این ایچ اے 43 ارب روپے کے سرپلس کے ساتھ کام کر رہا ہے، حکومت نے خسارے والے ادارے کا لیبل مسترد کردیا
- نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو 294.9 ارب روپے کا سب سے زیادہ خسارہ ہوا، سالانہ رپورٹ
حکومت نے ان دعووں کو مسترد کر دیا، جن میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو خسارے میں چلنے والا سرکاری ادارہ قرار دیا گیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا کہ اتھارٹی کو حقیقت میں کوئی مالی نقصان نہیں ہو رہا۔
جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ این ایچ اے کو خسارے میں چلنے والا سرکاری ادارہ (ایس او ای) قرار دینے کی حالیہ رپورٹیں دراصل اکاؤنٹنگ کے اندراجات اور حقیقی آپریشنل صورتحال کے درمیان بنیادی غلط فہمی پر مبنی ہیں۔
بیان کے مطابق اگرچہ نیوز آؤٹ لیٹس ایک بڑے خسارے کا ذکر کر رہے ہیں لیکن آڈٹ شدہ مالیاتی گوشواروں کا گہرا جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ این ایچ اے کو کوئی اصل مالی نقصان نہیں ہو رہا۔
مالی سال 2025 کے لیے این ایچ اے نے 43.612 ارب روپے کی مضبوط نیٹ آپریٹنگ آمدن رپورٹ کی ہے، جو کہ 122.021 ارب روپے کی مجموعی آمدن اور 78.409 ارب روپے کے آپریٹنگ اخراجات کا فرق ہے۔
یہ وضاحت وفاقی سرکاری اداروں کی مالی سال 2025 (جولائی 2024 سے جون 2025) کی سالانہ رپورٹ کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں دکھایا گیا تھا کہ این ایچ اے کو 294.9 ارب روپے کا سب سے زیادہ خسارہ ہوا۔
حکومت کا نقطہ نظر یہ ہے کہ رپورٹ کیا گیا 288.541 ارب روپے کا اکاؤنٹنگ خسارہ تقریباً مکمل طور پر نان کیش اندراجات کی وجہ سے ہے جس میں خاص طور پر 133.771 ارب روپے کی فرسودگی اور 193.488 ارب روپے کے مالیاتی اخراجات شامل ہیں، جن میں براہ راست نقدی کا اخراج شامل نہیں ہوتا۔
حکومت نے موقف برقرار رکھا کہ این ایچ اے اب ایک مالی طور پر خود مختار ادارہ بن چکا ہےجو اب قومی مالیاتی وسائل پر بوجھ نہیں رہا۔ مزید کہا گیا کہ کئی دیگر تنظیموں کے برعکس این ایچ اے اپنے انتظامی اخراجات کے لیے کوئی بجٹ مختص نہیں کرواتا اور یہ تمام اخراجات اپنے وسائل سے پورے کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ مالیاتی خود مختاری اس کی افرادی قوت تک بھی پھیلی ہوئی ہے ،این ایچ اے ملازمین کی ریٹائرمنٹ کے بعد کے فوائد کے لیے وفاقی حکومت پر انحصار نہیں کرتا۔ اس کے بجائے اس نے اپنے آزاد پنشن اور ریٹائرمنٹ فنڈز قائم کیے ہیں، جن کی نگرانی ایک بورڈ آف ٹرسٹیز کرتا ہے اور مروجہ معیارات کے مطابق ان کا آڈٹ کیا جاتا ہے۔
مزید برآں اگرچہ این ایچ اے نیٹ ورک کا 50 فیصد حصہ پبلک سروس آبلیگیشن (عوامی خدمت کی ذمہ داری) کے طور پر کام کرتا ہے جہاں سے کوئی آمدن نہیں ہوتی، اس کے باوجود این ایچ اے اپنی پیدا کردہ آمدنی کے ذریعے پورے نیٹ ورک کی دیکھ بھال کے اخراجات کامیابی سے پورے کر رہا ہے۔
ایشین ڈویلپمنٹ بینک (اے ڈی بی) کے تعاون سے جاری ایس او ای ٹرانسفارمیشن پروگرام کے ذریعے این ایچ اے اس وقت اپنے قرضوں کو تجارتی افادیت کی بنیاد پر درجہ بندی کر کے بہتر بنا رہا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ اقدامات اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ این ایچ اے کے آپریشنز کیش پازیٹو (نقدی کے لحاظ سے مستحکم) ہیں اور یہ اس کی مالی لچک کا منہ بولتا ثبوت ہے۔


Comments