BR100 Decreased By (-0.7%)
BR30 Decreased By (-0.77%)
KSE100 Decreased By (-0.53%)
KSE30 Decreased By (-0.55%)
BAFL 57.99 Decreased By ▼ -0.24 (-0.41%)
BIPL 25.49 Decreased By ▼ -0.07 (-0.27%)
BOP 33.60 No Change ▼ 0.00 (0%)
CNERGY 8.14 Decreased By ▼ -0.10 (-1.21%)
DFML 19.00 Decreased By ▼ -0.54 (-2.76%)
DGKC 193.40 Decreased By ▼ -2.51 (-1.28%)
FABL 88.79 Decreased By ▼ -0.02 (-0.02%)
FCCL 52.18 Decreased By ▼ -0.73 (-1.38%)
FFL 17.75 Decreased By ▼ -0.05 (-0.28%)
GGL 20.50 Decreased By ▼ -0.20 (-0.97%)
HBL 281.55 Decreased By ▼ -3.26 (-1.14%)
HUBC 213.78 Decreased By ▼ -1.17 (-0.54%)
HUMNL 11.20 Decreased By ▼ -0.04 (-0.36%)
KEL 7.88 Decreased By ▼ -0.09 (-1.13%)
LOTCHEM 28.79 Decreased By ▼ -0.40 (-1.37%)
MLCF 85.75 Decreased By ▼ -0.26 (-0.3%)
OGDC 317.25 Decreased By ▼ -2.38 (-0.74%)
PAEL 40.30 Increased By ▲ 0.09 (0.22%)
PIBTL 17.05 Decreased By ▼ -0.27 (-1.56%)
PIOC 269.99 Increased By ▲ 1.28 (0.48%)
PPL 224.70 Decreased By ▼ -0.60 (-0.27%)
PRL 34.60 Increased By ▲ 0.22 (0.64%)
SNGP 100.00 Decreased By ▼ -0.96 (-0.95%)
SSGC 26.56 Decreased By ▼ -0.20 (-0.75%)
TELE 9.08 Increased By ▲ 0.12 (1.34%)
TPLP 11.40 Increased By ▲ 0.09 (0.8%)
TRG 71.14 Decreased By ▼ -0.53 (-0.74%)
UNITY 11.60 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
کاروبار اور معیشت

صابن سازی کی صنعت شدید دباؤ کا شکار، مینوفیکچررز کا فوری ریلیف کا مطالبہ

  • بھاری کسٹم ڈیوٹی، سیلز و انکم ٹیکس اور دیگر محصولات کےباعث متعدد کارخانے بند ہوچکے ہیں، طارق زکریا
شائع June 10, 2026 اپ ڈیٹ June 10, 2026 02:17pm

پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے حکومت سےمطالبہ کیا ہے کہ مقامی صنعتوں کو درپیش سنگین مسائل کےحل کے لئے فوری اقدامات کیے جائیں کیونکہ بھاری کسٹم ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس اور دیگر محصولات کےباعث صابن سازی کی صنعت شدید دبائو کا شکار ہے جب کہ متعدد کارخانے بند ہوچکے ہیں اور کئی دیگر بقاءکی جنگ لڑرہے ہیں۔

یہ مطالبات پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ایک اہم اجلاس میں سامنے آئے جو کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں نائب چیئرمین طارق زکریا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں آئندہ مالی سال 2026-27ء کے بجٹ کے لیے تجاویز سمیت صابن صنعت کو درپیش مختلف مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پاکستان سوپ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن 1968ء میں قائم ہونے والی ایک قدیم اور فعال تجارتی تنظیم ہے جس کے ارکان میں ملک کی بڑی ایف ایم سی جی کمپنیاں شامل ہیں۔ یہ صنعت ہزاروں افراد کو براہ راست روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قومی خزانے میں اربوں روپے ٹیکسوں اور ڈیوٹیوں کی مد میں جمع کراتی ہے۔

نائب چیئرمین طارق زکریا نے کہا کہ بجٹ تجاویز میں حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی ہے کہ آر بی ڈی پام اسٹیرین پر سوپ اور اولیو کیمیکل صنعتوں کے لیے الگ الگ ڈیوٹی اسٹرکچر نافذ ہے حالانکہ دونوں صنعتوں میں اس خام مال کا استعمال صابن کی تیاری کے لیے کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ دونوں صنعتوں کے لیے ڈیوٹی کی شرح یکساں کی جائے تاکہ صابن سازی کی صنعت مسابقتی ماحول میں اپنا وجود برقرار رکھ سکے۔

انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن کے متعدد ارکان نے صابن اور اولیو کیمیکل شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کرتے ہوئے عالمی معیار کے پیداواری یونٹس قائم کیے ہیں جنہوں نے درآمدات کا متبادل فراہم کرنے کے ساتھ برآمدات کے ذریعے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا ہےتاہم گیس کی مسلسل قلت اور خام مال کی دستیابی میں مشکلات کے باعث صنعتکار اپنی پیداواری صلاحیت کے مطابق کام نہیں کر پارہے۔

ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مقامی صنعتوں کی بحالی، روزگار کے تحفظ اور نئی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کم از کم دو سال تک بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلٹی سروسز کے نرخ منجمد کیے جائیں تاکہ صنعتی شعبہ دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

Comments

200 حروف