نوجوان نسلِ اور قومی بیانیے کی تشکیلِ نو
- نسل نو کے بدلتے ہوئے شعور کو سمجھنا ریاست کے لیے خطرہ نہیں بلکہ قومی اصلاح اور استحکام کا موقع ہے
پاکستان میں جنریشن زیڈ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی بحث محض ایک عارضی رجحان یا نوجوانوں کا شکوہ نہیں ہے، بلکہ یہ ریاست، اداروں اور قومی بیانیے کے ساتھ نوجوان شہریوں کے تعلق میں آنے والی ایک گہری تبدیلی کی عکاس ہے۔ ہم آج جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ محض بغاوت برائے بغاوت نہیں بلکہ ایک طویل اور مسلسل عمل کا نتیجہ ہے جسے تاریخ، طرزِ حکمرانی اور معلومات تک بے مثال رسائی نے تشکیل دیا ہے۔
دہائیوں تک پاکستان میں عوامی رائے کو مخصوص اور مرکزی بیانیوں کے ذریعے کنٹرول کیا گیا۔ سیاسی جلسوں، اخبارات کی سرخیوں اور ریڈیو و ٹیلی ویژن کے ذریعے ایک خاص قومی ہم آہنگی پیدا کی گئی۔ایک عرصے تک یہ طریقہ کار موثر رہا کیونکہ یہ سادگی اور یقین کا احساس دلاتا تھا، مگر آج کی نوجوان نسل دنیا کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتی ہے۔ وہ دعوؤں کو نتائج کے ترازو میں تولتی ہے، مختلف ذرائع سے حقائق کا موازنہ کرتی ہے اور ساکھ کا معیار ’تکرار‘ کے بجائے ’شفافیت‘ کو قرار دیتی ہے۔ اب کسی بھی اتھارٹی پر محض وراثت میں ملنے والے بھروسے کے تحت اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان کی تاریخ اس تبدیلی کا پس منظر فراہم کرتی ہے۔ 1971 کا سانحہ ہو، جمہوری تسلسل میں بار بار کی مداخلت، آئینی انحراف یا طاقتور اور کمزور کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج،ان سب نے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ ماضی میں محدود شہری فضا کی وجہ سے سوال اٹھانا آسان نہیں تھا لیکن اب ڈیجیٹل رابطوں اور عالمی آگاہی نے معلومات پر کسی ایک ادارے کی اجارہ داری ختم کر دی ہے۔
سب سے حساس پہلو اداروں اور ان کی آئینی حدود کا ہے۔ جب ادارے اپنے متعین کردہ دائرہ کار سے باہر قدم رکھتے ہیں اور احتساب کا عمل انتخابی نظر آتا ہے تو عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ معلومات کو کنٹرول کرنے یا جذباتی اپیلوں کے ذریعے وقتی طور پر تو ساکھ بچائی جا سکتی ہے لیکن پائیدار اعتماد شفافیت کے بغیر ممکن نہیں۔ آج کا نوجوان حب الوطنی، کارکردگی، علامت اور حقیقت کے درمیان فرق کرنا جانتا ہے۔
یہ صورتحال صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں دہائیوں پرانے بیانیے ٹوٹ رہے ہیں۔ حالیہ عالمی احتجاج اس بات کا ثبوت ہیں کہ اب عوام جوابدہی اور دیانت داری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ تاریخ ہمیں سبق دیتی ہے کہ دہشت گردی اور عدم استحکام جیسے مسائل صرف طاقت سے حل نہیں کیے جا سکتے۔ اگر طاقت ہی حل ہوتی تو بہت سے معاشرے کب کے مستحکم ہو چکے ہوتے۔ پائیداری عوامی اعتماد اور آئینی حکمرانی سے آتی ہے۔
ریاست کے لیے اصل چیلنج اس نسل کو دبانا نہیں بلکہ ان کے ساتھ بامعنی مکالمہ کرنا ہے۔ جن ممالک میں ریاست اور شہریوں کے درمیان خلیج بڑھی، وہاں عراق، لیبیا اور شام جیسے نتائج سامنے آئے۔ اس سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ آئین کی بالادستی، اداروں کے کردار کی وضاحت اور سیاسی عمل میں عوامی شرکت کا احترام کیا جائے۔ اختلافِ رائے کو سیکیورٹی تھریٹ قرار دے کر خاموش کرانے سے بیگانگی بڑھتی ہے، جبکہ مکالمہ جواز فراہم کرتا ہے۔
آخری بات یہ کہ قومیں صرف بیانیوں سے نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، انصاف اور عوامی ارادے کے احترام سے متحد رہتی ہیں۔ نئی نسل ریاست کو مسترد نہیں کر رہی بلکہ وہ ریاست سے اپنے وعدوں کو نبھانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس فرق کو سمجھنا ہی ممکنہ طور پر یہ طے کرے گا کہ نسلوں کی یہ تبدیلی عدم استحکام کا پیش خیمہ ثابت ہوگی یا قومی تجدیدِ نو کا ایک سنہری موقع بن کر ابھرے گی۔


Comments