سرحد پار جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی 73 چوکیاں تباہ، 274 کارندے ہلاک، ڈی جی آئی ایس پی آر
- لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سرحد پر افغانستان کی بلا اشتعال فائرنگ کے خلاف پاکستان کے جوابی اقدام کی تفصیلات فراہم کر دیں
پاکستانی فوج نے بتایا کہ گزشتہ رات سے جاری جوابی حملوں میں افغان طالبان کی 73 سے زائد چوکیوں اور 115 ٹینکوں کو تباہ کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں طالبان حکومت کے 274 کارندے اور دہشت گرد ہلاک جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغان طالبان کی افواج نے پاک افغان سرحد کے ساتھ 27 مقامات پر 15 سیکٹرز میں بلا اشتعال سرحد پار فائرنگ شروع کی تھی۔انہوں نے بتایا کہ پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے ان حملوں کو موثر طریقے سے پسپا کیا اور جواب میں نپے تلے جوابی حملے کیے۔
فوجی ترجمان کے مطابق ان جھڑپوں کے دوران پاکستان کے 12 سپاہی شہید اور 27 زخمی ہوئے جبکہ ایک لاپتہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستانی فضائی حملوں نے افغانستان بھر میں 22 مقامات پر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں کابل، قندہار، پکتیا، ننگرہار، خوست اور پکتیکا کے صوبے شامل ہیں۔
ترجمان کے مطابق ان فضائی حملوں میں افغان طالبان کی افواج کے مرکزی ہیڈ کوارٹرز، بریگیڈ اور بٹالین ہیڈ کوارٹرز، سیکٹر ہیڈ کوارٹرز، اسلحہ کے ڈپو اور لاجسٹک بیسز (امدادی مراکز) کو نشانہ بنایا گیا۔
احمد شریف چوہدری نے کہا کہ ان تمام اہداف کا انتخاب انٹیلی جنس کی بنیاد پر انتہائی احتیاط سے کیا گیا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوششیں کی گئیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ افغان طالبان حکومت نے سبی، ایبٹ آباد اور نوشہرہ میں حملے کرنے کے لیے ابتدائی نوعیت کے (سادہ) ڈرونز استعمال کرنے کی کوشش کی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے خاص طور پر افغانستان کے اندر سے کام کرنے والی کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔انہوں نے افغان طالبان حکومت پر پاکستان کے اندر حملوں میں ملوث دہشت گردوں کو جگہ فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
میڈیا بریفنگ کے دوران پاک فوج کی جانب سے افغانستان کے اندر اور سرحد کے ساتھ دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں پر کیے گئے حملوں کی ویڈیوز بھی دکھائی گئیں۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سرحد پار فائرنگ کو دانستہ اشتعال انگیزی قرار دیا اور خبردار کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے پوری طاقت کے ساتھ جواب دینا جاری رکھے گا۔پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث حالیہ دنوں میں اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا ہے۔

Comments