پاکستان اور مسلم ممالک کا غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار
- غزہ اور مغربی کنارے میں اقوامِ متحدہ و عالمی اداروں کو بلا رکاوٹ کام کرنے دینے کا اسرائیل سے مطالبہ
پاکستان اور سات دیگر مسلم ممالک نے غزہ کی پٹی میں صورتحال کی مسلسل ابتری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ شدید بارشوں، طوفانوں اور سرد موسم نے غزہ کے حالات کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی عدم فراہمی، جان بچانے والی ادویات کی قلت اور بنیادی سہولیات کی بحالی میں سست روی نے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
وزراء نے نشاندہی کی کہ تقریباً 19 لاکھ بے گھر افراد، جو غیر معیاری پناہ گاہوں میں مقیم ہیں، بیماریوں، غذائی قلت اور شدید سردی کی وجہ سے موت کے خطرے سے دوچار ہیں، خاص طور پر بچے، خواتین اور بزرگ طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔
مشترکہ بیان میں اقوامِ متحدہ کے اداروں بالخصوص یواین آر ڈبلیواے اور بین الاقوامی سماجی تنظیموں (این جی اوز ) کی خدمات کو سراہا گیا جو انتہائی کٹھن حالات میں فلسطینیوں کی مدد کر رہے ہیں۔
وزراء نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ اور مغربی کنارے میں اقوامِ متحدہ اور عالمی تنظیموں کو بغیر کسی رکاوٹ اور پابندی کے مستقل بنیادوں پر کام کرنے کی اجازت دے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان اداروں کے کام میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ناقابلِ قبول ہے۔
وزرائے خارجہ نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور صدر ٹرمپ کے جامع منصوبے کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ۔تاکہ مستقل جنگ بندی اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے فلسطینیوں کے لیے باوقار زندگی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کی راہ ہموار ہوگی۔
وزراء نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالے کہ وہ خیموں، طبی امداد، پینے کے صاف پانی اور ایندھن جیسی ضروری اشیاء کی ترسیل پر عائد پابندیاں فوری ختم کرے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ غزہ میں انسانی امداد کی بلا تعطل ترسیل، اسپتالوں کی بحالی اور رفح کراسنگ کو دونوں اطراف سے فوری طور پر کھولا جائے۔


Comments