BR100 Decreased By (-0.32%)
BR30 Decreased By (-0.49%)
KSE100 Decreased By (-0.16%)
KSE30 Decreased By (-0.27%)
BAFL 56.84 Increased By ▲ 0.11 (0.19%)
BIPL 27.00 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
BOP 33.74 Decreased By ▼ -0.01 (-0.03%)
CNERGY 10.05 Increased By ▲ 0.17 (1.72%)
DFML 17.87 Decreased By ▼ -0.13 (-0.72%)
DGKC 203.87 Decreased By ▼ -1.06 (-0.52%)
FABL 99.80 Decreased By ▼ -0.30 (-0.3%)
FCCL 52.99 Decreased By ▼ -0.10 (-0.19%)
FFL 16.58 Increased By ▲ 0.06 (0.36%)
GGL 25.26 Increased By ▲ 0.42 (1.69%)
HBL 299.76 Decreased By ▼ -0.06 (-0.02%)
HUBC 217.42 Increased By ▲ 0.34 (0.16%)
HUMNL 10.70 Increased By ▲ 0.09 (0.85%)
KEL 7.21 Decreased By ▼ -0.01 (-0.14%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.34 (1.16%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -1.16 (-1.26%)
OGDC 317.07 Increased By ▲ 0.78 (0.25%)
PAEL 41.71 Decreased By ▼ -0.33 (-0.78%)
PIBTL 16.51 Increased By ▲ 0.10 (0.61%)
PIOC 297.98 Decreased By ▼ -2.26 (-0.75%)
PPL 217.05 Increased By ▲ 0.21 (0.1%)
PRL 51.85 Increased By ▲ 0.99 (1.95%)
SNGP 100.99 Decreased By ▼ -0.73 (-0.72%)
SSGC 26.62 Decreased By ▼ -0.36 (-1.33%)
TELE 8.59 Decreased By ▼ -0.06 (-0.69%)
TPLP 13.38 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
TRG 59.58 Increased By ▲ 0.32 (0.54%)
UNITY 10.16 Decreased By ▼ -0.14 (-1.36%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

امریکہ ایران کشیدگی، پاکستان کی سفارتی کامیابی عالمی معیشت کے لیے ناگزیر، میاں زاہد حسین

  • اسلام آباد امن مذاکرات میں پاکستانی محنت رنگ لا رہی ہے، صدر بزنس مین اینڈ انٹیلیکچولزفورم
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان بزنس مین اینڈ انٹیلیکچولزفورم اورآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، ایف پی سی سی آئی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے سربراہ اورسابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے اسلام آباد امن مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے محتاط امید کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اورایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی کامیابی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے استحکام کے لیے بھی ناگزیرہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں سے 8 اپریل 2026 سے نافذ ہونے والی دو ہفتوں کی مشروط جنگ بندی نے عالمی معیشت کو وقتی سہارا فراہم کیا جو توانائی کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھا سے متاثر ہو رہی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ تنازع کے عروج کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش، جہاں سے دنیا کے تقریبا 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے، عالمی تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا باعث بنی، جس سے دنیا بھر کی طرح پاکستان کی صنعت اور کاروباری لاگت بھی بری طرح متاثر ہوئی۔

میاں زاہد حسین نے جنگ بندی اورمذاکرات کے انعقاد میں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ہونے والے اسلام آباد مذاکرات ایک اہم پیش رفت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ کئی دہائیوں بعد امریکہ اور ایران کے درمیان اعلی سطحی براہِ راست رابطہ تھا، جو 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سب سے نمایاں پیش رفت ہے۔ اگرچہ 21 گھنٹے طویل مذاکرات کسی حتمی معاہدے پر منتج نہ ہو سکے، تاہم دونوں فریقین کا پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات جاری رکھنے پراتفاق ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا 15 سے 17 اپریل تک تہران کا دورہ بھی اعتماد سازی اورسیکیورٹی خدشات کے ازالے میں نہایت اہم ثابت ہوا ہے۔

میاں زاہد حسین نے وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے حالیہ دورہ سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کو بھی سراہا اور کہا کہ ان دوروں سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے وسیع تر اتفاق رائے پیدا ہوا ہے، جبکہ امریکی صدر ٹرمپ اور عالمی برادری نے بھی کئی مرتبہ پاکستان کے مثبت کردارکوتسلیم کیا ہے جس سے پاکستان عالمی سطح پر ایک ہیرو کے طور پر ابھرا ہے اور وزیراعظم میاں شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا نام دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچانے کے حوالے سے، تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔

میاں زاہد حسین نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے امید ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی مدت تیزی سے ختم ہو رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ فریقین آبنائے ہرمز کی بحالی اور مستقل جنگ بندی کے لیے ٹھوس لائحہ عمل پر اتفاق کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کسی واضح پیش رفت کے بغیرختم ہوئے توعالمی سپلائی چین میں مشکلات اور مہنگائی میں دوبارہ اضافہ ہوسکتا ہے۔

میاں زاہد حسین نے کہا کہ حالیہ تنازع میں پاکستان کا بطور سفارتی سہولت کار ابھرنا نہ صرف اس کی عالمی حیثیت کومستحکم کرے گا بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے طویل مدتی سیاسی، معاشی اور دفاعی استحکام کے گراں قدر مواقع بھی پیدا کرے گا۔

Comments

200 حروف