پہلی سہ ماہی، ایچ بی ایل کا قبل از ٹیکس منافع 33.7 ارب روپے ریکارڈ
- فی حصص آمدنی 11.0 روپے رہی
ایچ بی ایل نے 31 مارچ 2026 کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے لیے 33.7 ارب روپے کا قبل از ٹیکس منافع اور 16.2 ارب روپے کا بعد از ٹیکس منافع ظاہر کیا ہے۔ سال 2026 کی پہلی سہ ماہی کے لیے فی حصص آمدنی 11.0 روپے رہی۔ نتائج کے ساتھ بینک نے اس سہ ماہی کے لیے 6.00 روپے فی حصص عبوری ڈیویڈنڈ کا بھی اعلان کیا ہے۔
ایچ بی ایل کی بیلنس شیٹ بڑھ کر 8.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی جس میں مقامی ڈپازٹس 4.6 ٹریلین روپے اور کل ڈپازٹس 5.4 ٹریلین روپے رہے۔ بینک کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ بدستور ترجیح رہا جس کے نتیجے میں مارچ 2026 میں مقامی کرنٹ اکاؤنٹ مکس بہتر ہو کر 38.6 فیصد ہو گیا۔ ایچ بی ایل کے کل ایڈوانسز (قرضہ جات) 2.0 ٹریلین روپے سے زائد رہے۔ بینک کے فلیگ شپ کنزیومر پورٹ فولیو نے اپنی شاندار ترقی کا سفر جاری رکھتے ہوئے 180 ارب روپے کی سطح کو چھو لیا جبکہ گروپ کی زرعی فنانسنگ بڑھ کر 100 ارب روپے سے تجاوز کرگئی۔
پالیسی ریٹ میں کمی کے باوجود ایچ بی ایل کے شرحِ سود کے مارجن کو اوسط مقامی بیلنس شیٹ میں 15 فیصد کے حجم میں اضافے اور اوسط کرنٹ اکاؤنٹس میں مسلسل نمو کے باعث ڈپازٹ لاگت میں کمی سے بھرپور سہارا ملا۔ بینک کے فیس فرنچائز نے آمدنی میں نمایاں حصہ ڈالا، جس میں فلیگ شپ کارڈز بزنس کل فیسوں کا تقریباً 50 فیصد رہا۔ اس کے علاوہ کیش مینجمنٹ اور ترسیلاتِ زر کی فیسوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان عوامل کے نتیجے میں سہ ماہی کے لیے ایچ بی ایل کی مجموعی آمدنی بڑھ کر 92 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
مؤثر انتظامی اخراجات اور نگرانی کی بدولت بینک کے انتظامی اخراجات میں اضافے کو 6 فیصد کی کم ترین سطح پر رکھا گیا۔ مسلسل منافع بخش رہنے کے باعث ایچ بی ایل کا ٹائر-ون کیپیٹل ایڈیکویسی ریشو 13.8 فیصد اور مجموعی اے اے آر 16.7 فیصد رہا جو کہ مقررہ ضروریات سے کافی زیادہ ہے۔
بینک کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے ایچ بی ایل کے صدر اور سی ای او محمد ناصر سلیم نے کہا کہ سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں ایچ بی ایل کی مضبوط کاروباری کارکردگی اسی رفتار سے جاری رہی جس پر 2025 کا اختتام ہوا تھا۔ بینک نے کم لاگت کی بنیاد پر آمدنی کے مشترکہ فوائد حاصل کیے۔ اس عمل نے پائیدار ترقی کو سہارا دیتے ہوئے ہمارے کاسٹ ٹو انکم کے گراف کو بہتر بنانے میں مدد دی۔


Comments