دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق، عالمی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی کی لہر
- ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 2 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا جبکہ یورپی فیوچرز 5 فیصد سے زائد اوپر گئے
مشرقِ وسطیٰ میں دو ہفتوں کے لیے ہونے والی جنگ بندی سے پیدا ہونے والی ریلیف ریلی (کمی کے رجحان) کے باعث بدھ کوعالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں جبکہ اسٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی اور ڈالر کی قدر میں بھی کمی آئی۔ اس مثبت رجحان کو ان امیدوں سے تقویت ملی کہ اب آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل دوبارہ بحال ہوسکے گی۔
یہ خبر کئی ہفتوں سے جاری مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) ہلچل کے اختتام کا سبب بنی جو فروری کے آخر میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔ ان حملوں نے کشیدگی کو انتہا پر پہنچا دیا تھا جس کے نتیجے میں تہران نے اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ (آبنائے ہرمز) کو عملی طور پر بند کر دیا تھا جہاں سے عام طور پر دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی پر اتفاق کرلیا، یہ فیصلہ تہران کو دی گئی اس ڈیڈ لائن سے دو گھنٹے قبل سامنے آیا جس میں اسے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے یا پھر اپنے سویلین انفرااسٹرکچرپر تباہ کن حملوں کا سامنا کرنے کی وارننگ دی گئی تھی۔ مارکیٹ کا ردعمل انتہائی تیز اور غیر معمولی رہا جس کے نتیجے میں امریکی خام تیل کے سودے تقریباً 15 فیصد کمی کے ساتھ 96.31 ڈالر فی بیرل پر آ گئے جبکہ برنٹ فیوچرز بھی 13 فیصد گر کر 95.36 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے۔
ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 2 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا جبکہ یورپی فیوچرز 5 فیصد سے زائد اوپر گئے۔
امریکی ڈالر کی قدر میں مجموعی طور پر کمی دیکھی گئی جو اس ہنگامہ خیزی کے دوران سرمایہ کاروں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا تھا۔
ایشیا میں جاپان کا نکئی انڈیکس تقریباً 5 فیصد بڑھ گیا جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی میں 6 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ سے ٹریڈنگ کو تھوڑی دیر کیلئے روکنا پڑا۔
اس کی وجہ سے جاپان سے باہر ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 4 فیصد تک بڑھ گیا۔ فوری ریلیف کے باوجود، سرمایہ کار کوئی بھی بڑا خطرہ مول لینے سے پہلے اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا یہ جنگ بندی کسی مستقل حل کی طرف لے جاتی ہے یا نہیں۔
ویسٹ پیک میں فنانشل مارکیٹس اسٹریٹجی کے سربراہ مارٹن وہیٹن کا کہنا تھا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اب نئے خطرات مول لیں گے؟ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ حالات بدلنے کے لیے درحقیقت ایک پائیدار امن کی ضرورت ہو گی۔ لوگ فی الحال رسک نہیں لے رہے ہیں۔
چھ ہفتوں پر محیط اس تنازع نے تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے، مہنگائی کے خدشات کو دوبارہ جنم دیا ہے اور شرحِ سود کے عالمی منظرنامے کو درہم برہم کر دیا ہے جس کی وجہ سے حکومتیں اور کمپنیاں توانائی کے اچانک جھٹکے سے بچنے کے لیے تگ و دو کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔
ٹرمپ کے سوشل میڈیا پر اس اعلان نے چند گھنٹے پہلے کی صورتحال کو اچانک یکسر بدل کر رکھ دیا، جب انہوں نے یہ غیر معمولی وارننگ جاری کی تھی کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو آج رات ایک پوری تہذیب فنا ہو جائے گی۔
سیکسو کی چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ چارو چنانا کا کہنا تھا کہ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا اگلے دو ہفتوں کے دوران مذاکرات میں پیش رفت جاری رہتی ہے یا نہیں اور یہ کہ کیا انشورنس کمپنیاں اور ٹینکر آپریٹرز اتنا اعتماد بحال کر پاتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے آمدورفت دوبارہ معمول پر آسکے۔
یہی چیز اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا یہ محض ایک عارضی ریلیف ریلی ہے یا پھر حالات مستقل طور پر بہتری کی جانب گامزن ہورہے ہیں۔
سونے کی قیمتیں 2 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 4,812 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئیں۔ آسٹریلوی ڈالر 1 فیصد اضافے کے ساتھ 0.7050 ڈالر پر آگیا جبکہ یورو کی قدر 0.68 فیصد اضافے سے 1.16735 ڈالر ہوگئی۔
اس کے نتیجے میں ڈالر انڈیکس 98.956 پر آگیا جو ایک ماہ کی کم ترین سطح کے قریب ہے۔
کچھ تجزیہ کار اب بھی اس حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں کہ یہ جنگ بندی کسی پائیدار امن میں تبدیل ہو سکے گی، انہوں نے مستقبل میں ممکنہ اتار چڑھاؤ اور نئے موڑ آنے سے متعلق خبردار کیا ہے۔
کامن ویلتھ بینک آف آسٹریلیا کی کرنسی اسٹریٹجسٹ کیرول کونگ کا کہنا تھا کہ تنازع کی بنیادی وجوہات اب بھی حل طلب ہیں جس کی وجہ سے دوبارہ کشیدگی بڑھنے کا خطرہ برقرار ہے۔
ہمارا اب بھی یہی نظریہ ہے کہ یہ جنگ جون تک چلے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈالر کی قدر میں کمی عارضی ثابت ہوسکتی ہے۔
اس اعلان کے بعد امریکی ٹریژری بانڈز کی قیمتوں میں اضافہ (رالی) دیکھا گیا اور ٹریڈرز نے فیڈرل ریزرو کی جانب سے رواں سال کے آخر میں شرحِ سود میں کٹوتی کے امکان کو دوبارہ زیرِ غور لانا شروع کر دیا ہے، تاہم تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آنے کے حوالے سے شکوک و شبہات نے اس جوش و خروش کو کسی حد تک قابو میں رکھا۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری نوٹ کی شرحِ منافع 9.5 بیسس پوائنٹس گر کر 4.247 فیصد پر آگئی، جو مارچ کے وسط کے بعد کم ترین سطح ہے۔
اسی طرح مانیٹری پالیسی کے حوالے سے حساس امریکی 2 سالہ ٹریژری نوٹس کی شرحِ منافع کم ہو کر 3.727 فیصد رہ گئی۔
سیکسو کی چارو چنانا کا کہنا تھا کہ زیادہ بڑی تشویش یہ ہے کہ کشیدگی میں کمی کے باوجود کچھ نقصانات کے اثرات برقرار رہ سکتے ہیں۔
شرحِ سود کی صورتحال اب شاید جنگ کی وجہ سے طویل عرصے تک بلند شرح سے بدل کر اس طرف آ سکتی ہے کہ کٹوتی اب بھی ممکن ہے لیکن اتنی آسانی یا تیزی سے نہیں جتنی پہلے توقع کی جارہی تھی۔


Comments