وارننگ لیبلز، مشکل فیصلے
- پاکستان کی پیکجڈ فوڈ انڈسٹری مجوزہ نیوٹریئنٹ پروفائل ماڈلز اور فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ کی مخالفت کر رہی ہے
پاکستان کی پیکجڈ فوڈ انڈسٹری مجوزہ نیوٹریئنٹ پروفائل ماڈلز اور فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز کے نفاذ کی مخالفت کر رہی ہے۔ ان کی تشویش عوامی صحت کے مقصد سے نہیں ہے، جو نہایت درست اور اہم ہے، بلکہ پالیسی کے ڈیزائن اور اس کے مرحلہ وار نفاذ سے متعلق ہے۔
بہت کم لوگ اس بات سے اختلاف کریں گے کہ صارفین کو واضح معلومات فراہم کی جائیں یا صحت مند غذائی انتخاب کو فروغ دیا جائے۔ پاکستان میں موٹاپے، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور خوراک سے متعلق دیگر بیماریوں میں اضافہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ فوڈ لیبلنگ صرف انڈسٹری کا نہیں بلکہ ایک عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔ ریاست کا یہ جائز کردار ہے کہ وہ صارفین کو زیادہ چینی، نمک یا چکنائی والی مصنوعات کی شناخت میں مدد دے۔ فرنٹ آف پیک لیبلز کا مقصد پیچیدہ نیوٹریشن معلومات کو آسان بنانا ہے، جنہیں اکثر صارفین نہ تو پڑھتے ہیں اور نہ ہی سمجھ پاتے ہیں۔ اگر یہ نظام درست طریقے سے ڈیزائن کیا جائے تو یہ صارفین کی آگاہی بڑھا سکتا ہے اور وقت کے ساتھ مینوفیکچررز کو اپنی مصنوعات بہتر بنانے پر مجبور کر سکتا ہے۔
تاہم، پالیسی کا معاملہ صرف پیکنگ پر وارننگ لیبل لگانے جتنا سادہ نہیں ہے۔ پاکستان کی فوڈ مارکیٹ صرف برانڈڈ پیکجڈ مصنوعات تک محدود نہیں ہے۔ یہاں بڑی مقدار میں کھلے، بغیر پیکنگ، جعلی، اسمگل شدہ اور غیر رسمی طور پر تیار کردہ اشیا بھی روزمرہ خوراک کا بڑا حصہ ہیں۔ اگر وارننگ لیبلز صرف رسمی پیکجڈ فوڈ پر لاگو کیے جائیں جبکہ باقی مارکیٹ مؤثر نفاذ سے باہر رہے، تو ممکنہ نتیجہ صحت مند خوراک کا حصول نہیں ہوگا بلکہ صارفین کا سستے اور کم ریگولیٹڈ متبادل کی طرف جانا ہوگا۔
یہ وہ جگہ ہے جہاں صنعت کی تشویش کو اہمیت دینا ضروری ہے۔ رسمی پیکجڈ فوڈ کمپنیاں پہلے ہی ایک بھاری ریگولیٹری نظام کے تحت کام کر رہی ہیں۔ انہیں وفاقی اور صوبائی فوڈ قوانین، لیبلنگ کے تقاضوں، معیار کے اصولوں اور برآمدی مارکیٹوں کے ضوابط کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، زیادہ ٹیکس، مہنگائی، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور کمزور صارف قوتِ خرید کے دباؤ کا بھی سامنا کر رہی ہیں۔ ایسا ضابطہ جو صرف قابلِ نگرانی کمپنیوں پر بوجھ بڑھائے مگر وسیع مارکیٹ میں نفاذ بہتر نہ کرے، دراصل ان کمپنیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے جنہیں آسانی سے مانیٹر کیا جا سکتا ہے، یعنی وہ کمپنیاں جو دستاویزی اور ٹیکس ادا کرنے والی ہیں۔
پاکستان فوڈ ایسوسی ایشن (پی اے ایف آئی) نے یہی خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس کے مطابق وہ عوامی صحت کے مقصد کی حمایت کرتی ہے لیکن مجوزہ فریم ورک کے ڈیزائن اور اس کے مرحلہ وار نفاذ پر اعتراض رکھتی ہے۔ یہ تنظیم ایک ایسے شعبے کی نمائندگی کرتی ہے جس کا سالانہ کاروبار 1,000 ارب روپے سے زائد ہے، جو 200 ارب روپے سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، 100,000 سے زائد ملازمتیں فراہم کرتا ہے، اور برآمدات کے ذریعے زرمبادلہ بھی کماتا ہے۔ اس کے ارکان میں بڑی ملکی اور بین الاقوامی فوڈ و بیوریج کمپنیاں شامل ہیں۔
لیکن غیر رسمی اور غیر منظم فوڈ مارکیٹ کی موجودگی کو رسمی شعبے پر ریگولیشن موخر کرنے کی وجہ نہیں بنایا جا سکتا۔ رسمی پیکجڈ فوڈ انڈسٹری واضح، قابلِ نگرانی اور تعمیل کے قابل ہے، اس لیے یہ پالیسی کے آغاز کے لیے ایک قدرتی نقطہ ہے۔ تاہم ریگولیٹر کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ ابتدائی مرحلہ ہی آخری مرحلہ نہ بن جائے۔ اگر نفاذ صرف دستاویزی کمپنیوں تک محدود رہا تو پالیسی پر عمل آسان ضرور ہوگا لیکن اس کا اثر کمزور ہو جائے گا۔
