ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم
- ڈالر کے مقابلے میں مقامی کرنسی ایک پیسے کی بہتری سے 278.25 پر بند
پاکستانی روپے نے جمعہ کو انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ایک پیسے کی بہتری کے ساتھ 278.25 پر بند ہوئی۔
یاد رہے کہ جمعرات کو یہ 278.26 پر بند ہوئی تھی۔
دوسری جانب فیڈرل ریزرو کے نئے چیئرمین کیون وارش کی جانب سے افراطِ زر پر قابو پانے اور قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے پختہ عزم کے بعد ڈالر انڈیکس 13 ماہ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اس بیان نے تاجروں کو یہ اندازہ لگانے پر مجبور کیا ہے کہ اس سال سود کی شرح میں کم از کم ایک اضافہ ضرور ہوگا جبکہ چند ہفتے قبل اس کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔
فیڈرل ریزرو کے اس بدلے ہوئے لہجے نے امریکی ٹریژریز کو شدید متاثر کیا ہے۔ دو سالہ بانڈز کی شرحِ منافع گزشتہ ہفتے کے اسی وقت کے مقابلے میں تقریباً 10 بیسس پوائنٹس زیادہ ہے جبکہ بینچ مارک 10 سالہ بانڈز کی شرحِ منافع 3 بیسس پوائنٹس گر کر 4.451 فیصد رہ گئی ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ سرمایہ کار جہاں قلیل مدتی سود کی شرح میں اضافے کو ذہن میں رکھ رہے ہیں وہاں تیل کی قیمتوں میں کمی کے پیشِ نظر انہیں یہ اعتماد بھی مل رہا ہے کہ یہ اضافہ عارضی ثابت ہو سکتا ہے۔ جمعہ کو جونی ٹینتھ کی تعطیل کے باعث امریکی کیش بانڈ مارکیٹ بند تھی۔
ڈالر کی پوزیشن مضبوط ہونے سے جاپانی ین دباؤ کا شکار رہا اور 161.3 کے آس پاس ٹریڈ ہوا، جس سے امریکی کرنسی گزشتہ جولائی کے بعد اپنی مضبوط ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ یہ سطح 160 کی اس حد سے کہیں اوپر ہے جسے اکثر ماہرین جاپانی حکومت کی مداخلت کی وجہ سمجھتے ہیں۔
مزید برآں جمعہ کو خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی جس کی وجہ مارکیٹ میں سپلائی کی بحالی کا امکان ہے، کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے پر دستخط کے بعد آئل ٹینکرز نے آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع کر دیا ہے۔ عالمی وقت کے مطابق صبح 01:46 بجے برینٹ کروڈ فیوچرز 54 سینٹ یا 0.68 فیصد کمی کے ساتھ 78.31 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 46 سینٹ یا 0.60 فیصد گراوٹ کے ساتھ 76.14 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ جولائی کا قریبی ترین کنٹریکٹ پیر کو ختم ہو رہا ہے۔


Comments