پلانٹس کی بندش اور بڑھتی طلب، پاکستان میں یوریا کی قلت کا خدشہ
- خریف 2026 کے دوران یوریا کی طلب اور رسد کی صورتحال نہایت حساس ہے
پاکستان کو آنے والے ربیع 2026-27 کے سیزن میں یوریا کی نمایاں قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو 5 لاکھ ٹن تک پہنچ سکتی ہے، اگر کھاد بنانے والے کارخانے جزوی یا مکمل طور پر بند رہے اور طلب میں اضافہ جاری رہا۔ یہ انتباہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے پیش کی گئی سرکاری پیش گوئیوں میں کیا گیا ہے۔
وزارت کے مطابق خریف 2026 کے دوران یوریا کی طلب اور رسد کی صورتحال نہایت حساس ہے اور اس کا انحصار بڑی کھاد فیکٹریوں کی آپریشنل حیثیت پر ہے، جن میں فاطمہ فرٹیلائزر، ایف ایف سی پورٹ قاسم اور ایگری ٹیک شامل ہیں۔
متعدد منظرناموں میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر اہم فیکٹریاں بند رہیں تو سپلائی میں شدید کمی واقع ہو سکتی ہے۔ بدترین صورتحال میں اگر فاطمہ فرٹیلائزر اور ایف ایف سی پورٹ قاسم پورے سیزن کے دوران بند رہیں اور ایگری ٹیک صرف جزوی طور پر کام کرے تو یوریا کی دستیابی طلب سے کم رہ جائے گی۔ بہتر حالات میں بھی سپلائی اور طلب میں توازن برقرار رہنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
خریف 2026 کے بعد ربیع 2026-27 کے لیے پیش گوئی میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اکتوبر سے تمام پلانٹس کی بحالی کا اندازہ شامل ہے، پھر بھی قلت کا خطرہ برقرار رہے گا۔
وزارت نے خبردار کیا ہے کہ بہتر زرعی معاشی حالات کے باعث خریف 2026 میں یوریا کی کھپت بڑھ سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی اور بین الاقوامی قیمتوں میں بڑے فرق کے باعث اسمگلنگ کا خطرہ بھی موجود ہے، جو مقامی دستیابی کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ربیع 2025-26 کے دوران ملک میں یوریا کی مجموعی دستیابی 4.38 ملین ٹن رہی، جبکہ کھپت 3.563 ملین ٹن ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد تقریباً 0.8 ملین ٹن کا اختتامی ذخیرہ باقی رہا۔
مختلف منظرناموں میں ربیع 2026-27 کے دوران بعض حالات میں ذخائر منفی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جو 4 لاکھ 50 ہزار ٹن تک کے خسارے کی نشاندہی کرتا ہے۔
وزارت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں یوریا کی درآمد کا کوئی امکان نہیں ہے۔ جبکہ ڈی اے پی کی صورتحال نسبتاً مستحکم ہے، تاہم عالمی قیمتوں اور زر مبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ سے اس پر اثر پڑ سکتا ہے۔
وزارت نے زور دیا ہے کہ کھاد کی بلا تعطل فراہمی، اسمگلنگ کی روک تھام اور قیمتوں کے استحکام کے لیے فوری اور مؤثر پالیسی اقدامات ضروری ہیں تاکہ آئندہ فصلوں کی پیداوار متاثر نہ ہو۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments