BR100 Increased By (0.98%)
BR30 Increased By (1.31%)
KSE100 Increased By (0.55%)
KSE30 Increased By (0.59%)
BAFL 58.51 Increased By ▲ 0.07 (0.12%)
BIPL 25.52 Increased By ▲ 0.32 (1.27%)
BOP 34.42 Increased By ▲ 0.43 (1.27%)
CNERGY 8.21 Increased By ▲ 0.10 (1.23%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 195.75 Increased By ▲ 2.78 (1.44%)
FABL 89.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.04%)
FCCL 53.65 Increased By ▲ 0.82 (1.55%)
FFL 18.13 Increased By ▲ 0.18 (1%)
GGL 19.74 Increased By ▲ 0.77 (4.06%)
HBL 287.50 Increased By ▲ 2.00 (0.7%)
HUBC 215.50 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 10.98 Increased By ▲ 0.10 (0.92%)
KEL 8.09 Increased By ▲ 0.07 (0.87%)
LOTCHEM 27.61 Decreased By ▼ -0.28 (-1%)
MLCF 87.70 Increased By ▲ 1.19 (1.38%)
OGDC 324.15 Increased By ▲ 4.19 (1.31%)
PAEL 39.78 Increased By ▲ 0.36 (0.91%)
PIBTL 17.48 Increased By ▲ 0.81 (4.86%)
PIOC 270.88 Increased By ▲ 4.82 (1.81%)
PPL 230.05 Increased By ▲ 1.87 (0.82%)
PRL 34.95 Increased By ▲ 0.27 (0.78%)
SNGP 99.50 Increased By ▲ 0.32 (0.32%)
SSGC 27.16 Increased By ▲ 0.56 (2.11%)
TELE 8.65 Increased By ▲ 0.37 (4.47%)
TPLP 8.77 Increased By ▲ 0.55 (6.69%)
TRG 71.12 Increased By ▲ 1.41 (2.02%)
UNITY 11.70 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)
کاروبار اور معیشت

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا حکومت سے گنے کے بھاری ڈیویلپمنٹ سیس میں کمی کا مطالبہ

  • پی ایس ایم اے کا فنڈز کے غلط استعمال اور سیلز ٹیکس کے بھاری بوجھ پر احتجاج ، گنے کے ترقیاتی سیس میں کمی کی اپیل
شائع January 11, 2026 اپ ڈیٹ January 11, 2026 01:24pm

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے پنجاب حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گنے پر عائد ’شوگرکین ڈیویلپمنٹ سیس (ایس ڈی سی) میں فوری کمی کر کے اسے دیگر صوبوں کے برابر لایا جائے، کیونکہ موجودہ شرح سے چینی کی پیداواری لاگت میں اضافہ اور صنعت کے مالی نقصانات میں شدت آ رہی ہے۔

ترجمان پی ایس ایم اے کے مطابق یہ سیس ملوں اور کاشتکاروں سے برابر وصول کیا جاتا ہے جس کا مقصد ملوں تک پہنچنے والے راستوں کی تعمیر، پلوں کی مرمت اور گنے کی تحقیق کو فروغ دینا ہے۔ تاہم کاشتکاروں کی جانب سے مسلسل شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ پنجاب میں یہ ٹیکس دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، مگر ضلعی حکومتیں ان فنڈز کو سڑکوں کی حالت بہتر بنانے پر خرچ نہیں کر رہیں، جس سے نقل و حمل میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ پاکستان میں چینی پر ٹیکس کا بوجھ عالمی سطح پر سب سے زیادہ ہے، پاکستان میں سیلز ٹیکس 18 فیصد ہے جبکہ بھارت میں محض 5 فیصد ہے۔ حالیہ برسوں میں مہنگے درآمدی کیمیکلز، بلند شرح سود اور کم از کم اجرت میں اضافے نے چینی بنانا مزید مہنگا کر دیا ہے۔ پی ایس ایم اے نے زور دیا کہ سندھ اور خیبر پختونخوا کی طرز پر پنجاب میں بھی اس لیوی کو کم کر کے کسانوں اور شوگر ملوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔

Comments

200 حروف