سابق گورنر اسٹیٹ بینک شمشاد اختر انتقال کر گئیں
- مرحومہ کی نماز جنازہ اتوار کو بعد نماز عصر سلطان مسجد ڈی ایچ اے کراچی میں ادا کی جائے گی
سابق وزیرِ خزانہ اور گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر 70 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔
ذرائع نے ڈاکٹر شمشاد اختر کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا انتقال اچانک ہوا، وہ کسی سنگین بیماری میں مبتلا نہیں تھیں۔
کارپوریٹ پاکستان گروپ (سی پی جی) کے بانی اور سابق وفاقی وزیر محمد اظفر احسن نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں بتایا کہ انہیں ڈاکٹر شمشاد اختر کے انتقال کی اطلاع سابق گورنر اسٹیٹ بینک کی بہن کی جانب سے ملی جو بیرونِ ملک مقیم ہیں۔
انتہائی رنج و غم کے ساتھ یہ افسوسناک خبر شیئر کی جا رہی ہے کہ ڈاکٹر شمشاد اختر انتقال کرگئی ہیں۔
محمد اظفر احسن نے پوسٹ میں لکھا کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ، دوستوں اور ساتھیوں کو صبرِ جمیل دے۔ آمین۔
مرحومہ ڈاکٹر شمشاد اختر کی نماز جنازہ اتوار کو بعد نماز عصر سلطان مسجد ڈی ایچ اے کراچی میں ادا کی جائے۔
ڈاکٹر شمشاد اختر2006 سے 2009 تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی 14 ویں گورنر رہیں اور اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔
صدر آصف علی زرداری نے مرکزی بینک کی سابق گورنر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
صدر مملکت نے ڈاکٹر شمشاد کی معیشت اور مالیاتی انتظام کے شعبوں میں شاندار خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالی مرحومہ کی درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو اس صدمے کو صبر و تحمل کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے۔
وزارتِ خزانہ کے بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے بھی ڈاکٹر شمشاد کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
سینیٹر اورنگزیب نے ڈاکٹر شمشاد اختر کو پاکستان کی معاشی تاریخ کی ایک باوقار، اصول پسند اور صاحبِ بصیرت آواز قرار دیا۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ مرحومہ ایک عالمی معیار کی ماہرِ معاشیات اور ایک غیر معمولی انسان تھیں، جن کے لیے وہ بے پناہ ذاتی اور پیشہ ورانہ احترام رکھتے تھے۔
وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ ڈاکٹر شمشاد نے اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دینے کے دوران ملک کے لئے انتہائی دیانتداری اور لگن سے کام کیا، اور ان کی قومی خدمات ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھی جائیں گی۔
وفاقی وزیر نے مرحومہ کے لواحقین، دوستوں اور ساتھیوں کے لیے دلی ہمدردی اور تعزیت کا بھی اظہار کیا ہے۔
ڈاکٹر شمشاد اختر کا مختصر تعارف
ڈاکٹر شمشاد اختر ایک ممتاز سفارتکار اور معیشت دان تھیں، جنہوں نے اقوامِ متحدہ میں تحتِ سکریٹری جنرل کے عہدے اور اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (ای ایس سی اے پی) کی دسویں ایگزیکٹو سیکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں۔
انہوں نے اقوامِ متحدہ میں کئی اعلیٰ عہدوں پر کام کیا، جن میں سیکریٹری جنرل کے لیے اقتصادیات اور مالیات کی خصوصی سینئر مشیر اور اقتصادی ترقی کے لیے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل شامل ہیں۔ عالمی پالیسی میں ایک اہم شخصیت کے طور پر، انہوں نے 2015 کے بعد کے ترقیاتی ایجنڈے کے لیے اقوامِ متحدہ کے تمام متعلقہ اداروں اور شعبوں میں عالمی سطح پر کام کرنے والی ہم آہنگی کی قیادت کی اورجی 20 کے لیے اقوامِ متحدہ کی شیراپ کا کردار ادا کیا۔
بینکاری کے شعبے میں ان کی قیادت بھی قابلِ ذکر ہے۔ وہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پہلی خاتون گورنر رہ چکی ہیں، مرکزی بینک کے بورڈ کی صدارت کی اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ ان کی مدتِ ملازمت کے دوران انہیں لگاتار ”ایشیا کی بہترین مرکزی بینک گورنر“ کے اعزاز سے نوازا گیا، اوردی وال اسٹریٹ جرنل ایشیا نے انہیں خطے کی دس بہترین پیشہ ور خواتین میں شمار کیا۔
ڈاکٹر شمشاد اختر کا بین الاقوامی تجربہ وسیع اور متنوع تھا۔ انہوں نے ورلڈ بینک میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے نائب صدر کے طور پر خدمات انجام دیں، جہاں انہوں نے عرب بہار (عرب اسپرنگ) کے دوران ردعمل کی قیادت کی۔ وہ ایشیئن ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) میں بھی 15 سال خدمات انجام دیتی رہیں اور وہاں صدر کی خصوصی سینئر مشیر کے طور پر کام کیا۔
ایک ماہرِ تعلیم اور محقق بھی تھیں، وہ ہاروڈ یونیورسٹی میں فل برائٹ فیلو رہیں، اور انہوں نے برطانیہ سے ڈیولپمنٹ اکنامکس میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی حاصل کی، اس سے قبل انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے اکنامکس میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔
جون 2024 میں انہیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی چیئرپرسن مقرر کیا گیا۔
انہوں نے پاکستان کی معیشت پر مختلف موضوعات پر تجزیاتی کام کیا، جن میں پاکستان ریفارم انشورنس کمیٹی کی صدارت، کیپیٹل مارکیٹس اصلاحات اور اسپیشل اکنامک زونز شامل ہیں۔
علاوہ ازیں وہ بزنس ریکارڈر کے لیے رائے و تجزیے پر مبنی کالم بھی لکھا کرتی تھیں۔


Comments