برمودا کی عدالت نے ضیاء چشتی کے حصص کورٹ ریسیور کو منتقل کرنے کا حکم دے دیا، ٹی آر جی انٹرنیشنل کا دعویٰ
- 90 لاکھ ڈالر کے ثالثی فیصلے پر عملدرآمد کی کوششیں تیز ہو گئیں
برمودا کی سپریم کورٹ نے ٹی آر جی انٹرنیشنل (ٹی آر جی آئی) کے سابق چیئرمین ضیاء چشتی کو بڑا جھٹکا دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ کمپنی میں ان کے تمام حصص (شیئرز) فوری طور پر عدالتی ریسیور کے حوالے کیے جائیں۔ ان شیئرز کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم 90 لاکھ ڈالر سے زائد کے اس واجب الادا ثالثی فیصلے کی ادائیگی کے لیے استعمال کی جائے گی جو ضیاء چشتی کے خلاف دیا گیا تھا۔
عدالتی حکم کے مطابق ضیاء چشتی اپریل 2025 میں جاری ہونے والے اس فیصلے پر عملدرآمد میں ناکام رہے، جس میں ان پر معاہدے کی خلاف ورزی کا جرم ثابت ہوا تھا۔ انہوں نے جے ایس بینک سے قرض لینے کے لیے ٹی آر جی پاکستان کے شیئرز بطور ضمانت رکھے تھے، جس کا مقصد اپنی اہلیہ کے ذریعے مزید شیئرز خریدنا تھا۔ مارکیٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹی آر جی انٹرنیشنل سے ضیاء چشتی کی بے دخلی کے بعد ان کے لیے ٹی آر جی گروپ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی تمام راہیں تقریباً بند ہو گئی ہیں۔
ضیاء چشتی نے نومبر 2021 میں جنسی ہراسانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد استعفیٰ دیا تھا، تاہم وہ مسلسل واپسی کی کوششیں کر رہے ہیں۔ ٹی آر جی انتظامیہ کا موقف ہے کہ ان کی واپسی سے کمپنی کی عالمی ساکھ اور اثاثوں کی قدر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔
ضیاء چشتی اس وقت شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں، جن میں 90 لاکھ ڈالر کا ثالثی ایوارڈ، جے ایس بینک کا ڈھائی ارب روپے کا ڈیفالٹ قرضہ اور امریکہ میں ایک کروڑ ڈالر سے زائد کے واجب الادا ٹیکس شامل ہیں۔ برمودا کے علاوہ امریکہ اور پاکستان (سندھ ہائی کورٹ) میں بھی ان کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری ہیں۔
واضح رہے کہ ٹی آر جی گروپ پاکستان میں 10 ہزار افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے اور سالانہ تقریباً 10 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ پیدا کرتا ہے، اس لیے ماہرین قانونی غیر یقینی کو کمپنی کی ویلیو ایشن کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔


Comments