پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ، پیداواری لاگت کئی گنا بڑھ جائیگی، تاجر برادری
- معاشی سرگرمیاں پہلے ہی سست روی کا شکار ہیں، تاجر رہنما
کاروباری برادری اور صنعتکاروں نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے کاروباری ترقی کے لیے تباہ کن اقدام قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے لاجسٹکس کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں کاروبار کرنے اور ملک میں زندگی گزارنے کی لاگت مزید بڑھ جائے گی۔
حکومت نے حال ہی میں ڈیزل اور پٹرول دونوں کی قیمت میں 26.77 روپے فی لیٹر اضافہ کیا ہے، جس کے بعد ڈیزل کی قیمت 380.19 روپے فی لیٹر اور پٹرول کی قیمت 393.35 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر اور بزنس مین پینل پروگریسو (بی ایم پی پی) کے چیئرمین ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مصنوعات کی لاگت بڑھائے گا اور پاکستانی برآمدات کو عالمی منڈی میں غیر مسابقتی بنا دے گا۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت کام کے اوقات بھی کم کر دیے ہیں، جس سے معاشی سرگرمیاں پہلے ہی سست روی کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز اور ڈیوٹیز کا بوجھ کم کر کے قیمتوں میں کمی کی جائے۔
پاکستان چائنا بزنس کونسل کے چیئرمین اور بی ایم پی پی سپریم کونسل کے رکن شبیر منشا چھرا نے کہا کہ حکومت کو قطر اور سعودی عرب کے ساتھ سفارتی اور اسٹریٹجک تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے کم قیمت خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنی چاہئیں تاکہ عوام کو ریلیف دیا جا سکے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششیں جاری رکھی جائیں تاکہ ممکنہ تنازع سے عالمی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو روکا جا سکے۔
سیریل ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین مزمل چیپل نے حکومت سے اپیل کی کہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (پی ڈی ایل) میں کمی کر کے ایندھن کی قیمتیں کم کی جائیں، کیونکہ موجودہ قیمتوں میں اس کا بڑا حصہ شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مہنگائی کا بڑا سبب ہیں، اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مقامی سطح پر پیٹرولیم قیمتوں میں کمی سے عوام کو نمایاں ریلیف ملے گا اور مجموعی معاشی دباؤ میں کمی آئے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments