BR100 Decreased By (-0.07%)
BR30 Decreased By (-0.05%)
KSE100 Increased By (0.09%)
KSE30 Increased By (0.07%)
BAFL 56.92 Increased By ▲ 0.19 (0.33%)
BIPL 27.05 Increased By ▲ 0.07 (0.26%)
BOP 33.88 Increased By ▲ 0.13 (0.39%)
CNERGY 10.15 Increased By ▲ 0.27 (2.73%)
DFML 18.20 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
DGKC 204.40 Decreased By ▼ -0.53 (-0.26%)
FABL 99.75 Decreased By ▼ -0.35 (-0.35%)
FCCL 53.29 Increased By ▲ 0.20 (0.38%)
FFL 16.55 Increased By ▲ 0.03 (0.18%)
GGL 25.23 Increased By ▲ 0.39 (1.57%)
HBL 300.88 Increased By ▲ 1.06 (0.35%)
HUBC 218.34 Increased By ▲ 1.26 (0.58%)
HUMNL 10.72 Increased By ▲ 0.11 (1.04%)
KEL 7.22 No Change ▼ 0.00 (0%)
LOTCHEM 29.70 Increased By ▲ 0.39 (1.33%)
MLCF 91.50 Decreased By ▼ -0.66 (-0.72%)
OGDC 318.38 Increased By ▲ 2.09 (0.66%)
PAEL 42.00 Decreased By ▼ -0.04 (-0.1%)
PIBTL 16.57 Increased By ▲ 0.16 (0.98%)
PIOC 299.16 Decreased By ▼ -1.08 (-0.36%)
PPL 218.48 Increased By ▲ 1.64 (0.76%)
PRL 52.20 Increased By ▲ 1.34 (2.63%)
SNGP 101.58 Decreased By ▼ -0.14 (-0.14%)
SSGC 26.65 Decreased By ▼ -0.33 (-1.22%)
TELE 8.60 Decreased By ▼ -0.05 (-0.58%)
TPLP 13.41 Increased By ▲ 0.02 (0.15%)
TRG 59.26 No Change ▼ 0.00 (0%)
UNITY 10.23 Decreased By ▼ -0.07 (-0.68%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
مارکٹس

حکومت نے ای ایف ایس کے استعمال کی مدت دگنی کر کے 18 ماہ کر دی

  • استعمال کی مدت میں اضافے سے برآمد کنندگان کی لاگت میں کمی متوقع ہے
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکییم (ای ایف ایس) کے تحت برآمدی اشیاء کی تیاری کے لیے درآمدی خام مال کے استعمال کی مدت 9 ماہ سے بڑھا کر 18 ماہ کر دی۔

وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس پیش رفت کا اعلان کیا۔

انہوں نے بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ برآمد کنندگان اب درآمدی خام مال پر زیرو ڈیوٹی اور امپورٹ اسٹیج ٹیکسز کی سہولت حاصل کر سکیں گے، بشرطیکہ وہ اسے 18 ماہ کے اندر استعمال کریں (پہلے یہ مدت 9 ماہ تھی)۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ استعمال کی طویل مدت سے برآمد کنندگان بالخصوص چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی لاگت میں کمی آئے گی۔

وزیر مملکت نے مزید کہا کہ 18 ماہ کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی ایک کمیٹی انفرادی سطح پر مزید 6 ماہ کی توسیع پر غور کرے گی۔ اسکیم کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے ہر چھ ماہ بعد ایک مفاہمتی بیان بھی طلب کیا جائے گا۔

بلال اظہر کیانی نے اس سلسلے میں ایف بی آر، وزارتِ تجارت اور نجی شعبے کے شراکت داروں بشمول فواد انور، خرم مختار اور کامران ارشد کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ٹیکنیکل کمیٹی میں ان کے ساتھ کام کیا اور متفقہ طور پر ان پالیسی تبدیلیوں کی سفارش وزیر اعظم کو پیش کی۔ انہوں نے وزیر اعظم کی جانب سے ان سفارشات کی منظوری پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔

کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کرنے سے پہلے ای ایف ایس کے تاریخی اعداد و شمار اور علاقائی حریف ممالک میں اس مدت کے تقابلی جائزے کا مطالعہ کیا۔ اس پالیسی تبدیلی سے پہلے ای ایف ایس صارفین کے خام مال کے مجموعی طور پر 7,932 گڈز ڈیکلریشنز (جی ڈیز) ایسے تھے جن کی 9 ماہ کی مدت ختم ہو چکی تھی لیکن اب 18 ماہ کی نئی مدت کے بعد یہ تمام دوبارہ برآمدات کے لیے اہل ہو گئے ہیں۔

مزید برآں دو دیگر اصلاحات بھی کی گئی ہیں:

1- برآمد شدہ اور استعمال شدہ مال کی حد تک سیکیورٹی ڈپازٹ کی رقم خودکار طریقے سے بحال ہو جائے گی، جس سے برآمد کنندگان کا وقت بچے گا۔

2- ای ایف ایس صارفین کو ریگولیٹری کلکٹر کے احکامات کے خلاف چیف کلکٹر کے پاس اپیل کا حق دے دیا گیا ہے۔

Comments

200 حروف