صارفین اس لیے کھانا نہیں چھوڑ دیتے کہ کسی پیکٹ پر لیبل لگا دیا جائے۔ زیادہ تر لوگ قیمت کے مطابق اپنی خریداری تبدیل کرتے ہیں۔ کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے غذائیت کے پیغامات کے مقابلے میں استطاعت زیادہ اہم ہوتی ہے۔ اگر لیبل شدہ مصنوعات مہنگی ہو جائیں، زیادہ ریگولیٹ ہو جائیں، یا وارننگ علامات کی وجہ سے کم پرکشش ہو جائیں تو طلب ان مصنوعات کی طرف جا سکتی ہے جن کے معیار، حفاظت اور اجزا کی نگرانی مشکل ہے۔ یہ عوامی صحت اور رسمی معیشت دونوں کے لیے ایک خراب نتیجہ ہوگا۔
بہتر طریقہ یہ ہوگا کہ شواہد پر مبنی، مرحلہ وار اور مشاورتی پالیسی اپنائی جائے۔ اس میں مصنوعات کی اقسام، سرونگ سائز، فارمولا میں تبدیلی کی صلاحیت اور مقامی غذائی عادات کے درمیان فرق کیا جانا چاہیے۔ کمپنیوں کو اتنا وقت دیا جانا چاہیے کہ وہ اپنی مصنوعات، پیکیجنگ، سپلائی چین اور خام مال کے نظام کو ایڈجسٹ کر سکیں۔ ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ نفاذ بتدریج پوری مارکیٹ تک پھیل جائے، بشمول غیر رسمی اور بغیر برانڈ والی اشیاء جو اس وقت مؤثر نگرانی سے باہر ہیں۔
بین الاقوامی تجربہ زیادہ واضح اور بہتر ماڈلز پیش کرتا ہے۔ سنگاپور کا رضاکارانہ ہیلدھیئر چوائس سمبل ، جو ہیلتھ پروموشن بورڈ کے تحت چلایا جاتا ہے، ہر فوڈ کیٹیگری کے اندر صحت مند مصنوعات کی نشاندہی کرتا ہے، بجائے اس کے کہ صرف غیر صحت مند مصنوعات کے خلاف وارننگ دی جائے۔ اس علامت والی مصنوعات کا مارکیٹ شیئر 2016 میں 18 فیصد سے بڑھ کر 2020 میں 28 فیصد ہو گیا۔ آج 100 سے زائد فوڈ کیٹیگریز میں 4,000 سے زیادہ مصنوعات اس نشان کو استعمال کر رہی ہیں، اور سنگاپور اس نظام کو کمپنیوں کی جانب سے مصنوعات کی بہتری کی حوصلہ افزائی کا سبب قرار دیتا ہے۔ یہ فریم ورک پاکستان کے لیے ایک اہم سبق فراہم کرتا ہے: انڈسٹری کے ساتھ مل کر کام کیا جائے، شواہد کی بنیاد پر پالیسی بنائی جائے، اور صرف پروڈیوسرز کو سزا دینے کے بجائے صارفین کے انتخاب کی رہنمائی کی جائے۔
پاکستانی مینوفیکچررز پہلے ہی کئی کیٹیگریز میں ریفارمولیشن کی طرف جا چکے ہیں، جہاں مختلف مصنوعات میں چینی، سوڈیم اور چکنائی کی مقدار میں کمی دیکھی گئی ہے۔ یہ رجحان جزوی طور پر عالمی پیرنٹ کمپنیوں کے وعدوں اور جزوی طور پر ملکی صارفین کی بدلتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک منظم ترغیبی فریم ورک اس عمل کو مزید تیز کر سکتا ہے، جبکہ محض سزا پر مبنی لیبلنگ نظام اس رفتار کو سست کر سکتا ہے۔
اس لیے بہتر بحث یہ نہیں کہ آیا عوامی صحت کو صنعتی خدشات پر فوقیت حاصل ہونی چاہیے یا نہیں — بلاشبہ ہونی چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایسا لیبلنگ نظام کیسے بنایا جائے جو قابل اعتماد، قابل عمل اور منصفانہ ہو۔ ریگولیٹرز کا حق ہے کہ وہ صارفین کو واضح معلومات اور صحت مند انتخاب کی طرف لے جائیں۔ صنعت کا بھی حق ہے کہ اس سے مشاورت کی جائے، اسے منتقلی کا وقت دیا جائے، اور مقامی شواہد کو مدنظر رکھا جائے۔ پاکستان کو ایسا فریم ورک درکار ہے جو دونوں باتوں کو ساتھ لے کر چلے: عوامی صحت کا تحفظ بھی کرے اور دستاویزی شعبے پر غیر متوازن تعمیل کے بوجھ سے بھی بچے۔
پاکستان کے لیے سبق اس سے بھی وسیع ہے۔ کسی بھی ریگولیشن کو چار عناصر کی بنیاد پر پرکھا جانا چاہیے: مقصد ، ڈیزائن ، قابلِ نفاذ ہونا اور معاشی اثرات ۔ فرنٹ آف پیک وارننگ لیبلز بظاہر ایک سادہ عوامی صحت کا ٹول لگتے ہیں، لیکن ایک کمزور معیشت میں جہاں رسمی شعبہ پہلے ہی بھاری تعمیلی بوجھ اٹھا رہا ہو اور غیر رسمی مارکیٹ بڑی ہو، وہاں ایک بظاہر سادہ اصول بھی پیچیدہ اور دور رس اخراجات پیدا کر سکتا ہے۔


Comments