پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کا بنیادی مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کتنا سرمایہ آ رہا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ سرمایہ کاروں کا دائرہ کتنا محدود ہے اور سرمایہ کتنی آسانی سے ملک سے باہر چلا جاتا ہے، جس سے حاصل ہونے والے فوائد زائل ہو جاتے ہیں۔ دسمبر 2025 کے اعداد و شمار اور مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کی مجموعی صورتحال ایک مانوس مگر تشویشناک نمونے کی توثیق کرتی ہے: سرمایہ کاری کی آمد تو جاری ہے، لیکن اسے برقرار رکھنے کی صلاحیت کمزور ہے، جس کی وجہ سے خالص ایف ڈی آئی غیر مستحکم اور نازک صورتحال کا شکار ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عبوری اعدادوشمار کے مطابق دسمبر 2025 میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی مجموعی آمد 322.5 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی تاہم 457.3 ملین ڈالر کے اخراج کے باعث خالص بنیاد پر 134.7 ملین ڈالر کا سرمایہ ملک سے باہر چلا گیا۔ یہ مالی سال 26 کے کمزور ترین ماہانہ خالص اعداد میں سے ایک ہے اور پاکستان کے ایف ڈی آئی پروفائل کی ایک بار بار سامنے آنے والی خصوصیت کو اجاگر کرتا ہے، یعنی سرمایہ کاری کی مثبت آمد جو منافع کی وطن واپسی، قرضوں کی ادائیگی اور ایکویٹی کے انخلا کے باعث تیزی سے بے اثر ہوجاتی ہے۔

دسمبر میں (سرمایہ کاری میں کمی کی) ایک بڑی وجہ ناروے رہا، جس کی جانب سے 376.3 ملین ڈالر کا خالص اخراج ریکارڈ کیا گیا، جس نے چین (114.1 ملین ڈالر خالص) اور ہانگ کانگ (20.5 ملین ڈالر خالص) جیسے بڑے شراکت داروں کے مثبت تعاون کو بھی ماند کردیا۔ یہ واقعہ پاکستان کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی ساختی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے: جب سرمایہ کاری چند ہی ذرائع تک محدود ہو تو کسی ایک بڑے منافع کی واپسی پورے ماہانہ توازن کو مثبت سے منفی میں بدل سکتی ہے۔
مجموعی صورتحال نسبتاً مستحکم تو ہے مگر اب بھی غیر متاثر کن ہے۔ پاکستان نے 1.81 ارب ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اپنی طرف متوجہ کی جب کہ سرمائے کا اخراج 1.01 ارب ڈالر رہا جس کے نتیجے میں خالص ایف ڈی آئی 808.1 ملین ڈالر رہی، اگرچہ یہ رقم اہم ہے لیکن پاکستان کی مالی ضروریات اور ترقیاتی اہداف کے مقابلے میں خالص آمد کی یہ سطح معمولی ہے۔ ایک بار پھر چین کا غلبہ رہا جس نے 583.4 ملین ڈالر کی آمد اور 422.9 ملین ڈالر کی خالص ایف ڈی آئی میں حصہ ڈالا، جو زیادہ تر بجلی، بنیادی ڈھانچے اور متعلقہ شعبوں سے منسلک تھا، یہ صورتحال ’توجہ کے ارتکاز‘ کے مستقل خطرے کو نمایاں کرتی ہے۔

مالی سال 2025 اور 2026 کے ماہانہ اعداد و شمار خالص ایف ڈی آئی میں شدید اتار چڑھاؤ ظاہر کرتے ہیں جس کی وجہ نئے منصوبوں کے اعلانات سے زیادہ سرمائے کے اخراج کا وقت ہے۔ یہاں تک کہ ان مہینوں میں بھی جہاں سرمایہ کاری کی آمد خاصی بہتر ہوتی ہے، خالص ایف ڈی آئی اکثر مایوس کن رہتی ہے کیونکہ منافع کی واپسی کے واقعات بڑے، یکمشت اور چند ہی شعبوں تک محدود ہوتے ہیں۔

یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کا چیلنج صرف بڑے سرمائے کو راغب کرنا ہی نہیں بلکہ اسے برقرار رکھنا بھی ہے۔ صرف مراعات اس مسئلے کو حل نہیں کرسکتیں۔ سرمایہ کاروں کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ پیش گوئی اور اعتماد ہے: مستحکم غیر ملکی زرمبادلہ اور منافع کی واپسی کے واضح قوانین، منظوریوں کے پیچیدہ عمل میں کمی اور پالیسیوں کا مستقل نفاذ۔ اس کے بغیر، سرمایہ ملک میں آ تو سکتا ہے لیکن وہ یہاں ٹھہرے گا نہیں، نہ ہی دوبارہ سرمایہ کاری کرے گا اور نہ ہی اپنے ساتھ دیگر سرمایہ کاروں کو لائے گا۔


Comments