سسٹمز لمیٹڈ نے ثاقب احمد کو گلوبل چیف گروتھ آفیسر مقرر کر دیا
- آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر میں 27 سالہ تجربہ رکھنے والے ثاقب احمد ایس اے پی میں بطور کنٹری مینجنگ ڈائریکٹر خدمات انجام دے رہے تھے
پاکستان کی بڑی سافٹ ویئر کمپنیوں میں سے ایک سسٹمز لمیٹڈ نے ثاقب احمد کو گلوبل چیف گروتھ آفیسر مقرر کر دیا ، جنہوں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔
جمعرات کو جاری کردہ کمپنی کے اعلامیے کے مطابق ثاقب احمد بین الاقوامی سطح پر کمپنی کی ترقی کو تیز کرنے، مارکیٹ میں موجودگی کو مضبوط بنانے اور مستحکم و ابھرتی ہوئی دونوں مارکیٹوں میں توسیعی حکمت عملی کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیلی کام اور آئی ٹی سیکٹرز میں 27 سال سے زیادہ کا قائدانہ تجربہ رکھنے والے ثاقب احمد انٹرپرائز سیلز، بزنس ڈویلپمنٹ اور بڑے پیمانے پر ترقیاتی حکمت عملیوں کا بہترین ریکارڈ رکھتے ہیں۔
ان کا کیریئر پاکستان، مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا میں سینئر عہدوں پر محیط ہے، جہاں انہوں نے بہترین ٹیموں کی قیادت کی اور کروڑوں ڈالرز کے ریونیو میں مسلسل اضافہ یقینی بنایا۔
اس عہدے سے قبل ثاقب احمد ایس اے پی میں پاکستان، افغانستان، عراق اور بحرین کے لیے بطور کنٹری مینجنگ ڈائریکٹر خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس سے قبل وہ متحدہ عرب امارات، اسپین اور جرمنی جیسی مارکیٹوں میں اوریکل، کومپٹیل، نوکیا سیمنز نیٹ ورکس اور سیمنزجیسے اداروں میں کلیدی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔
تعلیمی میدان میں بہترین کارکردگی پر صدارتی ایوارڈ ’اعزازِ سبقت‘ حاصل کرنے والے ثاقب احمد نے ’ٹائی اسلام آباد (ٹی آئی ای)،او آئی سی سی آئی (اوآئی سی سی آئی) اور پاکستان بزنس کونسل جیسے معروف کاروباری پلیٹ فارمز میں بھی اپنا حصہ ڈالا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ سسٹمز لمیٹڈ نے انضمام کے ذریعے کنفیز پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کو خریدنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ سسٹمز لمیٹڈ کی بنیاد 1977 میں ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے طور پر رکھی گئی تھی جسے 2005 میں پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کر دیا گیا اور 2015 میں یہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں رجسٹر ہوئی۔
کمپنی کی بنیادی سرگرمی سافٹ ویئر کی تیاری، تجارت اور بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ(بی پی او) خدمات فراہم کرنا ہے۔ مختصر یہ کہ ایس وائی ایس(ایس وائی ایس) اپنے کلائنٹس کو ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں مدد فراہم کرتی ہے۔ مقامی مارکیٹ کے علاوہ کمپنی امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین اور مشرق وسطیٰ میں بھی مضبوط اثر و رسوخ رکھتی ہے۔


Comments