ایران جنگ کے جلد اختتام کی امید سے ڈالر کی قدر میں کمی
- ایشیا میں ابتدائی تجارت کے دوران ڈالر 157.73 ین اور 1.1632 یورو پر مستحکم رہا
منگل کو عالمی مالیاتی منڈیوں میں ڈالر کی محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر مقبولیت میں کچھ کمی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کاروں کا خیال تھا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ محدود رہ سکتی ہے۔ اس رجحان نے بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کو کم کیا اور خطرے سے متعلقہ اثاثوں میں اضافہ کیا۔
ایشیا میں ابتدائی تجارت کے دوران ڈالر 157.73 ین اور 1.1632 یورو پر مستحکم رہا، تاہم یہ پیر کو ریکارڈ کی گئی بلند سطحوں سے پیچھے ہٹ گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ تقریباً مکمل ہوچکی ہے اور امریکا اپنی ابتدائی چار سے پانچ ہفتوں کی تخمینہ شدہ مدت سے بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان کو ایران کی انقلابی گارڈز نے فوراً فضول قرار دیا، لیکن سرمایہ کاروں نے اس پر زیادہ تشویش نہ دکھائی اور محتاط انداز اپنایا۔
ایشیا میں برینٹ خام تیل کی فیوچرز قیمت 92.46 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جو پیر کے قریب 120 ڈالر فی بیرل کے ریکارڈ سے کم ہے۔ خطرے سے حساس آسٹریلوی ڈالر 0.7068 پر مستحکم رہا، جبکہ اسٹرلنگ 1.3412 ڈالر اور نیوزی لینڈ ڈالر 0.5932 پرآ گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار محتاط ہیں کیونکہ جنگ کے اختتام کا اعلان آسانی سے نہیں کیا جا سکتا اور مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔ ڈالر اب بھی سرمایہ کاروں کی پناہ گاہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل تقریباً روک دی ہے، جس سے توانائی کی قیمتیں بلند ہو گئی ہیں۔
ڈیوش بینک کے تجزیہ کاروں کے مطابق خطرے سے متعلقہ اثاثوں میں بڑے اتار چڑھاؤ کے لیے ضروری ہے کہ تیل کی قیمتیں زیادہ رہیں، مرکزی بینکوں کی پالیسیوں میں تبدیلی آئے اور عالمی معیشت میں سست روی کے واضح آثار نظر آئیں۔ سرمایہ کار محتاط ہیں، لیکن ابھی مارکیٹ میں شدید مندی نہیں دیکھی جا رہی۔


Comments