اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کا 7 ہزار سے زائد ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ
- بینک نے فیصلے کی وجہ آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کو قرار دیا
ہانگ کانگ: اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے ترقی کے اہداف کے حصول اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال میں اضافے کے پیش نظر آئندہ چار سال کے دوران 7,000 سے زائد ملازمتوں میں کٹوتی کا منصوبہ بنایا ہے۔
لندن میں ہیڈکوارٹر رکھنے والا یہ بینک ان اولین بڑے عالمی بینکوں میں شامل ہے جس نے ہزاروں ملازمین کی برطرفی کا باقاعدہ منصوبہ پیش کیا ہے۔ بینک نے اس فیصلے کی وجہ اپنے آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کو قرار دیا ہے، جس کا مقصد منافع میں اضافہ اور مارکیٹ میں سخت مقابلے کا بہتر طور پر سامنا کرنا ہے۔
اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ 2030ء تک اپنے کارپوریٹ فنکشنز (انتظامی شعبوں) میں 15 فیصد عہدے ختم کرے گا جس کے نتیجے میں رائٹرز کے تخمینے کے مطابق ان شعبوں میں کام کرنے والے 52,000 سے زائد ملازمین میں سے 7,000 سے زیادہ افراد متاثر ہوں گے۔
بینک کے دنیا بھر میں مجموعی ملازمین کی تعداد تقریباً 82,000 ہے اور سی ای او بل ونٹرز نے صحافیوں کو بتایا کہ یہ کٹوتیاں آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو اپنانے کے باعث کی جائیں گی جبکہ کچھ ملازمین کو نئے ہنر سکھا کر (ری اسکلنگ کے ذریعے) دوبارہ تعینات بھی کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اخراجات میں کمی نہیں ہے بلکہ بعض معاملات میں کم اہمیت کی حامل انسانی افرادی قوت کو اس مالیاتی سرمایہ اور ٹیکنالوجی میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے تبدیل کرنا ہے۔


Comments