ آپریٹرز کی جگہ لے لی جو مورس کوڈ کے استعمال کی مخصوص مہارت رکھتے تھے۔ ٹیلی پرنٹرز نے مواصلات کی رفتار میں ایک انقلاب برپا کر دیا جب کہ اس سے قبل طویل فاصلے کے پیغامات کی ترسیل کے لیے دو پیشہ ور مورس کوڈ آپریٹرز کی ضرورت ہوتی تھی، ایک پیغام بھیجنے کے لیے اور دوسرا وصول کرنے کے لیے۔ ٹیلی پرنٹرز نے مواصلات سے انسانی مداخلت کا خاتمہ کر دیا۔ تجارتی اور دیگر ضروریات کے تحت پیغامات کو براہ راست ٹیلی پرنٹرز پر ٹائپ کرنے کی سہولت ملی، جس سے پیغام رسانی کی رفتار تیز ہو گئی۔
ٹیلی پرنٹرز کا دور ٹیلیکس کی ایجاد کے ساتھ ختم ہوا، یہ نظام 1930 کی دہائی میں جرمنی میں متعارف ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے عالمی سطح پر مواصلات کا سب سے مقبول ذریعہ بن گیا۔ بعد ازاں فیکس مشینوں کی آمد نے ٹیلکس کا وجود مٹا دیا اور 1980 کی دہائی کے وسط سے اواخر تک فیکس فوری مواصلات کا سب سے مقبول ذریعہ بن کر ابھرا۔ فیکس نے اصل دستاویزات کے عکس (امیجز) کو فوری شیئر کرنے کی سہولت فراہم کی، یوں مواصلات کی رفتار سادہ متن سے بصری تصاویر تک منتقل ہو گئی۔ حروف اور اعداد پر مشتمل سادہ ٹیکسٹ کے برعکس فیکس نے دور دراز تک معلومات کی ہو بہو نقل سیکنڈوں میں پہنچا دی۔ فیکس مشینیں دراصل ریموٹ فوٹو کاپیئرز کی طرح کام کرتی تھیں۔
مواصلات کے یہ روایتی ذرائع ای میل کی آمد سے جڑ سے اکھڑ گئے، جو بنیادی طور پر دو کمپیوٹرز کے درمیان معلومات کا تبادلہ ہے۔ دنیا کی پہلی ای میل 1971 میں رے ٹاملنسن نے بھیجی تھی۔اسی اور نوے کی دہائی کے بعد سے ای میل معلومات کے تبادلے کا سب سے پسندیدہ ذریعہ بن گئی اور یہ سلسلہ آج بھی قائم ہے بلکہ یہ اب ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ ای میلز معلومات کا ایک بہت بڑا مآخذ ہیں۔ لفظ ای میل کی اصطلاح کا سہرا اس وقت کے ایک 14 سالہ لڑکے شوا ایاڈورائی سے منسوب ہے، جو نیو جرسی میں میڈیکل کا طالب علم تھا۔
ای میل کے اس انقلاب کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ترقی نے مزید جلا بخشی، جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معلومات کے سب سے بڑے ذرائع بن گئے۔ مارک زکربرگ کی جانب سے 2004 میں فیس بک کے آغاز نے معلومات کا ایک سیلابِ بے پناہ پیدا کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی سرچ انجن کی دستیابی نے اس عمل کو تیز کیا، اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے دو پی ایچ ڈی طلبہ کے ایک تحقیقی منصوبے نے دیکھتے ہی دیکھتے معلومات کے ایک عظیم الشان ذخیرے کی شکل اختیار کر لی اور اسے گوگل کا نیا نام دیا گیا۔ اس کے بعد انسٹاگرام اور اسنیپ چیٹ وغیرہ جیسے پلیٹ فارمز آئے۔ ایک کی بورڈ کے ذریعے لامحدود معلومات اور مواد تک رسائی حیرت انگیز حد تک خوفناک ہے۔ آج خاص طور پر نسلِ نو (جین زی)، خبروں اور عمومی معلومات کے لیے مکمل طور پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر انحصار کرتی ہے۔
یہاں یہ نکتہ سمجھنا اور اس پر واضح رہنا بے حد ضروری ہے کہ معلومات علم نہیں ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ جو شخص معلومات رکھتا ہو وہ عالم یا علم والا بھی ہو۔ معلومات کا تعلق حقائق، اعداد و شمار یا چھپے ہوئے خام ڈیٹا کے ایک ساختی مجموعے سے ہے جبکہ علم اس معلومات کی بامعنی تفہیم اور گہری سمجھ بوجھ کا نام ہے۔ علم ڈیٹا کو چھاننے کی تنقیدی صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے اور انسانی ذہن کی بدولت حقائق کا تجزیہ کرکے کسی سوچ یا نظریے کی توثیق کرتا ہے۔ علم اور حکمت کے درمیان جو بہترین فرق میں نے دیکھا ہے وہ یہ ہے کہ علم یہ جاننا ہے کہ ٹماٹر ایک پھل ہے اور حکمت یہ ہے کہ اسے فروٹ سلاد میں شامل نہ کیا جائے۔
بدقسمتی سے معلومات کے ان گنت خزانوں تک آسان رسائی کے باعث علم اور معلومات کے تصورات کو ایک دوسرے کا مترادف سمجھا جانے لگا ہے، حالانکہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ پروسیس شدہ ڈیٹا معلومات ہے، معلومات کا استعمال اور تجربہ علم کی طرف لے جاتا ہے اور علم کا دانش مندانہ استعمال ہی حکمت کو جنم دیتا ہے۔
انسان اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے وہ معلومات کے اس طوفان کو کیسے سنبھالتا ہے یہی اس کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ جہاں انفارمیشن ایج (معلومات کا دور) ایک نعمت ہے وہیں معاشرتی ڈھانچے، سیاسی سوچ، فلسفے اور معاشی مضمرات پر اس کے اثرات کی نگرانی کرنا ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ معلومات کے اس انبار کے ساتھ بہت سا شور بھی شامل ہے۔ وسیع تناظر میں یہ ملکی اور بین الاقوامی تعلقات کو کس طرح متاثر کرے گا، اس پر گہری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آج یا کل کا اصل مسئلہ معلومات کی دستیابی نہیں بلکہ اس کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت یا اس کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے۔
تجزیہ کرنے کی انسانی صلاحیتیں اس وقت کم ترین سطح پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علم پر معلومات کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور علمی بنیادوں کی اس کمزوری نے معاشروں اور ممالک میں حکمت کا فقدان پیدا کر دیا ہے۔
وہ اخلاقی اور آفاقی اقدار جو ہر قسم کی تقسیم سے بالاتر ہیں آج شدید خطرے میں ہیں اور یہ خوف حقیقی ہے کہ ان میں من مانی تبدیلیاں کر کے انہیں یکسر مسترد کر دیا جائے گا۔ مفاد اور اخلاق کے درمیان بڑھتا ہوا تضاد، انسانی سوچ اور رویوں پر پڑنے والے اثرات کے لحاظ سے اس معاملے کو مزید تشویشناک بناتا ہے۔ معاشروں میں اخلاقی طاقت کا جو نور اب تک رہنما تھا آج راتوں رات شہرت اور دولت کمانے کی اندھی دوڑ کی وجہ سے مٹنے کے دہانے پر ہے۔ اخلاقی دیانت اب سمجھوتے کی میز پر آ چکی ہے۔
نسلِ نو (جین زی) کے بچوں اور بڑوں کے لیے معلومات کا یہ سیلاب انتہائی ہولناک ہے۔ کیا ہمارے بچے معلومات کے اس اوور لوڈ کو پروسیس کرنے کے لیے تیار ہیں، تاکہ وہ اس میں سے مثبت چیزیں اخذ کر سکیں اور خام معلومات میں موجود کثافتوں کو مسترد کر سکیں؟ مغرب میں اس وقت ایک مہم چل رہی ہے اور یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ آیا سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی ہونی چاہیے یا نہیں۔ آسٹریلیا نے تو یہ پابندی عائد بھی کر دی ہے۔
ایک مصنوعی خود اعتمادی اور تقریباً 60 فیصد کی خود ساختہ شرح خواندگی کے ساتھ ہمارا معاشرہ معلومات خواہ وہ اچھی ہو یا بری، مثبت ہو یا منفی کی دستیابی اور رسائی کے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہے۔ معلومات کے غلط استعمال یا اس کے نقصان دہ پھیلاؤ کو روکنے والے ہمارے نگران ادارے انتہائی کمزور ہیں۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) اور دیگر جدید تکنیکی آلات کے غلط استعمال کے نتیجے میں آج سچی معلومات اور گمراہ کن معلومات کے درمیان کا فرق اتنا مٹ چکا ہے کہ سچ اور جھوٹ کو الگ کرنا ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینے والی یہ گمراہ کن معلومات اتنی پرکشش ہوتی ہیں کہ ہم محض شیئر کرنے کی عجلت میں نہ صرف اسے سچ مان لیتے ہیں بلکہ اس کا پرچار کرکے خود اس کا شکار بن جاتے ہیں۔ صدیوں پہلے عظیم ڈرامہ نگار شیکسپیئر نے بھی گمراہ کن معلومات کے خطرات اور معاشرے پر اس کے مہلک اثرات کی طرف توجہ دلائی تھی۔اپنے ڈرامے ہنری فور میں وہ افواہ کی تعریف یوں کرتا ہے کہ یہ قیاس آرائیوں، حسد اور وہم کے ذریعے پھونکی جانے والی بانسری ہے۔ (اگر قارئین کو اس جملے سے ان اذیت ناک سیاسی ٹاک شوز کی یاد آ جائے جو 24 گھنٹے ٹی وی سکرینوں پر چیختے چلاتے رہتے ہیں تو وہ خود کو بالکل قصوروار نہ ٹھہرائیں)۔
اس صورتحال میں سب سے پہلے والدین اور پھر اساتذہ کو نوجوانوں کے ذہنوں میں ایک ایسی ناقابل تسخیر دیوارِ چین تعمیر کرنی ہوگی جو ان میں ایسی معلومات سے دور رہنے کی صلاحیت پیدا کرے جو ان کے کردار یا ہماری ثقافت اور روایات کی جڑوں میں پیوست اقدار پر منفی اثر ڈال سکتی ہوں۔
علم تنہائی میں کوئی طاقت نہیں رکھتا۔ علم باہر سے حاصل ہوتا ہے جبکہ حکمت ایک بیدار اور متوجہ ذہن کے اندر پروان چڑھتی ہے۔ علم خرگوش کی مانند تیز ہے تو حکمت کچھوے کی طرح صابر ہے۔
محض جمع اور ذخیرہ کیا گیا علم اس بھری ہوئی بندوق کی طرح ہے جسے کبھی چلایا نہ گیا ہو، علم کے ٹریگر کو تب ہی دبایا جانا چاہیے جب اسے استعمال اور تجربے کی بھٹی سے گزار لیا جائے، تب ہی معلومات اور علم اپنے مالک کے لیے ایک حقیقی طاقت بن سکیں گے۔
آخری بات : وہ حکمت کہاں کھو گئی جو ہم نے علم میں گنوا دی؟ وہ علم کہاں چلا گیا جو ہم نے معلومات میں کھو دیا؟(ٹی ایس ایلیٹ)۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments