مالی شمولیت 69 فیصد تک بڑھ گئی، اسٹیٹ بینک
- ڈیجیٹل ادائیگیوں کا حصہ مجموعی لین دین میں بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گیا ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نیشنل فنانشل انکلوژن اسٹریٹجی 2024-2028 (این ایف آئی ایس28) کے تحت تمام نمایاں اہداف حاصل کر لیے ہیں اور اس عرصے کے لیے مقرر کیے گئے ہر سالانہ ہدف کو پورا کیا ہے، جبکہ مالی شمولیت کے اہم اشاریوں میں نمایاں بہتری بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی شمولیت کی شرح کیلنڈر سال 2025 کے اختتام تک بڑھ کر 69 فیصد تک پہنچ گئی، جو کیلنڈر سال 23 میں 64 فیصد تھی۔ اسی عرصے کے دوران صنفی فرق (جینڈر گیپ) بھی کم ہو کر 29 فیصد رہ گیا، جو پہلے 34 فیصد تھا۔
این ایف آئی ایس 28 کے تحت 2025 کی پہلی سالانہ پیش رفت رپورٹ، جو منگل کو جاری کی گئی، کے مطابق اس حکمتِ عملی پر عمل درآمد جنوری 2025 میں شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد پاکستان میں عوام کی سماجی اور معاشی بہتری کو فروغ دینا ہے۔ مجموعی 52 اقدامات میں سے 10 اقدامات دسمبر 2025 تک مکمل کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی اقدامات پر پیش رفت تسلی بخش اور ہدف کے مطابق جاری ہے۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ ترجیحی شعبوں میں قرضوں (پریارٹی سیکٹر لینڈنگ) میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی نجی شعبہ جاتی کریڈٹ میں ان شعبوں کا حصہ بڑھ رہا ہے۔
مزید یہ کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کا حصہ مجموعی لین دین میں بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو معیشت کے تیزی سے ڈیجیٹل ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق این ایف آئی ایس 28 کے نفاذ کے ایک سال کے دوران بینکاری نظام میں 6.8 ملین نئے منفرد اکاؤنٹس کا اضافہ ہوا، جن میں سے 55 فیصد سے زائد اکاؤنٹس خواتین کے نام پر کھولے گئے۔
مالی شمولیت کے فروغ میں اہم پیش رفت کے طور پر پاکستان ان ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے جو ضلع سطح پر مالی شمولیت سے متعلق تفصیلی ڈیٹا اکٹھا کر کے ڈیش بورڈ کی صورت میں پیش کرتے ہیں، جس میں ڈپازٹس، رسائی کے مراکز اور قرضوں جیسے اشاریے شامل ہیں۔ اس سے پالیسی سازی اور نگرانی کے عمل میں مزید بہتری آئی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments